Zauq-e-Adab By Nadeem Ahmed Ansari

Download

        کتاب: ذوقِ ادب

        تصنیف: ندیم احمد انصاری

        صفحات: 144

        تعداد:500

        سنِ اشاعت:2017ء

        قیمت: 120روپے

        ناشر: الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا

ISBN :  978-93-5262-504-02

اس کتاب کے متعلق پروفیسر صاحب علی(صدر شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی) رقم طراز ہیں:

ندیم احمد انصاری کو تمام علوم و فنون سیکھنے اور تمام تہذیبوں اور قدروں کو جاننے اور سمجھنے کا فطری شوق ہے۔ اُن کا یہی شوق انھیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔۔۔ وہ ایم اے کے طالبِ علمی کے زمانے ہی سے ادبی، علمی، اسلامی اور سماجی مسائل پر مضامین وغیرہ لکھتے رہے ہیں جو متعدد اخباروں و رسالوں میں تسلسل سے چھپتے رہے ہیں۔ خاص ذوق کی بنا پر وہ اسلامیات سے متعلق نہ صرف مضامین لکھتے ہیں بلکہ وہ اس وقت متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ’تعلیمِ اسلام‘، ’نمازِ محمود‘، ’شبِ محمود‘، ’صومِ محمود‘ اور’ مومن اور اسلامی سال‘ جیسی تصانیف شائع ہوکر اہلِ نظر سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں، جب کہ ’قرآنیات‘، ’نورِ ہدایت‘، ’فکر و نظر‘اور ’رسائلِ ابنِ یامین‘  زیرِ طبع ہیں۔اس کے علاوہ ان کی ایک اور تازہ تالیف ’ذوقِ ادب‘ کے عنوان سے آرہی ہے۔یہ ایک علمی و ادبی کتاب ہے، جس میں چار ابواب کے تحت دس مضامین ہیں۔ اس کا پہلا باب ’مباحث‘ کے عنوان سے ہے۔ اس باب میں تین منفرد علمی مضامین ہیں، یہ مضامین اُردو زبان و ادب میں تازہ نور کی بشارت دیتے ہیں۔ اُردو ادب میں اس نوع کے مضامین اب کم نظر آتے ہیں۔ دوسرا باب ’مشاہیر‘ کے نام سے درج ہے۔ اس باب میں تین مضامین ہیں جو ہمارے نام وَر شعرا؛ مولانا محمد قاسم نانوتوی(جو اصلاً عالمِ دین کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں)، مرزا سلامت علی دبیر اور علامہ سیماب اکبرآبادی سے متعلق ہیں۔ ندیم احمد انصاری نے ابتداء ً مذکورہ شعرا کی ابتدائی زندگی قلم بند کی ہے، پھر اُن کی شاعری پر اظہارِ خیال اس طور سے کیا ہے کہ ان کی شاعری کے امتیازات روشن ہو گئے ہیں۔ تیسرا باب ’مسائل‘ کے عنوان سے ہے، اس کے تحت دو علمی مضامین؛ ’اُردو املا میں ہاے ہوّز اور دو چشمی ہِے کا عمل‘ اور ’تبصرے کے لیے علم و بصیرت ناگزیر‘ کے عنوانات سے ہیں۔ ہاے ہوّذ (ہ) اور دو چشمی ہِے (ھ) لکھنے میں جو لوگ صحیح املا کے ضابطے کا لحاظ نہیں رکھتے، ان کی توجہ صحیح املا لکھنے کی طرف مبذول کرائی گئی ہے، تاکہ کسی بھی تحریر کا اصل متن صحت مند رہے۔ ادبی تبصروں کی اپنی ایک الگ اہمیت و افادیت ہوتی ہے، تبصرے اپنا ایک ضابطہ بھی رکھتے ہیں۔ اگر کوئی تحریر تبصرے کے ضابطے کے دایرے میں نہیں آتی تو اسے ’تبصرہ‘ کیوں کر کہا جا سکتا ہے۔ ندیم احمد انصاری نے اپنے مضمون میں تبصرے کے ضابطے اور اجزاے ترکیبی پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے، یہ مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ چوتھا باب ’صحافت‘ سے متعلق ہے، اس میں دو مضامین ہیں، پہلامضمون ’سر سیّد احمد خاں اور اُردو صحافت‘ کے عنوان سے ہے۔اس مضمون میں صاحبِ کتاب نے ابتداء ً اُردو صحافت کی اہمیت اور اس کی مختصر ترین تاریخ بیان کی ہے پھر سر سیّد کی صحافتی خدمات کا بتفصیل جایزہ مع مثالوں کےلیا ہے۔ دو سرا مضمون ’میڈیا کے اخلاقی پہلو‘ ہے۔ آج کل یہ بات عام آدمی بھی جانتا ہے کہ میڈیا کا اخلاقی پہلو زوال آمادہ ہے، ندیم احمد انصاری نے اس کے اخلاقی پہلوؤں پر قابلِ لحاظ گفتگو کی ہے اور میڈیا کو آئینہ دکھایا ہے۔

READ  Qur'aaiyaat By Maulana Nadeem Ahmed Ansari

        ’ذوقِ ادب‘ ندیم احمد انصاری کی غالباً پہلی ادبی کتاب ہے۔ کتاب کے مندرجات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُنھیں اسلامیات کے موضوعات سے کافی رغبت ہے، چناں چہ وہ اسلامی و علمی قلم کاروں کی تصانیف میں ادبی عناصر کی تلاش و جستجو میں اپنا قلم رواں رکھتے ہیں۔اس کتاب کے تمام مضامین میں جو مواد جمع کیا گیا ہے، وہ اہم حوالوں کے ساتھ اور لائقِ مطالعہ ہے۔

