Jahez ki phailti waba aur ladke ladkiyon ki badhti umrien

جہیز کی پھیلتی وَبا اور لڑکے لڑکیوں کی بڑھتی عمریں
ندیم احمد انصاری

بیٹی کی شادی میں والدین اور رشتے داروں کی طرف سے دیا جانے والا سامان جہیز (dowry)کہلاتا ہے ، خواہ نقد ہو یا سامان کی صورت میں۔ اندازہ یہ ہے کہ یہ قبیح رسم قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے اور تقریباً ہر ملک اور ہر علاقے میں اس کی مختلف صورتیں رائج رہی ہیں، جب کہ عام طور سے زیورات ، کپڑے لتّے ، نقدی اور روزانہ استعمال کے برتنوں وغیرہ پر اس کا عام اطلاق کیا جاتا ہے اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ برِصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں یہ رسم ہندو اثرات کے سبب داخل ہوئی اور اب ایک لعنت کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔اس کے نقصانات سے کوئی دانا و بینا انکار نہیں کر سکتا، اس لیے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بے شمار شادی شدہ خواتین اس کے سبب نذرِ آتش کر دی گئیں اور لا تعداد بچیاں ڈھلتی عمر کے باوجود ازدواجی خوشیوں اور مسرتوں سے محروم ہیں، جہیز نہ جُٹا پانے کے سبب ان کا ہاتھ تھامنے والا کوئی با غیرت انسان نہیں ملتا۔ ویسے یہ حال صرف لڑکیوں کا ہی نہیں بلکہ بہت سے لڑکوں کا بھی ہے ،یعنی یا تو بلا جہیز بیاہ کرنے کو عیب بتا کر خود ان کے دماغ میںشروع سے یہ بٹھا دیا گیا ہے جس کے سبب وہ خواہی نہ خواہی ازدواجی زندگی کی مسرتوں سے محروم ہیں، یا ان کے ماں باپ اس موقع پر بیٹانام کا چیک کیش کرائے بغیر رہنے کو تیار نہیں، جس کے لیے لوگوں نے مختلف طریقے بھی نکال لیے ہیں کہ کوئی تو شرما شرمی میں پوچھے بغیر صرف یہ اندازہ لگاتا ہے کہ لڑکی والا دے کیا سکتا ہے ؟ کچھ شرم بیچ کر کھا جانے والے ایسے بھی افراد معاشرے میں موجود ہیں جو صاف صاف لفظوں میں بیٹی کے باپ سے معلوم کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ بتاؤ دوگے کیا؟ اس پر طرّہ یہ کہ اِنھی میں سے بہت سے یہ کہتے ہوئے بھی پائے گئے کہ ڈمانڈ اور مانگ ہماری کچھ نہیں۔بیٹی کی شادی میں والدین اور رشتے داروں کی طرف سے دیا جانے والا سامان جہیز (dowry)کہلاتا ہے ، خواہ نقد ہو یا سامان کی صورت میں۔ اندازہ یہ ہے کہ یہ قبیح رسم قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے اور تقریباً ہر ملک اور ہر علاقے میں اس کی مختلف صورتیں رائج رہی ہیں، جب کہ عام طور سے زیورات ، کپڑے لتّے ، نقدی اور روزانہ استعمال کے برتنوں وغیرہ پر اس کا عام اطلاق کیا جاتا ہے اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ برِصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں یہ رسم ہندو اثرات کے سبب داخل ہوئی اور اب ایک لعنت کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔اس کے نقصانات سے کوئی دانا و بینا انکار نہیں کر سکتا، اس لیے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بے شمار شادی شدہ خواتین اس کے سبب نذرِ آتش کر دی گئیں اور لا تعداد بچیاں ڈھلتی عمر کے باوجود ازدواجی خوشیوں اور مسرتوں سے محروم ہیں، جہیز نہ جُٹا پانے کے سبب ان کا ہاتھ تھامنے والا کوئی با غیرت انسان نہیں ملتا۔ ویسے یہ حال صرف لڑکیوں کا ہی نہیں بلکہ بہت سے لڑکوں کا بھی ہے ،یعنی یا تو بلا جہیز بیاہ کرنے کو عیب بتا کر خود ان کے دماغ میںشروع سے یہ بٹھا دیا گیا ہے جس کے سبب وہ خواہی نہ خواہی ازدواجی زندگی کی مسرتوں سے محروم ہیں، یا ان کے ماں باپ اس موقع پر بیٹانام کا چیک کیش کرائے بغیر رہنے کو تیار نہیں، جس کے لیے لوگوں نے مختلف طریقے بھی نکال لیے ہیں کہ کوئی تو شرما شرمی میں پوچھے بغیر صرف یہ اندازہ لگاتا ہے کہ لڑکی والا دے کیا سکتا ہے ؟ کچھ شرم بیچ کر کھا جانے والے ایسے بھی افراد معاشرے میں موجود ہیں جو صاف صاف لفظوں میں بیٹی کے باپ سے معلوم کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ بتاؤ دوگے کیا؟ اس پر طرّہ یہ کہ اِنھی میں سے بہت سے یہ کہتے ہوئے بھی پائے گئے کہ ڈمانڈ اور مانگ ہماری کچھ نہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہیز کی رسم کے سبب نہ جانے کتنی ہی عورتیں گھر میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں اور نہ جانے کتنی جگہ جہیز کی کمی کی وجہ سے عورتوں کی زندگی عذاب بن کر رہ جاتی ہے ۔اس سلسلے کے بے شمار حادثات اخباروں کی زینت بنتے رہتے ہیں کہ کس طرح ہماری بہن بیٹیوں کو مار پیٹ کے علاوہ کتنے ہی مقامات پر مال کی ہوس میں زندہ جلا کر بھسم کر دیا گیا، تو کہیں رات دن اُنھیں جسمانی و ذہنی درد ناک عذاب دیے جاتے ہیں۔دراصل ہمارا سماج اب انسانی رشتوں سے زیادہ دولت کو اہمیت دینے لگا ہے ، جس کی وجہ سے یہ لعنت جنگل کی آگ کی طرح برھتی ہی جا رہی ہے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں طلاق کو چوں کہ ہر حال میں ایک سخت ترین گالی و گناہ سمجھا جاتا ہے ،اس لیے خود عورت بھی ایسے ظالم اور شوہر کے طمانچے تو برداشت کر لیتی ہے لیکن خود مطلقہ ہونا برداشت نہیں کر پاتی۔نہایت افسوس کا مقام ہے کہ دوسروں کی دیکھا دیکھی جہیز کا لالچ مسلمانوں میں بھی رچ بس گیا ہے ،اور جواز اس کا یہ نکالا ہے کہ وہ تو سب ہی دیتے ہیں۔جب کہ علما نے واضح طور پر لکھا ہے کہ لڑکی والے اپنی بیٹی کو شادی کے وقت ضروریاتِ زندگی کا جو سامان دیتے ہیں وہ شرعاً مباح ہے ، اور جو سامان لڑکی کو جہیز میں دیاجاتا ہے وہ اس کی ملکیت ہے ، شوہر کا اُس میں کوئی حق نہیں ہے ، البتہ لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کا مطالبہ کرنا اور اُس پر اِصرار کرنا قطعاً جائز نہیں۔

