خواتین اور اعتکاف

خواتین اور اعتکاف
مسائل و ہدایات
ندیم احمد انصاری

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجۂ نبی سے روایت ہے، حضرت نبی کریمﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اٹھا لیا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں بھی اعتکاف کرتی تھیں۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّهُ عَنْهَا زَوْج النَّبِيِّ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ۔(بخاری، مسلم)

عورت مسجدِ بیت میں اعتکاف کرے

‏‏‏‏ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہر رمضان میں اعتکاف کرتے تھے، جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اس جگہ چلے جاتے جہاں پر آپ ﷺ کو اعتکاف کرنا ہوتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے اعتکاف کی اجازت چاہی تو آپ نے اجازت دے دی، انھوں نے وہاں پر ایک خیمہ نصب کردیا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ بات سنی تو انھوں نے بھی ایک خیمہ نصب کرلیا، حضرت زینت رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو انھوں نے بھی ایک خیمہ نصب کرلیا۔ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز سے فارغ ہوئے، تو آپ نے چار خیمے دیکھے اور فرمایا: یہ کیا ہے ؟ آپﷺ سے ان کی حالت بیان کی گئی، تو آپﷺنے فرمایا: ان کو اس پر نیکی نے آمادہ نہیں کیا، ان کو اکھاڑ پھینکو، اب میں ان کو نہ دیکھوں! چناں چہ وہ خیمے ہٹا دیے گئے اور آپ نے رمضان میں اعتکاف نہیں کیا، یہاں تک کہ شوال کے آخری عشرے میں آپﷺنے اعتکاف کیا۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ دَخَلَ مَكَانَهُ الَّذِي اعْتَكَفَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ أَنْ تَعْتَكِفَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذِنَ لَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَضَرَبَتْ فِيهِ قُبَّةً، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَتْ بِهَا حَفْصَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَضَرَبَتْ قُبَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعَتْ زَيْنَبُ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَضَرَبَتْ قُبَّةً أُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنَ الْغَدَاةِ، ‏‏‏‏‏‏أَبْصَرَ أَرْبَعَ قِبَابٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا هَذَا ؟ فَأُخْبِرَ خَبَرَهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا حَمَلَهُنَّ عَلَى هَذَا آلْبِرُّ، ‏‏‏‏‏‏انْزِعُوهَا فَلَا أَرَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنُزِعَتْ فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى اعْتَكَفَ فِي آخِرِ الْعَشْرِ مِنْ شَوَّالٍ۔ (بخاری، مسلم)

اور عورتوں کے مسجدمیں آنے کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
لو ادرک رسول اﷲ ﷺ ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل، اھ۔ عورتوں نے حضرت نبی کریم ﷺکے بعد جو کچھ کرنا شروع کردیا اس کو حضرت نبی کریم ﷺ اگر اپنی زندگی میں دیکھ لیتے، تو خود ہی ان کو مسجد میں آنے سے روک دیتے، جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روکا گیا۔(بخاری، مسلم)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس دور کی بات کررہی ہیں، جو خیر القرون کا زمانہ تھا، صحابہ کرام کی کافی تعداد موجود تھی، معاشرہ دورِ حاضر کی برائیوں سے پاک تھا۔ اس وقت کے حالات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نظر میں اس قابل تھے کہ عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا جائے، موجودہ دور تو اس دور سے بہت مختلف ہے۔ اب تو ہر طرف بدامنی، فحاشی اور عریانی پھیلی ہوئی ہے، آج کل تو بہ دررجۂ اولیٰ ان کو مسجد میں آنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، نیز اگرچہ کتابوں میں عورتوں کے مسجد میں اعتکاف کے بارے میں کراہتِ تنزیہی کا قول منقول ہے، لیکن علامہ طحطاوی علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے کہ اعتکاف کے مسئلے کو بھی نماز کے مسئلے پر قیاس کیا جائے،جس طرح عورتوں کا نماز کے لیے مسجد میں آنا مکروہِ تحریمی ہے، اسی طرح اعتکاف کے لیے بھی مسجد میں آنا مکروہ تحریمی ہے، تاکہ عورتوں کا مسجد میں اعتکاف کے مسئلے میں کوئی تردد باقی نہ رہے۔ نیز صحابۂ کرام کے آثار سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انھوں نے بھی عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع فرمایا ہے، اس لیے علماے کرام نے عورتوں کے مسجد میں آنے کے بارے میں خواہ نماز پڑھنے کے لیےہو یا اعتکاف وغیرہ کے لیے ہو، ناجائز ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔(نجم الفتاوی،بترمیم)

عورتوں کے لیے بھی اعتکاف مسنون ہے ، جس طرح مَردوں کے لیے مسنون ہے، البتہ اعتکاف کے سلسلے میں مسجد کا جو حق ہے ، وہ خواتین کے اعتکاف سے ادا نہیں ہوسکے گا ، اس لیے کہ وہ گھر میں اعتکاف کریں گی۔ عورتوں کے لیے مسجد گوشے کے میں بھی اعتکاف کرنا مکروہ ہے۔و یکرہ فی المسجد أی تنزیھا۔(الدرالمختار مع ر دالمحتار) خواتین کے حق میں بہتر یہ ہے کہ گھر میں نماز کے لیے جس جگہ کو مخصوص کر رکھا ہو، اسی میں اعتکاف کی نیت سے ٹھہر جائے، اگر مخصوص نہ کیا ہو تو اب کسی خاص حصے کومخصوص کر لے۔ لبث امراۃ فی مسجد بیتھا۔ (الدرالمختار علی ھامش رد المحتار )

شوہر سے اجازت اور اس کی ضرورت

نیز عورت کے اعتکاف کرنے سے چوں کہ شوہر کا حقِ استمتاع متاثر ہوتا ہے، اس لیے اسے شوہر سے اجازت لے کر ہی اعتکاف کرنا چاہیے، البتہ جب شوہر ایک بار اجازت دے چکا ہو تو اب درست نہیں کہ اعتکاف شروع ہونے کے بعد صحبت کرے ۔ولیس لزوجھا أن یطأھا إذا أذن لھا ۔۔۔ ولا ینبغی لھا الاعتکاف بلا إذنہ۔ نیز اگر اعتکاف کے درمیان ماہواری آگئی تو اعتکاف کی مخصوص جگہ سے باہر آجائے او رجوں ہی پاک ہو، غسل کر کے اعتکاف گاہ میں واپس چلی آجائے اور جتنے دنوں ناپاکی کی حالت میں گذرے ہوں،اتنے دن گن کر بعد میں روزے کے ساتھ قضا کر لے۔عورت نے گھر میں جو جگہ اعتکاف کے لیے مخصوص کی ہے، اس جگہ سے بلا عذر نکل جائے تو ٹھیک اسی طرح ان کا بھی اعتکاف فاسد ہوجائے گا ، جس طرح مَرد کا مسجد کی شرعی حدود سے بلا وجہ نکلنے سے۔ نیز نذر ماننے کی وجہ سے اعتکاف واجب ہوجاتا ہے ، اگر اعتکاف کی نذر کسی خاتون نے مانی ہو تو اس پر بھی اعتکاف واجب ہوگا ، اور اسی طرح گھر کے ایک حصہ میں اعتکاف کرنا ہوگا۔(مستفاد ا زکتاب الفتاویٰ)

کھانا وغیرہ پکانے یا کھانے کے لیے نکلنا

عورت کے اعتکاف کاطریقہ یہ ہے کہ گھرمیں جس جگہ نمازپڑھتی ہواس جگہ یاکسی اورجگہ کواعتکاف کے لیے مخصوص کرلے اورسوائے ضروری حاجات(پیشاب،پاخانہ،غسلِ جنابت)کے علاوہ اپنی جگہ سے باہرنہ نکلے، جب حاجت کے لیے نکلے توحاجت پوری کرنے کے بعدفوراًاپنی جگہ واپس آجائے۔دورانِ اعتکاف قرآن مجیدکی تلاوت،ذکروتسبیحات ونوافل وغیرہ جیسے مشاغل میں مصروف رہے، بلاضرورت بات چیت سے احتراز کرے۔ کھانا،پینا،سونااعتکاف کی جگہ ہی میں کرے۔ ضروری حاجات کے علاوہ نکلنے سے اعتکاف فاسد ہوجاتاہے۔اعتکاف کی حالت میں عورت اپنے گھروالوں کے لیے اپنے اعتکاف کی جگہ سے نکل کر سحری وغیرہ نہیں پکاسکتی،اور نہ ہی باہرنکل کرگھروالوں کے ساتھ سحری وافطاری کرسکتی ہے، البتہ گھر میں اگر اور کوئی نہ ہو جو کھانا پکاسکے تو ضرورت کی وجہ سے اپنے اعتکاف کی جگہ میں ہی کھانا پکاسکتی ہے۔ بات چیت ہروقت کی جاسکتی ہے، مگراعتکاف کی جگہ میں رہتے ہوئے، اور بلاضرورت تفصیلی بات چیت سے احترازکرتے ہوئے اہم گفتگوکرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(مستفاد از نجم الفتاویٰ)

پورا کمرہ اعتکاف کے لیے

اگر پورا کمرہ نماز کے لیے مختص ہے، تو اس میں اعتکاف درست ہے اور اگر کمرہ نماز کے لیے مختص نہیں ہے، تو پہلے پورے کمرے کو نماز کے لیے (نیت کرکے) مختص کریں، تب اس میں اعتکاف درست ہوگا۔(نجم الفتاویٰ ملخصا)

متعین کرنے کے بعد جگہ تبدیل کرنا

اعتکاف کے لیے جگہ متعین کرنے کے بعد تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اندر ہو یا باہر ہو، بہتر یہ ہے کہ بر آمدہ وغیرہ کا تعین کیا جائے یا پنکھے وغیرہ کا انتظام کر لیا جائے (کہ بعد میں تکلیف نہ ہو)۔(خیر الفتاویٰ)

عورت کے اعتکاف میں بیٹھنے سے اصل سنت

رمضان المبارک کے اخیر عشرے میں اگر مرد کےبجائے صرف عورت اعتکاف میں بیٹھتی ہے ، خواہ ایک ہو یا چند، اور(مسجد میں کوئی بھی)مرد معتکف نہ ہو، تو عورت کا اعتکاف صحیح ہوجائے گا،لیکن اس کے اعتکاف سے مَردوں کے ذمے سے اعتکاف کی سنیت ادا نہ ہوگی ، بلکہ ان کے اوپر اعتکاف کی ذمے دار ی باقی رہے گی۔(مستفاد از فتاویٰ محمودیہ)

  • 6
    Shares
  • 6
    Shares

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here