السلام عليكم حج اکبر کیا ہے. قرآن و حدیث سے اس کا کچھ ثبوت ہے؟ تفصیل سے بتائیں.

QuestionsCategory: Questionsالسلام عليكم حج اکبر کیا ہے. قرآن و حدیث سے اس کا کچھ ثبوت ہے؟ تفصیل سے بتائیں.
Anonymous asked 3 years ago
1 Answers
AFIF Staff Staff answered 3 years ago

وعلیکم السلام اسلام کے جو پانچ ارکان ہیں، ان میں ایک اہم ترین رکن ’’حج‘‘ ہے۔’حج‘ کے لغوی معنی قصد و ارادہ کے ہیں۔ کسی عظیم جگہ یا کسی عظیم شخص کے یہاں بار بار آنے جانے کو بھی عربی زبان میں حج کہتے ہیں۔ (لسان العرب، مادہ: ح،ج،ج) شریعت کی اصطلاح میں مخصوص زمانے میں، مخصوص فعل سے، مخصوص مکان کی زیارت کرنے کو حج کہتے ہیں۔ (تاتارخانیہ:3/433 زکریا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اہل یمن کے پاس چند احکام پر مشتمل ایک خط ارسال کیا تو اس میں ارشاد فرمایا:بلا شبہ عمرہ،حجِّ اصغر ہے۔(الدار قطنی:2723) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بھی اسی طرح ارشاد منقول ہے، وہ فرماتے ہیں:حجِ اکبر یوم النحر ہے اور حج اصغر عمرہ ہے۔( الدار قطنی:2722) حجِ اکبر ایک قرآنی اصطلاح ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:(وَاَذَانٌمِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرٍِ)(سورۃ التوبۃ: 3) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں،جنھیں علامہ سیوطی ؒ نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔من جملہ ان کے چندیہ ہیں: (۱) امام طبرانیؒ اور ابن مردوےۃ ؒ نے حضرت سمُرہؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یوم الحج الأکبر سے مراد وہ دن ہے، جس دن حضرت ابو بکر صدیقؓ نے لوگوں کے ساتھ مل کر حج ادا کیا( جس میں آپؓ امیرالحج تھے)۔( الطبرانی: 6894، مجمع الزوائد: 7/29وقال الہیثمی: رجال الصحیح) (۲) امام محمدؒ سے ’یوم الحج الاکبر‘ کے متعلق دریافت کیا گیا، تو انھوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ دن ہے، جس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حج اور اہل ملل کا حج باہم مل گیے۔ (الدر المنثور: 7/238) (۳) امام ابی شیبہؒ نے حضرت اسحاقؒ سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن شدادؓ سے حج اکبر کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے فرمایا: حج اکبر یومِ نحر ہے اور حج اصغر عمرہ ہے۔(الدرالمنثور:7/240) تفسیرِ حقانی میں ہے:عمر اور ابن زبیر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم ، عطا ،طاؤس اور مجاہدکہتے ہیں؛ یہ عرفہ کا دن ہے، کیوں کہ بڑے ارکان اسی روز ادا ہوتے ہیں۔ (4/235بتغیر) معارف القرآن میں ہے: اس آےۃ میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ ’یوم الحج الأکبر‘ سے کیا مراد ہے؟ اس میں حضراتِ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، فاروقِ اعظمؓ، عبد اللہ بن عمرؓ، عبد اللہ بن زبیرؓ وغیرہ نے فرمایا ہے کہ ’یوم الحج الأکبر‘ سے مراد یومِ عرفہ ہے، کیوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: الحج عرفۃ۔بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد یوم النحر یعنی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ ہے۔ حضرت سفیان ثوری اور بعض دوسرے ائمہ نے ان سب اقوال کو جمع کرنے کے لیے فرمایا کہ حج کے پانچوں دن’یوم الحج الأکبر‘ کا مصداق ہیں، جن میں عرفہ اور یوم النحر دونوں داخل ہیں اور لفظِ یوم مفرد لانا اس محاورہ کے مطابق ہے،جیسے : غزوۂ بدر کے چند ایام کو قرآن کریم میں’ یوم الفرقان‘کے مفرد نام سے تعبیر کیا گیاہے اور عرب کی عام جنگوں کو لفظ’ یوم‘ ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے، اگرچہ اُن میں کتنے ہی ایام صَرف ہوئے ہوں۔ جیسے: یوم بعاث، یوم احد وغیرہ ۔اور چوں کہ عمرہ کو حجِ اصغر یعنی چھوٹا حج کہا جاتا ہے، اُس سے ممتاز کرنے کے لیے حج کو ’حجِ اکبر‘ کہا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآنی اصطلاح میں ہر سال کا حج، ’حجِ اکبر‘ ہی ہے۔عوام میں جو مشہور ہے کہ جس سال عرفہ، جمعہ کے دن واقع ہو، صِرف وہی ’حجِ اکبر‘ ہے، اس کی اصلیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ اتفاقی طور پر جس سال رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حجۃ الوداع ہوا ہے، اس میں عرفہ ، جمعہ کے دن پڑا تھا۔ یہ اپنی جگہ ایک فضیلت ضرور ہے( اس لیے کہ جمعہ تمام دنوں میں افضل ہے)، مگر مذکورہ آےۃ کے مفہوم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ (4/314-315بتغیر) صحیح قول کے مطابق ۹ھ ؁ میں حج فرض ہوا۔ یہ وہی سال ہے جس میں مختلف وفود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور اسی سال سورۂ آلِ عمران نازل ہوئی، جس میں حج کی فرضیت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا گیا: (وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً، وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ، عَنِ الْعٰلَمِیْن) معلوم ہوا کہ جس سال وقوفِ عرفہ جمعہ کے روز واقع ہو وہ ’حجِ اکبر‘ یا ’اکبری حج‘ کہلائے گااور اس کی دیگر سالوں کے بالمقابل کچھ خاص فضلیت و برتری ہوگی۔۔۔ قرآن و حدیث سے اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی ۔(واللہ اعلم) ایسی باتوں سے بہت پرہیز اس لیے بھی کرنا چاہیے کہ شریعت کی اصطلاح میں ہر اس اضافہ و زیادتی کو ’بدعت‘ کہتے ہیں، جو کسی سند اور شرعی بنیاد بغیر، تعبد یا تقرب الی اللہ کے قصد سے، دین کے مکمل ہو جانے کے بعد، اس میں داخل کر لی گئی ہو۔ صحیح احادیث میں بدعت کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، و اس میں سے نہ ہو، تو وہ مردود ہے۔ یعنی اسے اس کے منہ پر مار دیا جائے گا۔( البخاری: 2697) ایک روایت میں یہ الفاظ وار د ہوئے ہیں:جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا ، جس کے بارے میں ہمارا اَمر نہ ہوتو وہ مردوود ہے۔(مسلم: 1718) یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں اور وحی کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے یہ عام اعلان کیا جا چکا ہے :(الیوم اکملت لکم دینکم وأتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً)آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کر دیں اور تمھارے لیے بطور دین، اسلام کو پسند کر لیا۔ (المائدۃ: ۳) اب کسی کو اس دین میں اپنی طرف سے کسی قسم کے حذف و اضافہ کے گنجائش نہیں۔