لَو میرج یا اپنی پسند کی شادی

لَو میرج یا اپنی پسند کی شادی: ایک تجزیہ
ندیم احمد انصاری

شادی بیاہ نہایت ضروری اور نازک معاملہ ہے۔ یہ بچوں کا کھیل نہیں، جسے جب چاہا بنایا اور جب چاہا ختم کر دیا۔ اس کے لیے تجربے کاروں کے تجربے سے فایدہ اٹھانا ناگزیر ہے، تاکہ آگے چل کر پچھتانا نہ پڑے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے ماں باپ اور مخلص اساتذہ وغیرہ اس بابت سب سے اہم رول ادا کرتے ہیں،لیکن ہمارے زمانے میں پیار محبت کو کچھ اس انداز سے لوگوں کے ذہنوں تک پہنچایا گیا ہے کہ اللہ کی پناہ! ایک تو مختلف حربوں سے نوجوانوں کے جذبات برانگیختہ کیے گئے، پھر ان کی تکمیل کے جائز و ناجائز طریقوں کو اس انداز سے پیش کیا گیا کہ وقت سے پہلے اس کے حصول کے لیے وہ بے تاب ہو جائیں اور شادی کو محض تمتع اور جسمانی حظ اٹھانے کا وسیلہ بتایا گیا۔یہ ایک المیہ ہے کہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں عریانیت، فحاشی، جسمانی بے راہ روی جیسے سیکڑوں مسائل کے آنکھوں کے سامنے ہونے کے باجود ہم ان سے آنکھیں ملانے تک کے لیے تیار نہیں۔ سنیما اور ٹی وی والے جو بات جس طرح چاہتے ہیں ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں تک منتقل کرتے ہیں اور ہمارے پاس نوجوانوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے گویا چند اختلافی مسائل کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ موجودہ نوجوان نسل ایک ایسی ڈگر پر چل نکلی ہے، جس میں اسے اپنی نفسانی خواہشوں کے سامنے اپنے مخلصین کا پیار بھی ہیچ لگنے لگا ہے۔

سرپرستوں کی صواب دید اور ان کی مرضی کے خلاف محض اپنی پسند سے شادی رچانا عموماً سفلی جذبات سے مغلوب ہونے ، حیوانی تقاضوں کے آگے ہتھیار ڈال دینے اور حیا کو پامال کرنے کے مرادف ہے، جس کا انجام عموماً ناکامی و پریشانی کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے، اس کے برخلاف سرپرستوں کی پسند اور بڑوں کے رائے مشورے سے جو کام کیے جاتے ہیں ان میں خدا کی رحمت اور بڑوں کی دعائیں شاملِ حال رہتی ہیں اور ایسی شادی حقیقت میں خانہ آبادی کا ذریعہ بنتی ہے،جس کا اعتراف کیے بغیر چارہ نہیں۔ اس لیے درست رویہ یہی ہے کہ لڑکے لڑکیاںاپنے والدین اور بڑوںکی رضامندی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور والدین بھی اپنی اولاد کی رضا و رغبت کا خیال رکھیںنیز اپنی پسند کی شادی کی نوبت عام طور سے تب ہی آتی ہے جب کہ لڑکا لڑکی کا بار بار اختلاط وغیرہ بھی ہوتا رہا ہو اور وہ با قاعدہ رلیشن شپ (Relation Ship)میں رہے ہوں، جو کہ خود کبیرہ گناہ ہے ۔

فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کا ارشاد ہے کہ شریعت میں ایک ہدایت تو اولاد کے لیے ہے، وہ یہ کہ والدین کی اطاعت کریں۔۔۔ایک ہدایت والدین کے لیے ہے کہ جب اولا بڑی ہو جائے تو اس کی طبیعت کے خلاف اس پر جبر نہ کیا جائے، ہاں مشورہ دے دیا جائے ، پس اگر اولاد اور ماں باپ اپنے اپنے متعلق ہدایات پر عمل کریں تو صحیح زندگی گزرے، کوئی خلفشار نہ ہو۔۔۔بہ ہر حال اگر والدین کی رضامندی کو اپنی خواہش پر مقدم رکھیں تو بہت بڑی سعادت ہے ، اس کی برکت سے زندگی بھی خوش گوار ہوگی، اگر اس پر قدرت نہ ہو تو : لَا یُکَلِّفُ نَفساً اِلَّا وُسعَھَا۔(البقرۃ)(فتاویٰ محمودیہ جدید مخرج ملخصاً)

لیکن اولاد کو یہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ والدین کو اپنی اولاد سے طبعی محبت ہوتی ہے، وہ فطرتاً اس کے خیر خواہ ہوتے ہیں، اپنے نزدیک بہتر جگہ شادی کرتے ہیں،البتہ یہ ممکن ہے کہ اولاد کی مرضی کسی دوسری جگہ ہو اور وہ اپنی پسند میں خیر سمجھے، والدین اپنی پسند میں خیر سمجھتے ہوں۔ اولاد کی سعادت اس میں ہے کہ وہ والدین کی پسند کو اختیار کریں، لیکن اگر وہ مجبور ہو تو والدین کو اصرار نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ اولاد کی رغبت کو اختیار کر لیں، ورنہ اندیشہ ہے کہ نباہ نہ ہو اور سب ذمے داری والدین پر عائد ہو جائے، ایسی ضد نہ کریں۔اگر والدین نہ مانیں تو اولاد کے لیے مناسب یہ ہے کہ ان کی اطاعت کرے ، اللہ پاک اس میں خیر کرے گا۔(ایضاً بتصرف)