۴؍اپریل ۲۰۱۶ء

۔۔۔

نیزمولانا محمد اسلام قاسمی(استاذِ حدیث و صدر شعبۂ عربی ادب، دارالعلوم وقف دیوبند)رقم طراز ہیں:

وہ چند نام جن سے اردو حلقے ناواقف نہیں ہیں، ان میں ہم ندیم احمد انصاری کا نام بھی شامل کر سکتے ہیں، ان کے مضامین اخبارات میں مسلسل شائع ہوتے اور اپنی زبان و ادایگی کی بنا پر پسند بھی کیے جاتے ہیں۔ ندیم احمد انصاری نے اپنا قلمی سفر کامیابی کے ساتھ جاری رکھا ہے اور اپنی ہنرمندی کا مختلف موضوعات پر ثبوت فراہم کیا ہے۔عام طور پر ان کے مضامین دینی موضوعات پر مشتمل ہوتے ہیں، اور گذشتہ چند سالوں میں ہی انھوں نے ان دینی و علمی عنوانات پر کئی بیش قیمتی تالیفات مرتب کی ہیں‘ جو شائع ہو کر علمی حلقوں میں مقبولیت بھی حاصل کرچکی ہیں، مگر ان کے مزاج میں ادبی ذوق بھی ہے، اردو زبان و ادب، شعر و شاعری اور صحافت پر بھی ان کی نظر ہے، خود بھی اچھاذوقِ ادب رکھتے ہیں، پیشِ نظر مجموعہ ان کے اس ذوق کا عکس ہے۔

READ  Rabi'us saani By Maulana Nadeem Ahmed Ansari

سرِدست مولانا ندیم احمد انصاری کی کتاب ’ذوقِ ادب‘ کا مسودہ میرے سامنے ہے، انھوں نے جن عنوانات پر خامہ فرسائی کی ہے کہنا چاہیے یہ خامہ فرسائی ایک کامیاب قلم کار بلکہ ایک پختہ کار قلم کار کی کوشش کا خوبصورت نتیجہ اور اظہار ہے۔ندیم احمد انصاری کو پڑھنے والے لوگ اچھی طرح جانتےہیں کہ وہ اپنی بات بغیر غوروفکر کے کہنے کے عادی نہیں اور جس موضوع کو اختیار کرتے ہیں اس پر مطالعہ اور معلومات کیے بغیر کچھ نہیں لکھتے‘ معتبریت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب آدمی کی تحریر تاریخی اور حقیقی شواہد کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہو۔’ذوقِ ادب ‘میں چار ابواب ہیں اور ہر باب کے تحت ہر عنوان کو دلکش اور مکمل انداز میں شروع کیااور اختتام تک پہنچایا ہے۔ پہلا باب منظوم ترجمہ و تفسیرِ قرآن اردو ادب کا روشن باب، اطراف و جوانب کو گھیرے ہوئے ہے اور اپنے موضوع کے ساتھ انصاف کرتا ہے، دوسرا مضمون نفس شاعری احادیث کی روشنی میں اور تیسرا مضمون علماے ادبِ اُردو کی نظر میں مذہبی شخصیات و تصنیفات کی ادبی اہمیت، دوسرا، تیسرا اور چوتھا باب بھی وقیع عنوانات کا حامل ہے۔ مولانا قاسم نانوتوی ؒ، سرسیّد احمد خانؒ، مرزا سلامت علی دبیر، علامہ سیماب اکبرآبادی وغیرہ کی شاعری اور نثری خدمات کو زیرِقلم لایا گیا اور تحقیق کے ساتھ اپنی بات کہی گئی ہے۔ ندیم احمد انصاری کا اسلوب سادہ بھی ہے اور شگفتہ بھی‘ تحقیقی اور تاریخی موضوعات میں قلم کی شگفتگی کا زیادہ اہتمام نہیں کیا جاتا اور شاید لکھنے والے کے لیے یہ ممکن بھی نہیں ہوتا، مگر ندیم احمد انصاری نے بڑی شستہ اور رواں اردو لکھی ہے،جو ان کے قادرالقلم ہونے کی نشانی ہے۔ خوبصورت لکھتے ہیں اور بات کو سلیقے کے ساتھ سمیٹنے کی صلاحیت ان میں کافی ہے۔ یہ مضامین اہلِ ذوق کے لیے یقینی طور پر ایک قیمتی سوغات ہیں کہ پڑھنے والے کو معلومات حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ زبان کی خوبصورتی اور خوبی پر بھی واقفیت حاصل ہوتی ہے، بلکہ وہ یہ دلکش زبان پڑھ کر کتاب سے اس وقت تک دوری اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا جب تک مکمل کتاب کے مطالعے سے فارغ نہ ہوجائے۔

READ  قیلولہ سنت بھی آرام بھی، ندیم احمد انصاری

کتاب کا مسودہ بتا رہا ہے کہ ندیم احمد انصاری کا ذوق ستھرا ہے، جن موضوعات کا انھوںنے انتخاب کیا وہ ان کے نظیف اور شگفتہ فکر کی علامت ہے،اس لیے کہ ان موضوعات کو اختیار کرنے والا خود بھی یقیناً شگفتہ مزاج اور شگفتہ طبیعت انسان ہوگا۔ خداوندِقدوس اس کتاب کو ان کے مضامین اور دیگر تصنیفات کی طرح قبولیت ِ عام سے سرفراز فرمائے۔ آمین

 

Check Also

Seerat-e-Rasool SAW by Maulana Nadeem Ahmed Ansari

4 4shares 4 4sharesREAD  خود پسندی: تعریف، حقیقت، اسباب و علاج، ندیم احمد انصاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *