Roze-ki-farziyat-ke-marahilke marahil, Nadeem Ahmed Ansari

Roze-ki-farziyat-ke-marahil

روزے کی فرضیت کے مراحل، ندیم احمد انصاری

اسلام میں روزہ بہ تدریج فرض ہوا۔ ابتداےاسلام میں یومِ عاشوراء کا روزہ فرض تھا، ۲ھ؁ میں رمضان المبارک کا روزہ فرض ہوا اور یومِ عاشوراء کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں ۹؍ رمضان کے روزے رکھے۔ (زاد المعاد: ۲۲۳)صدیقہ بنت صدیق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ قریش زمانۂ جاہلیت میں یومِ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی یہ روزہ رکھتے تھے، جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے، تب بھی آپﷺ نے روزہ رکھا لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئی، پس اب جو چاہے عاشوراء کا (نفلی) روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ (بخاری)

روزے کی فرضیت کے مراحل
موجودہ رمضان المبارک کے روزے، دو مرحلوں سے گزرنے کے بعد تیسرے مرحلے میں منضبط ہوئے، اس اعتبار سے بنیادی طور پر روزے کی فرضیت کے تین مرحلے ہوتے ہیں:
اول؛ اختیار کے طور پر۔
یعنی جو چاہے روزہ رکھے اور چاہے نہ رکھےاور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلادے، جسے ’فدیہ‘ کہا گیا ہے۔ وَعَلیَ الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنَ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَہُوَ خَیْرٌ لَّہٗ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌلَّکُمْ۔ (البقرۃ: ۱۸۴)
دوم؛ لازمی طور پر۔
جب دوسری آیت: فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ۔(البقرۃ: ۱۸۵) (یعنی تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے، اس پر لازم ہے کہ وہ پورے مہینے روزہ رکھے۔)نازل ہوئی تو اختیارِ صوم کا حکم غیر معذور کے حکم میں منسوخ ہوگیااور روزہ رکھنا لازم قرار پایا، البتہ وقت کے متعلق حکم یہ تھا کہ مغرب بعد جب روزے دار سوجائے گا تو اس کا روزہ شروع ہوجائے گا، اٹھ کر اب کھانا پینا حرام تھا۔ لہٰذا! اگر کسی نے افطار کیا اور کچھ کھائے پیے بغیر سو گیا تو اب اس کے لیے آئندہ غروبِ آفتاب تک کھانا پینا حرام ہوگیا، اگر کوئی کچھ کھاتا پیتا تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا۔
سوم؛ آسانی کا حکم۔
دوسرے مرحلے کے حکم پر عمل جاری تھا کہ قیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ کی بے ہوشی کا واقعہ پیش آیا اور رسول اللہ ﷺ سے ان کا واقعہ بیان کیا گیا، اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلیٰ نِسَائِکُمْ۔(البقرۃ: ۱۸۷) یعنی حلال کردیا تمھارے لیے روزوں کی رات میں اپنی بیویوں سے مشغول ہونا۔ نیز ارشاد فرمایا: وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتیّٰ یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۔ (البقرۃ: ۱۸۷) یعنی کھائوپیو، جب تک کہ تم پر صبح کا سفید خط سیاہ خط سے نمایاں نہ ہوجائے۔
اس طرح رات کا روزہ ختم ہوگیا اور سونے کے بعد اٹھ کر کھانا پینا اور بیوی سے ہم بستری درست قرار پائی اور روزے کا وقت صبحِ صادق سے شروع ہوکر غروبِ آفتاب پر ختم ہونے لگا، یہ تیسرا اور آخری مرحلہ تھا، اب تا قیامت اسی پر عمل جاری رہے گا۔ (بخاری، زاد المعاد )

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here