READ  Rishwat; Asbab-o-Tadaruk By Maulana Nadeem Ahmed Ansari

دراصل اسلام میں نکاح کی حیثیت ایک معاہدے کی ہے جس میں مرد و عورت قریب قریب مساویانہ حیثیت کے مالک ہیں یعنی نکاح کی وجہ سے شوہر بیوی کا یا بیوی شوہر کی مالک نہیں ہوتی اور عورت اپنے خاندان سے مربوط رہتی ہے ، والدین کے متروکے میں تو اس کو لازمًا حصۂ میراث ملتا ہے ، بعض اوقات وہ بھائی بہنوں سے بھی حصہ پاتی ہے ۔ ہندو مذہب میں نکاح کے بعد عورت کا رابطہ اپنے خاندان سے ختم ہوجاتا ہے ، شاستر قانون کی رو سے وہ اپنے خاندان سے میراث کی حق دار نہیں رہتی، اسی لیے جب لڑکی کو گھر سے رخصت کیا جاتا تھا، تو اسے کچھ دان دے کر رخصت کیا جاتا تھا۔بد قسمتی سے مسلمانوں نے بھی بہ تدریج اس ہندووانہ رسم کو اپنا لیا، اب مسلمانوں میں بھی جہیز کے لین دین اور پھر لین دین سے بڑھ کر جہیز کا مطالبہ اور اس سے بھی آگے گزر کر جہیز کے علاوہ تلک سرانی اور جوڑے کے نام سے لڑکوں کی طرف سے رقم کے مزید مطالبات کا سلسلہ چل پڑا ہے ۔ یہ اسلامی تعلیمات اور شریعت کے مزاج کے بالکل ہی برعکس ہے ۔ اسلام نے تو اس کے برخلاف مہر اور دعوتِ ولیمہ کی ذمّے داری شوہر پر رکھی تھی اور عورت کو نکاح میں ہر طرح کی مالی ذمّے داری سے دور رکھا تھا۔ فقہا کے یہاں اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا کہ مرد بھی عورت سے روپئے کا مطالبہ کرسکتا ہے ، اس لیے اس مسئلے کا عام طور پر کتبِ فقہ میں تذکرہ نہیں ملتا، البتہ اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ لڑکی کا ولی اگر مہر کے علاوہ داماد سے مزید رقم کا طلب گار ہو تو یہ رشوت ہے اور یہ مطالبہ جائز نہیں۔ تاہم بعض فقہا کے یہاں لڑکے اور اس کے اولیا کی طرف سے مطالبے کی صورت کا ذکر بھی ملتا ہے ، اس لیے تلک اور جہیز کا مطالبہ رشوت ہے اس کا لینا تو حرام ہے ہی، شدید ضرورت کے بغیر دینا بھی جائز نہیں، اور لے چکا ہو تو واپس کرنا واجب ہے ۔

READ  Hum jashn-e-eid Meeladunnabi kyun nahi manate, Nadeem Ahmed Ansari, Al Falah Islamic Foundation, India

خیال رہے کہ جہیز میں اہمیت مقدار کی نہیں بلکہ مطالبے کی ہے ، مطالبہ کسی چھوٹی سی چیز کا ہو تو بھی لینا گناہ ہے ، اور اگر کہہ دیا جائے کہ مجھے کچھ جہیز نہیں چاہیے صرف لڑکی مطلوب ہے ، اور دل میں بھی سامان لینے کا چور نہ چھپا ہوا ہو، اس انکار کے باوجود اگر لوگ کچھ دے دیں ، تو اسے قبول کیا جاسکتا ہے ، گو زیادہ سامان ہو کہ اب یہ رشوت نہیں ، بلکہ ہدیہ ہے ۔

Check Also

Naya iswi saal aur islami taleemat, Nadeem Ahmed Ansari, Al Falah Islamic Foundation, India 

8 8shares نیا عیسوی سال اور اسلامی تعلیمات ندیم احمد انصاری انگریزی سال کے مطابق …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *