حجِ بیت اللہ کے احکام و مسائل

حجِ بیت اللہ کے احکام و مسائل

ندیم احمد انصاری

(اسلامی اسکالر و صحافی)

اسلام کے جو پانچ ارکان ہیں، ان میں ایک اہم رکن’حج‘ ہے، شریعت کی اصطلاح میں مخصوص زمانے میں، مخصوص فعل سے، مخصوص مکان کی زیارت کرنے کو حج کہتے ہیں۔

فرضیتِ حج

قرآن کریم میں حج کی فرضیت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا گیا:

وَلِلّٰہِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللہَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ۔

لوگوں پر اللہ کا حق یعنی فرض ہے کہ جو اس گھر (کعبہ بیت اللہ) تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو اللہ بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے۔

حج کی فرضیت پر امت کا اجماع ہے۔ یہ زندگی میں ایک مرتبہ ہر اس مسلمان پر فرض کیا گیا ہے، جس میں اس کے شرائط پائے جاتے ہوں۔

حج کے فضائل

حج کے فضائل احادیث میں بڑی کثرت سے وارد ہوئے ہیں، یہاں صرف بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں:

حضرت ابو ہرہریرہؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: جو شخص رضاء الہٰی کے لئے حج کرتا ہے، اس طرح کہ اس میں کسی قسم کی فحش اور برائی کی بات نہ کرے اور کسی قسم کی معصیت اور گناہ میں مبتلا نہ ہو تو وہ حج کے بعد اپنے گھر، گناہوں سے اس طرح پاک ہوکر واپس لوٹے گا، جس طرح پیدائش کے وقت ماں کے پیٹ سے گناہوں سے پاک، دنیا میں آیا تھا۔

حج کی قسمیں

حج کی تین قسمیں ہیں؛

 (۱) افراد: فقط حج کا احرام باندھنا، اسے ’افراد‘ کہتے ہیں۔

(۲) قران: حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باھنا، اسے ’قران‘ کہتے ہیں۔

(۳) تمتّع: اوّل حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کرے، پھر گھر لوٹے بغیر اسی سال حج کا احرام باندھ کر حج کرے، اسے ’تمتّع‘ کہتے ہیں۔

 حج کی تینوں قسمیں جائز ہیں، مگر حنفیہ کے نزدیک سب سے افضل قران ہے، اس کے بعد تمتّع ، اس کے بعد افراد۔

حج میں تاخیر پر وعید

جس طرح حج کرنے پر فضائل کی کثرت ہے، اسی طرح اس عظیم ترین عمل سے کوتاہی برتنے پر سخت وعید بھی وارد ہوئی ہے، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

جو شخص باوجود استطاعت کےحج نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے، چاہے وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر۔

حج کس پر اور کب ؟

ہر اس شخص پر حج فرض ہوجاتا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا مال عطا فرمایا ہو جس سے وہ اپنے وطن سے مکّہ مکرمہ تک آنے جانے اور وہاں کے اخراجات پر قادر ہو اور واپس آنے تک اپنے اہل و عیال اور بیوی بچوں وغیرہ کے مصارف بھی بآسانی برداشت کرسکتا ہو اور راستے میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو، مثلاً: حکومت کی طرف سے سفر کی منظوری ویزا اور سواری اور ٹکٹ کی فراہمی اور دشمن وغیرہ کے خطرات سے مامون ہو وغیرہ۔ ان تمام سہولیات کے ساتھ عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ حج فرض ہوتا ہے۔

عورت اور حج؟

عورت پر حج فرض ہونے کے لیے ذاتی صَرفے کے علاوہ ساتھ میں جانے والے محرم کا سفرِ خرچ بھی میسر ہونا لازم ہے، ورنہ عورت پر حج فرض نہیں ہوگالیکن یہ حکم اس وقت ہوگا جب کہ اس عورت کا یہ سفر، شرعی سفر یعنی ۳؍ دن یا اس سے زیادہ مسافت کا ہو۔

