Islam me Rasool ka wazeh tasawwur, Nadeem Ahmed Ansari, Al Falah Islamic Foundation, India

islam-me-rasool-ka-wazeh-tasawwur

اسلام میں رسول کا تصور
ندیم احمد انصاری
(الفلاح اسلامک فاؤنڈٰیشن، انڈیا)
اسلام افراط و تفریط سے پاک آسمانی مذہب ہے، جس میں تمام اہم امورکی تعلیم خود باری تعالیٰ نے شرح و بسط کے ساتھ دی ہے، اس کے باجود مستشرقین کی کارستانی بعضوں کی کم فہمی یا کج فہمی کے باعث بہت سے لوگ اسلام کی اہم ترین اصطلاحوں میں غلط فہمی کا شکار ہیں۔ اسی لیے ایک اہم ترین عنوان کے تحت یہ مختصر مضمون ہدیۂ ناظرین کیا جا رہا ہے، جس میں’ترجمان السنہ‘مصنفہ علامہ بدرِ عالم میرٹھیؒسے چیدہ چیدہ اقتباسات مناسب ترتیب سے پیش کیے گئے ہیں۔ (نون الف)

اسلام میں خدا کے تصور کی طرح رسول کا تصور بھی تمام مذاہب سے جدا گانہ اور بالا تر تصور ہے، یہاں انسانِ کامل کی آخری سرحد اور لاہوت و جبروت کے ابتدائی تصور میں کوئی نقطۂ مشترک نہیں نکلتا۔ ایک انسان اپنی فطری اور وہبی استعداد کا ہر کمال بالفعل حاصل کر لینے کے بعد بھی الوہیت کے کسی ادنیٰ تصور کے قابل بھی نہیں ہو سکتا۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کا تصور اتنا بلند ہے کہ وہ حلول و اتحاد، ولادت و قرابت اور اس طرح کی تمام نسبتوں میں سے کسی نسبت کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اسی معنی سے اس کو ’احد‘ و ’صمد‘ کہا جاتا ہے۔
رسول و اوتارو بروز
اس لیے اسلام میں رسول نہ خدا کا اوتار ہو سکتا ہے کہ خدائی اس میں حلول کر سکے اور نہ خود خدا ہو سکتا ہے کہ ہیکلِ انسانی میں جلوہ نما ہو۔ رسول کے متعلق خدائی کا تصور عیسائیت کا راستہ ہے اور خدا کے متعلق یہ عقیدہ کہ وہ رسول کی صورت میں بروزکرتا ہے براہمہ کا عقیدہ ہے۔اسلام کی تعلیم ان دونوں سے علاحدہ ہے بلکہ یہ دونوں تصور اسلام میں بے مصداق، ناممکن اور محال ہیں۔ عام حیوانات کو دیکھیے‘ قدرت نے ان میں بھی ہر ہر نوع کی جدا جدا خصوصیات اور صورتیں بنائی ہیں اور اس طرح ہر نوع کے درمیان ایک ایسا خطِ فاصل کھینچ دیا ہے کہ ہزار ترقی کرنے کے بعد بھی ایک نوع دوسرے نوع کی سرحد میں قدم نہیں رکھ سکتی بلکہ ہر نوع اپنے ان ہی قدرتی حدود کے درمیان گردش کرتی رہتی ہے اور اسی حد بندی سے اس عالم کا نظام قائم رہتا ہے۔
لَاالشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ  تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا  الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ، وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْن۔
نہ سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے، ہر چیز چکر میں پڑی گردش کھا رہی ہے۔(یٰس:40)
جب مخلوقات کے دایرے کی یہ سرحدیں اتنی مضبوط ہیں تو خالق کے متعلق یہ گمان کرنا کہ کوئی انسان اپنے دایرے سے ترقی کرکے اس کی سرحد میں قدم رکھ سکتا ہے‘ سفیہانہ خوش عقیدگی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے، اور اگر تھوڑی دیر کے لیے فلسفۂ ارتقا (Evolution)تسلیم بھی کر لیا جائے[جو کہ اصلاً ناقابلِ تسلیم اور غلط ہے] تب بھی مخلوقات کی کسی کڑی کا عالمِ قدس سے کوئی اتصال ثابت نہیں ہوتا، اس لیے رسول کا تصور اسلام میں بلا کسی ادنیٰ شائبۂ تنقیص کے یہ ہے کہ وہ ایک انسانِ کامل ہوتا ہے اور اپنی تمام عظمتوں اور مراتبِ قرب کے باوجودالوہیت کے تصور سے یک سر خالی ہوتا ہے۔
انسانیت‘ رسول کا ایک کمال
رسول ایک انسان ہوتا ہے اور عام انسانوں پر اس کی برتری سمجھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا فرستادہ اور اس کا پیغمبر ہے، اس کی جانب سے منصبِ اصلاح پر کھڑا کیا گیا ہے اور اس لیے اس کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک انسان ہو، کیوں کہ اصلاح کے لیے صرف علم کافی نہیں، احساس کی بھی ضرورت ہے۔ جو غم نہیں کھا سکتا وہ ایک غم زدہ کی پوری تسلّی بھی نہیں کر سکتا، جو بھوک سے آزاد ہے وہ ایک بھوکے کے ساتھ صحیح دل سوزی کرنا بھی نہیں جانتا اور جو فطرتِ انسانی کی کم زوریوں سے آشنا نہیں، وہ کم زروریوں پر اغماض بھی نہیں کر سکتا۔ اسی لیے قرآن مجید نے جا بہ جا بعثت کے ساتھ رسولوں کا انسان ہونا ایک مستقل انعام قرار دیا ہے:لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِہِمْ، الآیۃ۔(آل عمران:164)
یہاں امتنان و احسان کے موقع میں من جملہ اور باتوں کے تین امور کو بالخصوص نمایاں کیا گیا ہے؛ بعثتِ رسول، پھر اس انعام کے لیے سرزمینِ عرب کا انتخاب اور سب سے بڑھ کر اس رسول کا انسان ہونا۔ حضرت خلیل ؑنے جب بنی اسماعیل میں ایک نبی کے لیے دعا فرمائی تو انھوں نے بھی اس اہم نقطے کو فراموش نہیں کیا اور اپنی دعا میں فرمایا:
رَبَّنَا  وَابْعَثْ فِیْہِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْھُمْ۔
اے ہمارے رب! ان میں رسول بھیج جو انھیں میں سے ہو۔(البقرۃ:129)
پھر جب اس دعاے مستجاب کے ظہور کا وقت آیا تو دعاے خلیل میں لفظ ’منھم‘ کی استجابت کو مزید تاکید کے ساتھ لفظ ’من انفسھم‘سے ذکر کیا گیا ہے:  لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِہِمْ،یعنی اس رسول کو انسانوں میں تو بھیجا ہی تھا مگر ان میں بھی جس سے انھیں قریب سے قریب علاقہ ہو سکتا تھا‘ ان میں بھیجا ہے۔ انسانوں میں عرب، عرب میں قریش، قریش میں ہاشمی بنایا، مگر ان چند در چند خصوصیات کے باوجود پھر بھی وہ ایک انسان ہی رہا، رسول اگر انسان نہ ہوں تو وہ انسانوں کی پوری اصلاح نہی کر سکتے۔ نسلِ انسانی پر یہ بد نما داغ ہوتا کہ اشرف المخلوقات کا مصلح و مربی کسی اور نوع میں پیدا کیا جائے، اس لیے خود رسول اور نوعِ انسانی کا شرف و کمال یہی تھا کہ رسول انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا،اس لیے ایسا ہی کیا گیا۔
رسول اور ری فارمر
