Rasoolullah s.a.w ki zaat me behtareen uswa hai, Nadeem Ahmed Ansari, Al Falah Islamic Foundation, India

rasulullah-s-a-w-ki-zaat-me-behtareen-uswa-hai

رسول اللہ حضرت محمدﷺ کی ذات میں بہترین اسوہ ہے!
ندیم احمد انصاری
(الفلاح اسلامک فاؤنڈٰیشن، انڈیا)
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور اس کے مقاصد کو بہ طور احسان متعدد بار قرآن مجید میں ذکر فرمایا، اس کے باوجود آج ان عظیم مقاصد کی طرف سے بے توجہی عام ہے، بعض نے بعض مقاصد پر توجہ کی تو دوسرے مقاصد سے صرفِ نظر کر غلو و ہٹ دھرمی میں مبتلا ہو گئے اور بعض وہ ہیں کہ کم اہم کو زیادہ اہم یا غیر اہم کو اہم ترین سمجھنے اور سمجھانے کے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ وہ اپنی اس روِش کے خلاف کچھ سننا سمجھنا نہیں چاہتے۔ خیر! جو لوگ واقعی اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُسوے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، ان کی خدمت میں چند باتیں بہ طور تذکیر عرض ہیں، تاکہ وہ احتساب کر سکیں کہ وہ کس درجے اللہ کے حکم اور رسول کے طریقے پر عمل کر رہے ہیں، اس لیے کہ اپنے ذہنی اختراع سے کوئی کام دین قرار نہیں پاتا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی مدد ہرگز نہیں اترا کرتی،اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ عنایت فرمائیں، آمین۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔
(اے مسلمانو ! ) تمھارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک بہترین نمونہ ہے۔ (الاحزاب:21)
اُسْوَۃٌ نمونۂ عمل، اسم بمعنی مصدر ہے اَلإئتِسَاءُ اقتداء کرنا۔ فِی القِتَالِ والثباتِ یہ دونوں قیدیں اتفاقی ہیں، اس کا مفہومِ مخالف مراد نہیں ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ کی زندگی بہتر نمونۂ عمل ہے، ہرحال میں‘ خواہ حالتِ جنگ ہو یا حالتِ امن یا حالتِ قتال میں ثابت قدمی کا معاملہ ہو یا شجاعت و پا مرادی کا،یہ واقعۂ احزاب کا تتمہ ہے۔(جلالین)
( ا سَو ) الاسوۃ والاسوۃ، قدوۃ اور قدوۃ کی طرح انسان کی اس حالت کو کہتے ہیں جس میں وہ دوسرے کا متبع ہوتا ہے، خواہ وہ حالت اچھی ہو یا بری ، سرور بخش ہو یا تکلیف دہ، اس لیے آیتِ کریمہ میں ’اسوۃ‘ کی صفت’حسنۃ‘ لائی گئی ہے، تاسیت بہ میں نے اس کی اقتداکی ۔ الاسیٰ بہ معنی حزن آتا ہے، اصل میں اس کے معنی کسی فوت شدہ چیز پر غم کھانا ہوتے ہیں، اسیت علیہ اسی واسیت لہ،  کسی چیز پر غم کھانا۔ قرآن مجید میں ہے :
فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔
تو تم قومِ کفار پر افسوس نہ کرو ۔( المائدہ: 68)
’الحسنتہ‘ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لیے مسرت کا سبب بنے’ حسنہ‘کہلاتی ہے، اس کی ضد ’سیئہ‘ ہے اور یہ دونوں الفاظِ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظِ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناںچہ آیتِ کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللّهِ ۔[ النساء: 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فایدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔۔ میں حسنتہ سے مراد فراخ سالی وسعت مراد ہے۔
الحسن والحسنتہ اور الحسنی یہ تین الفاظ ہیں،اور ان میں فرق یہ ہے کہ حسنِ اعیان واغراض دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسی طرح حسنتہ جب بہ طور صفت استعمال ہو تو دونوں پر بولا جاتا ہے اور اسم ہوکر استعمال ہو تو زیادہ تر احدث ( احوال ) میں استعمال ہوتا ہے اور حسنی کا لفظ صرف احداث کے متعلق بو لاجاتا ہے، اعیان کے لیے استعمال نہیں ہوتا اور الحسن کا لفظ عرفِ عام میں اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو بہ ظاہر دیکھنے میں بھلی معلوم ہو، جیسے کہا جاتا ہے رجل حسن حسان، وامرءۃ حسنتہ وحسانتہ لیکن قرآن میں حسن کا لفظ زیادہ تر اس چیز کے متعلق استعمال ہوا ہے، جو عقل وبصیرت کی رو سے اچھی ہو اور آیتِ کریمہ ہے:
الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ۔ [ الزمر: 18]
جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ (مفردات القرآن)
یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اقوال، افعال، احوال اقتدا و پیروی اور تابع داری کے لائق ہیں۔ جنگِ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قائم کی۔ مثلاً آپ نے اللہ کی راہ کی تیاری اور شوقِ جہاد اور سختی کے وقت بھی آسانی کی امید رکھ کر دکھائی، یہ تمام چیزیں یقیناً اس قابل ہیں کہ مسلمان انھیں اپنی زندگی کا جزوِ اعظم بنالیں اور پیارے نبی، اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے لیے بہترین نمونہ بنالیں ۔ اسی لیے قرآن مجید ان لوگوں کو‘ جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کررہے تھے‘ فرماتا ہے کہ تم نے میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تابع داری کیوں نہ کی ؟ میرے رسول تو تم میں موجود تھے ان کا نمونہ تمھارے سامنے تھا، تمھیں صبرو استقلال کی نہ صرف تلقین تھی بلکہ ثابت قدمی، استقلال اور اطمینان کا پہاڑ تمھاری نگاہوں کے سامنے تھا۔ تم جب کہ اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ تم اپنے رسول کو اپنے لیے نمونہ اور نظیر نہ قائم کرتے ؟(تفسیر ابنِ کثیر)
اس میں دو مسئلے ہیں :
(۱) مذکورہ آیت میں قتال چھوڑ کر گھر بیٹھے رہنے والوں ہی کے لیے عتاب ہے یعنی تمھارے لیے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں بہترین اسوہ ہے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے جان کو صَرف کر رہے ہیں کہ آپ غزوئہ خندق کے لیے گھر سے باہر تشریف لے گئے۔
’اُسوہ‘ کے معنی قدوہ اور نمونہ ہیں۔ عاصم نے اسوۃ ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، باقی قراء نے اسے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ دونوں لغتیں ہیں، فراء کے نزدیک دونوں کی جمع ایک ہی ہے، جس کے واحد میں کسرہ دیا، اس کے نزدیک ضمہ کی علت یہ ہے کہ ناقص واوی اور یائی میں یہ فرق ہے۔ وہ کہتے ہیں : کسوۃ، کسا، لحیۃ، لحا۔ جوہری نے کہا : اُسوۃ اور اِسوۃ دو لغتیں ہیں، اس کی جمع اسی اور اسی ہے۔
(۲)’اسوۃ‘ اسے کہتے ہیں جس سے تسلی حاصل کی جائے اور اس کے تمام افعال میں اقتدا کی جائے اور تمام احوال میں اس سے تسلی حاصل کی جاتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو زخمی کیا گیا، آپ کی رباعیہ (سامنے والے دانت) کو شہید کیا گیا، آپ کے چچا کو قتل کیا گیا، آپ کا پیٹ بھوکا رہا اور آپ کو نہ پایا گیا مگر صابر اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے والا شکر کرنے والا اور راضی برضا رہنے والا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس اُسوے کے بارے میں اختلاف ہے، کیا یہ واجب ہے یا مستحب ہے ؟انصاف کی بات یہ ہے کہ:
(۱) واجب ہے، یہاں تک کہ استحباب پر دلیل قائم ہوجائے۔
(۲) مستحب ہے، یہاں تک کہ وجوب پر کوئی دلیل قائم ہوجائے۔
ایک احتمال یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ امورِ دین میں اسے وجوب پر محمول کیا جائے اور دنیوی امور میں استحباب پر۔ (تفسیرِ قرطبی)
’احکام القرآن‘ میں اسے مزید تفصیل کے ساتھ اس طرح بیان کیا گیا ہے:
بعض حضرات نے اس آیت سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال میں آپ کے اُسوے پر چلنے کے وجوب پر استدلال کیا ہے، ان کے مخالفین بھی اس آیت سے آپ کے افعال کے ایجاب کی نفی پر استدلال کرتے ہیں۔پہلے گروہ کا مسلک یہ ہے کہ آپ کے اُسوے پر چلنا آپ کی اقتدا کے ہم معنی ہے اور یہ آپ کے قول وفعل دونوں کے لیے عام ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی فرمادیا (لِمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللہُ وَالْیَومِ الْآخِرِ۔ اس کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت سے ڈرتا ہو) یہ قولِ باری تعالیٰ اس پر دال ہوگیا کہ آپ کے اُسوے پر چلنا واجب ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان کی شرط قرار دیا ہے، جس طرح یہ قول باری ہے (وَاتَّقُوا اللہَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤمِنِیْنَ۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو) اور اسی طرح کے الفاظ جنھیں ایمان کے ساتھ مقرون کردیا گیا ہے، یہ بات وجوب پر دلالت کرتی ہے۔
مخالفین کی استدلال یہ ہے کہ قولِ باری تعالیٰ ظاہری طور پر استحباب کا مقتضی ہے، ایجاب کا مقتضی نہیں ہے، کیوں کہ ارشاد باری ہے (لَکُمْ) اس کی مثال قائل کا یہ قول ہے :لَکَ اَن تُصَلِّیْ، لَکَ اَنْ تتصَدّق ۔ “ (تمھیں نماز پڑھنے کا) اختیار ہے، تمھیں صدقہ دینے کا اختیار ہے۔ اس میں وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے، بلکہ اس قول کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ اسے اس کام کے کرلینے اور نہ کرنے کا اختیار ہے، ایجاب پر اس کی دلالت تب ہوتی، جب کہ الفاظ یہ ہوتے:علیکم التاسی بالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔تم پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُسوے پر چلنا واجب ہے ۔
علامہ ابوبکر جصاصؒ کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ آیت میں وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے، بلکہ استحباب پر اس کی دلالت ایجاب پر دلالت کی بہ نسبت زیادہ واضح ہے، جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے، اس کے باوجود اگر آیت امر کے صیغے کی صورت میں وارد ہوتی تو پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال میں وجوب پر اس کی دلالت نہ ہوتی، اس لیے کہ آپ کے اُسوے پر چلنے کا مفہوم یہ ہے کہ ہم بھی اسی طرح کریں جس طرح آپ نے کیا اور اگر ہم کسی فعل کے اعتقاد یا اس کے مفہوم کے سلسلے میں آپ کے خلاف کریں گے تو یہ آپ کے اُسوے پر چلنا نہ ہوگا۔آپ نہیں دیکھتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگر ایک عمل استحباب کی بنا پر کیا ہو اور ہم اسے وجوب کی بنا پر کرلیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُسوے پر چلنے والے قرار نہیں پائیں گے، اگر آپ نے کوئی عمل کیا ہو تو ہمارے لیےاس وقت تک وجوب کے اعتقاد کے ساتھ اسے اپنانا جائز نہیں ہوگا ،جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ آپ نے یہ عمل وجوب کی بنا پر کیا تھا۔جب ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ آپ نے یہ عمل وجوب کی بنا پر کیا تھا تو ہم پر اس عمل کو اس علم کی وجہ سے کرنا واجب ہوگا، آیت کی جہت سے واجب نہیں ہوگا، کیوں کہ آیت میں تو وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے، ہم پر اس کا وجوب اس جہت سے ہوگا کہ دوسری آیات میں ہمیں آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ (احکام القرآن)
اگر کسی گروہ کا لیڈر خود عافیت کوش ہو، خود آرام طلب ہو، خود اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کو مقدم رکھتا ہو، خطرے کے وقت خود بھاگ نکلنے کی تیاریاں کر رہا ہو، پھر تو اس کی پیروؤں کی طرف سے ان کمزوریوں کا اظہار معقول ہوسکتا ہے، مگر یہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال یہ تھا کہ ہر مشقت جس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسروں سے مطالبہ کیا، اسے برداشت کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود سب کے ساتھ شریک تھے، بلکہ دوسروں سے بڑھ کر ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حصہ لیا، کوئی تکلیف ایسی نہ تھی جو دوسروں نے اٹھائی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اٹھائی ہو۔ خندق کھودنے والوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود شامل تھے، بھوک اور سردی کی تکلیفیں اٹھانے میں ایک ادنیٰ مسلمان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ بالکل برابر [بلکہ کچھ زیادہ] کا تھا۔ محاصرے کے دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت محاذِ جنگ پر موجود رہے اور ایک لمحے کے لیے بھی دشمن کے مقابلے سے نہ ہٹے۔ بنی قریظہ کی غداری کے بعد جس خطرے میں سب مسلمانوں کے بال بچے مبتلا تھے اسی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال بچے بھی مبتلا تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حفاظت اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی خاص اہتمام نہ کیا، جو دوسرے مسلمانوں کے لیے نہ ہو۔ جس مقصدِ عظیم کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسروں سے قربانیوں کا مطالبہ کر رہے تھے، اس پر سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اپنا سب کچھ قربان کردینے کو تیار تھے، اس لیے جو کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اتباع کا مدعی تھا، اسے یہ نمونہ دیکھ کر اس کی پیروی کرنی چاہیے تھی۔یہ تو موقع و محل کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم ہے، مگر اس کے الفاظ عام ہیں اور اس کے منشا کو صرف اسی معنی تک محدود رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ صرف اسی لحاظ سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے، بلکہ مطلقاً اسے نمونہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کو اپنے لیے نمونے کی زندگی سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی سیرت و کردار کو ڈھالیں۔(تفہیم القرآن)
مفسرِ قرآن مفتی محمد شفیع عثمانی صاحبؒرقم طراز ہیں:
قرآنِ کریم کی بے شمار نصوص اور احادیثِ صحیحہ شاہد ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور آپ کی تعلیمات اور سنتوں کا اتباع ہی انسان کی مکمل اصلاح کا نسخۂ اکسیر اور دنیا و آخرت کی ہر کامیابی کا ضامن ہے، مگر اکثر لوگوں نے اطاعت و اتباع کو صرف نماز و روزہ وغیرہ چند عبادات میں منحصر سمجھ رکھا ہے۔ معاملات اور حقوقِ باہمی خصوصاً عادات و آدابِ معاشرت سے متعلق قرآن و حدیث کے ارشادات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو عام طور پر ایسا سمجھ لیا گیا ہے کہ نہ دین کا کوئی جزو ہے اور نہ اطاعت و اتباعِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کا کوئی تعلق ہے۔
اسی کا نتیجہ ہےکہ بہت سے ایسے مسلمان بھی دیکھے جاتے ہیں جو نماز، روزے کے اعتبار سے اچھے خاصے دین دار کہلاتے ہیں، مگر معاملات ومعاشرت و حقوقِ باہمی کے معاملے میں بالکل غافل اور بے شعور ہونے کی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کے لیے ننگ و عار ہوتے ہیں، جس کی بڑی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے ناواقفیت اور آپ کی عادات و فضائل اور سنن سے غفلت ہے۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک مثالی نمونہ بنا کر بھیجا ہے اور لوگوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے، ہر دور، ہر حال میں عبادات و معاملات و معاشرت و عادات میں اس نمونے کے مطابق خود بھی بنیں اور دوسروں کو بنانے کی فکر کریں۔ آیت: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ، کا یہی مطلب ہے۔(اسوۂ رسولِ اکرم)
http://afif.in/

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here