عورت کے ساتھ اس کا شوہر سفرِ حج پر جائے گایا اس عورت کا کوئی محرم، لہٰذا! اگر محرم یا شوہر عورت کے ساتھ سفر کے لیے میسر نہ ہو، تو عورت پر حج فرض نہیں ہوگا۔ پس اگر مسافت، شرعی مسافت سے کم ہوتو اس عورت کو بغیر محرم کے یا بغیر شوہر کے بھی حج کے لیے جانا فرض ہے، البتہ! اگر کسی فساد وغیرہ کا اندیشہ ہو تو پھر اس شرعی مسافت سے کم میں بھی عورت کو بغیر شوہر یا محرم کے سفر کرنا مکروہ ہے اور ملا علی قاریؒ نے فرمایا ہے کہ اس زمانے کے لوگوں کے فساد کی وجہ سے اسی قول پر فتویٰ دیا جائے گا۔

حج کے فرض ہونے کی شرطیں

حج ہر اس مرد، عورت پر عمر میں ایک مرتبہ فرض عین ہے، جس کے اندر مندرجۂ ذیل شرائط مکمل طور پر پائی جاتے ہوں:

(۱)مسلمان ہونا۔

(۲) عاقل ہونا۔

 (۳) بالغ ہونا۔

(۴) آزاد ہونا۔

 (۵) حج کی استطاعت ہونا۔

(۶) حج کا وقت ہونا۔[۱]

حج کے ارکان

حج کے دو رکن ہیں:

(۱) طواف زیارت

(۲) وقوفِ عرفہ اور ان دونوں میں زیادہ اہم اور اقویٰ وقوفِ عرفہ ہے۔

حج کے فرائض

حج کے اصل فرض تین ہیں؛

(۱)احرام یعنی حج کی دل سے نیت کرنا اور تلبیہ:

لَبَّیْکَ اَللّٰھَمَّ لَبَّیْکَ، لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالْنِّعْمَۃَ وَالْمَلْکَ، لَاشَرِیْکَ لَک پڑھنا۔

(۲) وقوف عرفہ یعنی ۹؍ ذی الحجہ کی صبح صادق تک عرفات میں کسی وقت ٹھہرنا، اگرچہ ایک ساعت ہی ہو۔

(۳) طواف زیارت کرنا، جو دسویں ذی الحجہ کی صبح سے بارھویں ذی الحجہ کے درمیان، سرکے بال منڈوانے یا کتروانے کے بعد کیا جاتا ہے۔ ان تینوں فرضوں میں سے اگر کوئی چیز چھوٹ جائے تو حج صحیح نہیں ہوگااور اس کی تلافی دم یعنی قربانی وغیرہ سے بھی نہیں ہوسکتی۔ ان تینوں فرائض کا ترتیب وار ادا کرنا اور ہر فرض کو اس کے مخصوص مکان اور وقت میں ادا کرنا بھی واجب ہے۔ وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کا ترک کرنا بھی واجب ہے، بلکہ فرائض کے ساتھ ملحق ہے۔

حج کے واجبات

حج میں مندرجۂ ذیل امور واجب ہیں:

(۱) مزدلفہ میں وقوف کرنا، خواہ تھوڑی دیر ہو اور اس کا وقت ۱۰؍ ذی الحجہ کی صبح صادق اور طلوعِ شمس کے درمیان ہے۔ اس کو ترک کر دینے سے دم واجب ہوتا ہے۔

(۲) صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا، اس کے ترک کردینے سے بھی دم واجب ہوتا ہے۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک یہ سعی واجب اور حضرت امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک یہ رکن اور فرض میں داخل ہے۔

(۳) رمیٔ جمرات یعنی قربانی کے دنوں میں ۳؍ مرتبہ شیطان کو کنکریاں مارنا، کسی نے ایک دن کی رمی ترک کردی ہو یا تینوں دن کی، ایک ہی دم واجب ہوتا ہے۔