رسول صرف ایک مصلح و ری فارمر [Reformer]نہیں ہوتا، رسول اور ری فارمر میں بڑا فرق یہ ہے کہ ایک ری فارمر اور مصلح کی پرورش عام انسانوں کی طرح ہوتی ہے،ان ہی کی طرح وہ تعلیم حاصل کرتا ہے، پھر اپنی فطری صلاحیت و دل سوزی کی بنا پر قومی اصلاح کی خدمت انجام دیتا ہے۔ جب اس کی فہم و فراست، ہم دردی و نیک نیتی کے اثرات قوم میں نمایاں ہوتے ہیں تو قوم کی نظروں میںوہ خود بہ خود ایک مصلح و ری فارمر کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے، مگر رسولوں کی تربیت صفتِ اِحتبا و اصطفا کے ماتحت ہوتی ہے، ان کی ہر نشست و برخاست، ہر قول و فعل کی‘ قدرت خود نگراں ہوتی ہے اور اسی حفاظت کی وجہ سے ان کو صفتِ عصمت حاصل ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ ایک مناسب عمر پر وہ خود انھیں منصبِ اصلاح پر فائز کرتی ہے۔ ری فارمر عصمت کا مدّعی نہیں ہوتا، غلطی کا احتمال اس پر ہر وقت جائز ہے۔
رسول ریاضت سے نہیں بنتے
رسالت ایک قسم کی سفارت ہے‘ ہر سفیر کے لیے قابل ہونا تو ضروری ہے مگر ہر قابل انسان کے لیے سفیر ہونا ضروری نہیں، یہ باد شاہ کی اپنی مصلحت اور صواب دید پر موقوف ہے کہ وہ کس کو اس کا اہل سمجھتا ہے۔ خدا کی زمین پر دنیا کے جس قدر رسول آئے‘ آپ سب کی سیرت بالتفصیل مطالعہ کر جائیے‘ ان کی زندگیوں کا ورق ورق الٹ جائیے، مگر قرآن و حدیث سے کہیں ثابت نہیں ہوگا کہ کسی کو منصبِ رسالت کسی کی اتباع و اطاعت کے صلے میں ملا ہو۔ تمام انبیا علیہم السلام کی سیرت سے آپ کو یہی ثابت ہوگا کہ بہ وقتِ ضرورت بہ راہِ راست ان کو اس منصب سے نواز دیا جاتا ہے، بلکہ رسول کا خود مفہوم بھی یہ بتاتا ہے کہ یہ گروہ عام انسانوں اور خداے تعالیٰ کے درمیان پیغام بری کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ ان کے واسطے سے لوگ شریعت پر عمل اور خدا کی عبادت کرنا سیکھیں‘ اس لیے نہیں کہ شریعت پر عمل کرکے یہ خود خدا کے رسول بن جائیں، چناں چہ جب وہ آتے ہیں تو گم راہوں میں راہ نما، جاہلوں میں عالم، مفسدوں میں مصلح اور کافرں میں اول مسلم بن کر آتے ہیں۔ رسالت سے پہلے بھی ان کا دامن شرک و کفر کی تمام نجاستوں سے پاک ہوتا ہے اور جو حرکات ادیانِ سماویہ میں ناقابلِ برداشت ہیں‘وہ نبوت و رسالت سے پہلے بھی ان سے دور ہی دور رہتے ہیں اور اپنی بے لوث اور پاک و صاف زندگی کی وجہ سے قوم میں ایک ممتاز حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کی ریاضت و عبادت اس لیے نہیں ہوتی کہ انھیں رسول بننا ہے بلکہ اس لیے ہوتی ہے کہ ان کی یہ پاک و صاف زندگی قوم کی نظروں میں نمایاں کی جائے اور اس لیے نمایاں کی جائے کہ جب وہ رسالت کا دعویٰ کریں تو خود ان کی یہی زندگی ان کی تصدیق کا بڑا سمان ہو جائے۔
المختصر!ر سول کی حیثیت سمجھنے میں بہت سے لوگ غلط ہمی میں مبتلا ہوئے، نصاریٰ نے رسول کو خدا سے اتنا قریب سمجھا کہ پھر انھیں دوئی قائم رکھنا دشوار ہو گیا اور جدید روشنی میں اس کو خدا سے اتنا دور سمجھا گیا کہ اس کو صرف ایک ری فارمر کی حیثیت دی گئی، یہ دونوں ہی راستے افراط و تفریط کے راستے ہیں۔(ترجمان السنہ:1/409-417ملخصاًبترمیم)
http://afif.in

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here