اگر والدین ایسی جگہ شادی کرنا چاہتے ہیں‘ جہاں لڑکے کی طبیعت بالکل آمادہ نہیں اور وہ جانتا ہے کہ حقوقِ زوجیت ادا نہیں کر سکے گا، نباہ نہیں ہوگا، جو کہ والدین کے لیے بھی کوفت کا سبب بنے گا، اس مجبوری سے وہ وہاں شادی سے انکار کر دے تو ان شاء اللہ وہ نافرمانی کا گنہگار نہیں، مگر نرمی سے والدین کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے پوری بات اُن کے سامنے پیش کردے ، پھر بتادے کہ فلاں جگہ شادی کرنا مناسب ہے ، گو خود بھی ایجاب وقبول سے نکاح ہوجائے گا، مگر والدین کے مشورہ سے اور اُن کے انتظام سے ہو، تو اُن کے لیے زیادہ خوشی کی بات ہے ۔(ایضاً،تغیر یسیر)گو کہ فقہی مسئلہ یہی ہے کہ عاقل بالغ لڑکا یا لڑکی اگر دیگر شرائطِ نکاح کی رعایت کرتے ہوئے نکاح کرلیں تو یہ نکاح منعقد ہوجاتا ہے ، خواہ والدین رضامند ہوں یا نہ ہوں، ہاں اگر لڑکی نے غیرِ کفو میں نکاح کیا ہو، تو اولیا کو اعتراض کا حق رہتا ہے ، وہ اس معاملے میں قریبی محکمۂ شرعیہ سے رجوع کرسکتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ بالغ اولاد کی رضامندی نکاح کے لیے شرط ہے ، اس لیے والدین کے لیے یہ جائز نہیں کہ بالغ اولاد کو اس کی مرضی کے خلاف پر مجبور کریں، لیکن اگر بالغ لڑکے اور لڑکی نے اپنی خواہش کے خلاف والدین کی تجویز کو قبول کرلیا اور اس کی منظوری دے دی تو نکاح ہوجائے گا، اور اگر لڑکے یا لڑکی نے نکاح کو قبول نہیں کیا تو نکاح نہیں ہوگا۔لیکن آج کل لڑکے اور لڑکیاں جو اپنی پسند کے رشتے کرنا چاہتے ہیں، ایک طرف بعض اوقات وہ والدین کی مرضی اور ان کے مشورے کو بالکل ہی نظر انداز کردیتے ہیں، دوسری طرف بعض والدین بچوں کے لیے ایسے رشتوں کا انتخاب کرتے ہیںجوخود ان کے انتخاب کے بالکل ہی برخلاف ہوتے ہیں، یہ دونوں رویّے اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں، دونوں کو ایک دوسرے کے جذبات و احساسات اور حقوق و حدود کا لحاظ رکھنا چاہیے ۔شرعاً رشتۂ نکاح کے معاملے میں بھی لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے والدین کی مرضی کا خیال رکھنا لازم ہے ، البتہ ایسا کرنے میں حقوقِ زوجیت وغیرہ ہی پامال ہونے کا گمان غالب ہو تو اس بابت ان کی رضامندی کے بغیر بھی مناسب جگہ نکاح کرنے کی گنجائش ہوگی، لیکن بلا شرعی ضرورت کے والدین کی نافرمانی یا محض اپنی پسند و ناپسند کے نام پر والدین کے حقوق کی پامالی کرنے والا گنہگار ہوگا،کما قال تعالی:وقضی ربک الا تعبد الا ایاہ، و بالوالدین احساناً۔(الاسراء)اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا‘ اپنی پسند و ناپسند توعام طور سے تب ہی ہوگی جب کہ اس نگاہ سے کسی کو دیکھا گیا ہو، اس نیت سے اس سے بات چیت اور ملاقات وغیرہ کی گئی ہو، اور اجنبی مرد یا عورت کو اس طرح دیکھنا، اس سے بات چیت کرنا وغیرہ سب ناجائز و حرام ہے ۔ قال تعالیٰ: ولا تقربوا الزنا۔(الاسراء) شرع نے زنا کو حرام کیا اور یہاں تک تاکید کا لفظ استعمال کیا کہ اس کے پاس جانے کی بھی ممانعت کردی یعنی اس کے اسباب سے بھی روکا۔ زنا کے بہت سے اسباب ہیں؛ نامحرم عورتوں سے تخلیہ کرنا، ان سے ہنسی مذاق کرنا، ان سے رسمِ ملاقات بڑھانا وغیرہ وغیرہ۔( دیکھیے تفسیرِ حقانی مع حاشیہ) ان گناہوں میں ملوّث ہوئے بغیر کسی کو اپنے نکاح کے لیے از خود پسند کرنا ناممکن سا لگتا ہے، اس لیے جو گناہ بھی اس راستے کو اختیار کرنے میں ہوں گے، ان کا وبال بہرحال رہے گا۔

(مضمون نگار الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن،انڈیا کے صدر ہیں)

  • 24
    Shares
  • 24
    Shares

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here