 (۴) قارن و متمتع کا قربانی کرنا، لہٰذا! اگر قربانی کے بغیر احرام کھول دیا تو دم لازم ہوگا ۔

(۵) حلق یعنی سر کے بال منڈانا (مَردوں کے لیے) یا تقصیر یعنی بال کتروانا، اگر کوئی حلق یا قصر کیے بغیر احرام کھول دے گا، تو دم لازم ہوگا۔

 (۶) طوافِ وداع یعنی آفاقی پر وطن روانہ ہوتے وقت طوافِ و داع کرنا واجب ہے، اس کے ترک سے دم واجب ہوگا۔

حج کے واجبات بلاواسطہ صرف یہ چھ ہیں اور واجبات کا حکم یہ ہے کہ اگر ان میں سے کچھ چھوٹ جائے تو حج ہو جائے گا، خواہ قصداً چھوڑا ہو یا بھول کر چھوٹ گیا ہولیکن اس کی جزا یعنی قربانی دینی ہوگی۔

حج کی سنتیں

حج میں مندرجۂ ذیل امور سنت ہیں؛

(۱) مفرد آفاقی اور قارن کو طوافِ قدوم کرنا۔

 (۲) طوافِ قدوم میں رمل کرنا یعنی طوافِ کے پہلے تین چکروں میں اکٹر کر تیز چلنا، اگر طوافِ قدوم میں رمل نہ کیا ہو تو پھر طوافِ زیارت یا طوافِ و داع میں رمل کرنا ۔

(۳) امام کو تین مقامات پر خطبے پڑھنا، ایک مکہّ معظمہ میں ذی الحجہ کی ساتویں تاریخ کو، دوسرا عرفات میں حج کے دن زوال کے بعد اور ظہر کی نماز سے پہلے مسجد نمرہ میں، تیسرا منیٰ میں گیارھویں تاریخ کو۔

(۴) مکّہ معظمہ سے ۸؍ ذی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد عرفات کی طرف جانا۔

(۵) منیٰ میں ۸؍ ذی الحجہ کی ظہر و عصر اور مغرب و عشاء اور نویں تاریخ کی فجر پڑھنا۔

(۶) نویں ذی الحجہ کو طلوعِ آفتاب کے بعد منیٰ سے عرفات جانا ۔

(۷) عرفات پر وقوف کے لیے غسل کونا۔

(۸) عرفات سے امام کے نکلنے کے بعد نکلنا۔

(۹) مزدلفہ میں عرفات سے واپس آتے ہوئے رات کو ٹھہرنا۔

(۱۰) مزدلفہ میں پوری رات رہنا۔

 (۱۱) سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کی طرف لوٹنا۔

(۱۲) منیٰ سے واپسی میں محصّب میں ٹھہرنا اگرچہ ایک ساعت ہو۔

(۱۳) حج کی رات میں منیٰ میں رہنا۔

(۱۴) گیارھویں، بارھویں اور تیرھوں ذی الحجہ کی راتیں، اس شخص کے لیے جو تیرھویں کو رمی کرنا چاہے، منیٰ میں رہنا سنت ہے۔

یہ سب سنتیں مؤکدہ ہیں اور ان کا چھوڑنا مکروہ اور نہایت برا ہے، بشر ط یہ کہ بالقصد چھوڑ دے، مگر اس پر دم یا صدقہ وغیرہ نہیں دینا پڑتا۔

حج کے مستحبات

حج کے مستحبات بہت سے ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں:

 (۱) مرد کو بلند آواز سے اور عورت کو آہستہ آواز سے تلبیہ کہنا۔

(۲) حج مفرد کرنے والے کو قربانی کرنا۔

 (۳) مکّہ معظمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا۔

(۴) مزدلفہ میں آنے کے لیے غسل کرنا، مکّی ہو یا غیر مکّی۔

(۵) عرفات میں جبلِ رحمت کے نزدیک رہنا ۔

(۶) عرفات پر امام کے ساتھ ظہر اور عصر کو اکٹھے پڑھنا۔

 (۷) تلبیہ کی کثرت کرنا۔

(۸) عرفات پر کثرت سے دعا کرنا۔

 (۹) مزدلفہ میں عید کے روز فجر کے وقت مشعرِ حرام میں وقوف کرنا۔

(۱۰) فجر کی نماز بھی مشعرِ حرام میں جاکر پڑھنا۔

(۱۱) مزدلفہ میں فجر کی نماز اندھیرے کے وقت میں پڑھنا ۔

(۱۲) منیٰ میں پہنچتے ہی دسویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے بعد جمرۂ عقبہ کی رمی کرنا۔

مستحب کا حکم یہ ہے کہ ان کے کرنے والے کو زیادہ اجر ملتا ہے، مگر سنتِ مؤکدہ سے کم ہے اور اس کے ترک کرنے سے فدیہ نہیں دینا پڑتا۔

میقات کا بیان

میقات اس مقام کوکہتے ہیں، جہاں سے آفاقی (غیر مکّی) کو بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں ہے، جو کہ حج کا قصد کرچکا ہو، احرام کے مقامات جہات کے اختلاف سے مختلف ہیں:

(۱) ذوالحلیفہ: بیر علی، مدینہ منوّرہ تبوک، اردن (جاڑدن) وغیرہ سے آنے والوں کے لیے۔

(۲) ذاتِ عرق: اہل عراق، ایران خراسان، ازبکستان، ترکمانستان، قزاقستان، چین، منگولیااور روس سے خشکی کے راستہ سے آنے والوں کے لیے۔

(۳) جحفہ: شام، مصر، الجزائر، سوڈان اور بر اعظم افریقہ، نیز ملکِ شام کے بعد ترکستان، بلغاریہ، روم، جرمنی، فرانس اور برا عظم یوروپ کی طرف سے آنے والوں کے لیے۔

 (۴) قرن المنازل: اہل نجد اور اس طرف سے آنے والوں کے لیے اور اب ہوائی سفر کے ذریعہ پہنچنے والے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، برما، سنگاپور، تھائی لینڈ، جاپان، ملیشیا، انڈونیشیا، برونئی، آسٹریلیا، مسقط، دبئی، عرب امارات وغیرہ سب کے لیے یہی قرن المنازل اور اس کے محاذات اور

(۵) یلملم: اہلِ یمن اور اس طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے اور ساحلی ممالک سے جو لوگ بحری جہاز سے جدّہ پہنچتے ہیں، وہ سب ادھر ہی سے گذرتے ہیں، لہٰذا بحری راستے کے لحاظ سے مسقط، پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، برما، سنگا پور، تھائی لینڈ، جاپان، ملیشیا، انڈونیشیا، برونئی، آسٹریلیا وغیرہ سب کے لیے جبلِ یلملم اور اس کے محاذ کے علاقے میقات ہیں۔ اسی طرح ہوائی سفر کے ذریعہ سے جو لوگ ادھر سے گذریں گے ان کے لیےیہی مقام اور اس کے محاذات کے علاقے میقات ہیں، اسی طرح تمام میقاتوں کے محاذ اور برابر کے علاقے بھی میقات کے حکم میں ہیں۔

جو شخص کسی میقات اور مکہ مکرمہ کے درمیان سکونت پذیر ہو، اسے ’اہل حِل‘ کہتے ہیں، ان کے لیےکل زمین حِل میقات ہے، انھیں حج و عمرے کا احرام حرم کے حدود میں داخل ہونے سے قبل باندھ لینا ضروری ہے اور اپنے گھر سے باندھنا افضل ہے۔ اہلِ مکہ کے لیےحج کا احرام باندھنے کے لیے کل زمین حرم میقات ہے اور عمرے کا احرام باندھنے کے لیے کُل زمین ِحل میقات ہے۔

(اس ویب سائٹ کو عام کرکے دینی کو فروغ دینے میں ہمارا ساتھ دیں)

  • 4
    Shares
  • 4
    Shares

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here