Maah-e-Ramazanul Mubarak ki ahmiyyat

ماہ ِ رمضان المبارک کی اہمیت
افادات: مفتی احمد خانپوری مدظلہ

ماہ ِ رمضان المبارک اپنی خصوصیات کی وجہ سے اس قابل ہے کہ آدمی اس پورے مہینہ کواللہ تعالیٰ کی عبادت کےلیے فارغ کردے، اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی یہ مطلوب ہے کہ بندہ سال بھر اپنے کاروباراور اپنے مشاغل میں مشغول ومصروف رہا، تو اب ایک مہینہ ایسابھی ہوناچاہیےجس میںآدمی اپنے سارے کاروبار ومشاغل کوچھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کےلیے فارغ ہوجائے،اور اگر اس کومکمل چھوڑنا ممکن نہ ہوتو کم از کم آدمی سوچ کر یہ طے کرلے کہ کتنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اللہ تعالیٰ کی طرف مشغول ہونے کےلیے فارغ کرسکتا ہے۔ جتنازیادہ سے زیادہ وقت فارغ کرے گا وہ اس کےلیے مفید اورکارآمد ہوگا۔
ویسے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے واسطےہی پیدا کیا ہے، جس کاتقاضہ یہ تھا کہ آدمی اپنے سارے اوقات اورپوری زندگی کے تمام لمحات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی میں مشغول رکھتا، لیکن یہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کاکرم اور احسان و انعام ہےکہ اس نے انسانوں کواپنی ضروریات کے واسطے بھی وقت کواستعمال کرنے کی اجازت دی ۔ہاں!کچھ عبادتیں ایسی ہیں جوفرض قرار دی گئی، جیسے: پنج وقتہ نماز، رمضان المبارک کےروزے وغیرہ ؛اور اس کے علاوہ باقی اوقات میںکچھ سنن و مستحبات رکھے گئے، اورپھر آدمی دوسرے اوقات کواپنی ضروریات اورکاروبارمیں استعمال کرتا ہےتواللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت بھی دے دی گئی۔ اور جب سال بھر یہ سلسلہ رہتا ہےتورمضان کا ایک مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنےلیے رکھاہے جس میںیہ مطلوب ہے کہ بندہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف متوجہ ہو۔
خودنبیٔ کریمﷺبھی اس کابڑااہتمام اوربڑی تاکید فرماتے تھے۔شعبان کےآخری جمعہ میںجوخطبہ ارشاد فرماتے تھےاس میںبھی نبیٔ کریمﷺرمضان کے سلسلہ میںصحابۂ کرام کوتاکیدفرماکراس کو زیادہ سےزیادہ وصول کرنے کی طرف متوجہ کرتے تھے، بلکہ رمضان کی اہمیت بتلانے کےلئےرجب کاچانددیکھتےہی یہ دعا سکھلائی گئی ہے:﴿أَللّہُمَّ بَارِکْ لَنَافِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَارَمَضَان﴾اے اللہ! تو ہمیں رجب وشعبان میںبرکت عطافرمااور رمضان تک ہمیںپہنچادے۔گویا رمضان اتنا قریب آگیا ہے تواب ایسا نہ ہوکہ رمضان کی برکتیں اوراس کے انوار و فضائل سے فائدہ اٹھانے سے پہلے ہی دنیا سے جانے کی نوبت آجائے۔جیسے: بوڑھی عورتیں جب ان کا پوتا یا نواسہ بڑا ہوجاتا ہے تودعائیں کرتی ہیں کہ: اے اللہ! میں اس کی شادی دیکھ کر جاؤں، کہیں ایسا نہ ہوکہ اس سے پہلے جانے کاوقت آجائے۔ تو حضور ﷺنے رمضان کی خاص اہمیت بتلانے کےلیے یہ دعا سکھلائی کہ دومہینے پہلے سے جب آدمی دعا کا اہتمام کرے گاتورمضان کےلیے تیاری بھی کرے گا۔ بہرحال! رمضان المبارک کی اپنی کچھ خصوصیات اورفضائل ہیں جیساکہ آپ فضائلِ رمضان میں سنتے بھی ہیں۔
مراتب ِ قرب کی کچھ منزلیں
اوراسی سلسلہ اللہ تعالیٰ نےنوافل کے قبیل سے ایک مستقل نماز رمضان کے مہینے میں مشروع فرمائی جو عشاء کی نماز کے بعد تراویح کے نام سے اداکی جاتی ہے۔ حضرت ڈاکٹر عبدالحی صاحب عارفی جوحضرت اقدس تھانوی کےخلفاء میں سے تھے، وہ فرماتے تھے کہ: اللہ تبارک وتعالیٰ نے رمضان کے مہینے میں بندوں کےلیے مراتب ِ قرب یعنی قرب کی کچھ منزلیں خصوصیت کے ساتھ الگ سے عطافرمائی ہیں اس لیے کہ حدیث ِپاک میں آتا ہے کہ بندہ جب سجدہ میں ہوتا ہے تواپنے رب سے زیادہ سے زیادہ قریب ہوتا ہے،بندہ کی سب سے زیادہ قرب والی حالت وہ ہوتی ہے جب بندہ سجدہ میں ہوتا ہے،توگویا رمضان کے مہینہ میں اللہ تعالیٰ نے مزیدبیس رکعتیں مشروع قراردیں اوران کوسنّت بتلایا کہ ان کااہتمام کیاجائےتاکہ بیس رکعتوں کی نسبت سے چالیس سجدے مزید بڑھ جائیں اوراللہ تبارک وتعالیٰ کامزید قرب حاصل کرنے کا موقع ملے ۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں بندوں کویہ کہا کہ تم کو اپنے مزید قرب کےلیے موقع فراہم کرتا ہوں، اس سے تم فائدہ اٹھاؤ۔خود نبیٔ کریم ﷺ اس کا اہتمام فرماتے تھے ۔حضور اکرم ﷺنے یہ بھی فرمایا: اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں کوفرض کیا اوراس کی تراویح کوسنّت قرار دیا،گویا اللہ تعالیٰ ہی کایہ حکم ہے، اور حضور اکرم ﷺ اس سنّت کو عملی طورپرجاری فرماکرنمونہ پیش کرگئے،اس معنٰی کراس کو سنّت بھی کہاجاتا ہے ۔
nadeem@afif.in

READ  Khalifa-e-Saani Sayyidna Hazrat Umar bin Khattab rz by Maulana Nadeem Ahmed Ansari

Check Also

Amaal ke dekhne me is baat ka lihaaz nahi kiya jayega k iske amaal kitne hain

   اعمال کے دیکھنے میں اس بات کا لحاظ نہیں کیا جائے گا کہ کس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *