Ghuroob ke baad iftaar me takheer ki zaroorat nahi

غروب کے بعد افطارمیں تاخیر کی ضرورت نہیں
افادات: مفتی احمد خانپوری مدظلہ
روزہ کے وقت کے متعلق شریعت کی طرف سے جو تحدیدکی گئی ہےکہ فلاں وقت شروع ہوتاہے اور فلاں وقت ختم ہوتاہے، آپ اس کاجتنازیادہ اہتمام کریں گے اتناہی ثواب زیادہ ملےگا۔ اسی لیے سحری میں جتنالیٹ کیاجائے گااتناہی ثواب زیادہ ملے گااورسورج کے غروب ہوجانے کایقین ہونے کے بعد افطارمیں جتنی جلدی کی جائے گی اتناہی ثواب زیادہ ملےگا۔ہاں! یہ بات ضرورہےکہ آفتاب کےغروب ہوجانے کاپوراپورایقین ہونا چاہیے،اگرہم نےاپنی آنکھوں سے آفتاب کو ڈوبتے ہوئے دیکھا ہے تب توکوئی سوال ہی پیدانھیں ہوتا،اس صورت میں توفوراً افطار کرلیجیے اوراگر آنکھوں سےغروب ہوتےہوئےنہیںدیکھاہےبلکہ اوقات کےسلسلہ میں جو ٹائم ٹیبل چھپے ہوئے ہیںان پر اعتماد کیاجارہاہے،توچوں کہ وہ ایک حسابی چیز ہے اور حساب میں انیس بیس ہوسکتاہے،اورساتھ ساتھ اس کی بنیادگھڑی پرہے، اور گھڑیاں بھی آگے پیچھےہواکرتی ہیں،اس لیےجووقت ٹائم ٹیبل میں لکھاہوا ہے، اس میں چار پانچ منٹ احتیاط کی جائے۔
مسجدکی گھڑی ریڈیوٹائم پر رکھیے
پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی گھڑی کاٹائم درست رکھنےکااہتمام کرنا بھی ضروری ہے،خاص کر رمضان کے دنوں میںتوبہت ہی ضروری ہے۔ہمارے حضرت شیخ  نےفضائلِ رمضان کاتتمّہ جو’اکابرکا رمضان‘سے مشہورہے،اس میں حضرت رائےپوری کے حالات میں لکھاہے کہ روزانہ طلوع اورغروب کے وقت لوگوں کو دیکھنے کے لیے بھیجتے تھے تاکہ گھڑی کاوقت صحیح رہے۔جب آفتاب نکل رہاہو تو اس کو دیکھ کر ٹائم ٹیبل میں طلوع کاجووقت لکھاہووہی وقت گھڑی میں بھی لگادیا جائے تاکہ وہ گھڑی اس کے مطابق رہے، توایک بات تویہ ہے گھڑی کودرست رکھنے کا اہتمام کرنا ضروری ہے،اس لیے مسجدوںکےذمہ دارچاہے وہ امام ہوںیا متولی ہوں،ان کو چاہئے کہ گھڑیوںکاوقت درست رکھنےکاخاص اہتمام کریں۔اس کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیے، بہت سی جگہوں پر دیکھاگیاکہ مسجدکی گھڑی پانچ پانچ منٹ آگے پیچھےہوتی ہیں جس کی وجہ سے بہت گڑبڑہوجاتی ہے،اورکبھی وقت سے پہلے اذان دی جاتی ہے، یہ طریقہ صحیح نہیں ہے ۔توپہلی بات تویہ ہوئی کہ آپ اپنی گھڑی کے وقت کو بالکل ریڈیو ٹائم پر رکھیے۔
تقویم کےاستعمال کاطریقہ
دوسری بات یہ ہے کہ تقویم میں جو وقت لکھاگیاہے توچوںکہ وہ حسابی چیز ہے اس لیے اس پرتین یاپانچ منٹ کااضافہ کرلیجئے، یہ دوچیزیں ضرور ہونی چاہئیں۔بعض لوگوں کو اصرار ہوتاہے کہ ٹائم ٹیبل میں وقت چھپاہواہے اس میں بھی اضافہ کیوں کریں تو سمجھ لیناچاہیے کہ ایک ٹائم ٹیبل توسحری اورافطاری کاہوتاہے جو رمضان میںالگ سے شائع ہوتاہے،اس میں تواحتیاط کی ہوئی ہی ہوتی ہے، اس میں جو وقت بتایاہواہوتاہے اسی وقت پرعمل کرلیاجائے، ٹائم ٹیبل بنانے والےنے خودہی اس میںپہلے سے احتیاط کرلی ہے، اس لیے آپ کو مزید احتیاط کرنے کی ضرورت نہیں ہے،مگر یہ اسی وقت جب کہ آپ کی گھڑی بالکل درست ہو،لیکن نمازوں کےلیےجو ٹائم ٹیبل بنائے ہوئے ہیں اس میں غروب آفتاب کاجووقت لکھاہواہے اس کوآپ دیکھ رہے ہیں تو پھراس سے پانچ منٹ بعد افطارکیجئے،اورسحری میں اس وقت سے دس منٹ پہلےفارغ ہوجایئے، احتیاط اسی میں ہے، لیکن اگرکسی کی گھڑی بالکل ٹھیک ہےاورعام ٹائم ٹیبل کے مطابق افطار کرتاہےتو ہم روزہ خراب ہونے کافتویٰ نہیں دیں گے،ہاں!احتیاط کا حکم ضرور دیں گے ۔باقی ان دونوں چیزوںکایعنی گھڑی کے صحیح رکھنے کااوراحتیاط کابھی اہتمام نہایت ضروری ہے۔
لطیفہ:ہمارے الحاج بھائی عبدالحفیظ صاحب منیار زیدمجدہم جو ٹائم ٹیبل تیارکرتے ہیں اورساری دنیامیں بھیجتے رہتے ہیں،انھوں نے ایک مرتبہ لطیفہ سنایاجوسننے کے قابل ہے ۔انھوںنے کہاکہ کسی زمانہ میںمَیں نے اس بات کااہتمام کیاتھاکہ گھوم پھر کر دیکھوںکہ سورت کی مسجدوں میں اذان تیارکیے ہوئےٹائم ٹیبل کی ہدایات کے مطابق دی جاتی ہے یانھیں،لہٰذا روزانہ الگ الگ مسجدمیں مغرب کی نمازادا کرتاتھا۔ ایک دن ایک مسجدمیںپہنچااور وہ مسجد بالکل ساحل دریائےتاپتی پرتھی جہاں سے غروبِ آفتاب صاف نظر آتاتھا۔ مؤذن صاحب نےمغرب کی اذان دینی شروع کی،تو میںنے ان سےکہاکہ مؤذن صاحب!ابھی وقت نہیں ہواہے۔تومؤذن صاحب مجھےکہنے لگے کہ ٹائم ٹیبل دیکھو، اورگھڑیال دیکھو۔میںنے ان سے کہاکہ جناب وہ دیکھو!ابھی تو سورج نظرآرہا ہے( اصل میں مسجدکی گھڑی آگے تھی) جب انھوں نے سورج دیکھا تو خاموش ہوگئے۔اس لیے گھڑی کو بھی صحیح رکھنابہت اہمیت رکھتا ہے۔خیر!میں تویہ عرض کررہاتھاکہ جب سورج کے غروب ہونے کایقین ہوجائے تواب افطارمیں تاخیرکرنے کی ضرورت نہیںہے، اب توجتناجلدی افطارکرلیں گے اتنی ہی فضیلت آپ کوزیادہ حاصل ہوگی۔
nadeem@afif.in

READ  Mobile par Quran padhna, Al Falah Islamic Foundation, India

Check Also

Taddud-e-azwaaj ki ijazat fitrat-e-insani ke ain mutabiq, Sir Syed Ahmed Khan, Al Falah Islamic Foundation, India

shares تعددِ ازواج کی اجازت فطرتِ انسانی کے عین مطابق ! سر سید احمد خان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar