سیدنا حضرت محمد ﷺ کی نبوّت اور ختمِ نبوت

مولانا ندیم احمد انصاری

ایمان کے جو بنیادی ارکان ہیں، اُن میں رسول اللہﷺ پر ایمان لانا بھی داخل ہے، اگر کوئی شخص اللہ پر ایمان لانے کا دعوے دار ہو اور آپﷺ کی رسالت کا انکار کرے، اُسے مومن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ارشاد ربانی ہے:{ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْابِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ}اے ایمان والو! ایمان لاؤ تم اللہ پراور اُس کے رسول پر الخ۔ (النساء)نیز ارشاد فرمایا:{وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ اُولٰئِکَ ہُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ}اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، وہی اپنے پروردگار کے نزدیک سچے ہیں۔(الحدید)سیدنا حضرت محمدﷺ چوں کہ آخری نبی ہیں،اس لیے اب مومن ہونے کے لیے لازم ہے کہ سابقہ تمام انبیا پر جزوی طور پر اور آپﷺ پر کلی طور پر ایمان لائے۔قرآنِ کریم میں ہے: {مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ}محمد اللہ کے رسول ہیں۔ (الفتح)

ایمان کی تکمیل کے لیے جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو معبود ماننے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اُس کے علاوہ کسی کو حقیقی معبود نہ مانے، اسی طرح حضرت محمدﷺ کو نبی و رسول ماننے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول و نبی مانے۔آپﷺ کے آخری نبی ہونے کا بیان قرآن و احادیث میں اس کثرت و وضاحت سے آیا ہے، جس میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش ہے نہ انکار کی۔ اس مسئلے میں ہر دور کے مسلمانوں کا اجماع رہا ہے، بلکہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جس مسئلے پر سب سے پہلے اجماع ہوا، وہ یہی ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ، وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمَا۔محمدﷺ تمھارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، ہاں اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے خاتم ہیں، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ (الاحزاب)اس اعلانِ خداوندی کے بعد کسی کا منہ نہ رہا کہ وہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے، لیکن افسوس کہ اس قدر صریح ارشاد کے باوجود متعدد ایسے ناہنجار پیدا ہوتے رہے، جنھوں نے اس مقامِ عالی شان کو اپنی ہوس کا شکار بنانے کی کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ایسے جیالے بھی پیدا کیے جنھوں نے ان ملعونوں کو دھول چٹانے اور اُن کے تمام جھوٹے دعووں اور دلیلوں کا دندانِ شکن جواب دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

حضرت زید ابن حارثہؓروایت کرتے ہیں کہ جب میںرسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر مسلمان ہو گیا تو میرا قبیلہ مجھے تلاش کرتا ہوا آپ ﷺ کے پاس آیا اور مجھ سے کہا: اے زید! ہمارے ساتھ چلو۔ انھوں نے کہا: مَیں رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں کسی کو پسند نہیں کرتا اور نہ آپ ﷺ کے سوا کسی کا ارادہ رکھتا ہوں۔ انھوں نے آپ ﷺ سے مخاطب ہو کر کہا: اے محمد! اس لڑکے کے عوض میں ہم آپ کو بہت سا مال دے سکتے ہیں، جو آپ چاہیں ہمیں بتلا دیں، ہم اُسے ادا کر دیں گے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تم سے صرف ایک چیز مانگتا ہوں، وہ یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور اس بات کی کہ میں اُس کے بھیجے ہوئے تمام نبیوں اور رسولوں میں آخری نبی اور رسول ہوں۔ اگر تم ایسا کرو تو میں ابھی اس لڑکے کو تمھارے ساتھ بھیجے دیتا ہوں۔ (مستدرک حاکم)

اس حدیث میں جس طرح رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی توحید پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا، اسی کے ساتھ ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کا مطالبہ بھی کیا، وجہ یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا، آپ کی ختمِ نبوت پر ایمان لائے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ قرآنِ کریم میں {وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہ}کے ساتھ {وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} کا لفظ بھی اسی لیے استعمال کیا گیا کہ آپ ﷺ صرف رسول اللہ نہیں ہیں بلکہ خاتم النبیین بھی ہیں۔ یہ آپ ﷺ کا مخصوص لقب ہے اور آپ ﷺنے ہی اس کا دعویٰ کیا ہے، آپ سے پہلے کبھی کسی نبی نے یہ دعویٰ نہیں کیا۔ مذکورہ بالا حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا یہ لقب بہ طور ر مدح نہیں،بلکہ عقیدے کی حیثیت سے ہے۔ خاتم المحدثین یا خاتم الشعراء کی طرح صرف ایک محاورہ نہیں ہے۔ (ترجمان السنۃ، بتغیر)

معلوم ہوا کہ جہانوں کا سردار آچکا، اب کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گااور دنیا اسی کے زیرِ رسالت و سیادت ختم ہو گی۔قرآنِ کریم میں ہے: یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ، فَمَنِ اتَّقٰی وَاَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْن۔اے آدم کی اولاد! (دیکھو) تمھارے پاس تم میں سے ہی رسول آئیں گے، جو میری آیتیں تمھیں پڑھ پڑھ کر سنائیں گے، جس نے تقوے کی راہ اختیار کی اور نیک رہا تو اُس پر نہ گذشتہ کا خوف نہ آیندہ کا غم۔(الاعراف)اس اعلان کے مطابق خدا تعالیٰ کی زمین پر بہت سے رسول آئے، مگر کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خاتم النبیین ہے، بلکہ ہر رسول نے اپنے بعد دوسرا رسول آنے کی بشارت سنائی، حتیّٰ کہ وہ زمانہ آگیا جب کہ اسرائیلی سلسلے کے آخری رسول نے اسماعیلی سلسلے کے اُس رسول کی بشارت دے دی، جس کا اسمِ مبارک’احمد‘ ہے۔وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْٓ اِسْرَائِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰئۃِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِن بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ۔اور جب کہ عیسیٰ بن مریم نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں تمھارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں، مجھ سے پہلے جو توراۃ ہے مَیں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں، جن کا نام احمد ہوگا، ان کی بشارت دینے والا ہوں۔(الصف)پھر عالم کے اس منتظر اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام کے اس مبشر رسول نے دنیا میں آکر ایک نیا اعلان کیا اور وہ یہ تھا کہ میں اب آخری رسول ہوں، خود عالَم کا زمانہ بھی آخر ہے اور ہاتھ کی دو اُنگلیوں سے اشارہ کرکے فرمایا کہ میں اور قیامت اِس طرح قریب قریب ہیں، عالم اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے، قصرِ نبوت میں ایک ہی اینٹ باقی تھی، وہ میری آمد سے پوری ہو گئی ہے۔ دونوں تعمیریں مکمل ہو گئیں ہیں، اب صلاح و تقوے کا نتیجہ دیکھنے کا زمانہ آتا ہے۔ (ترجمان السنۃ، بتغیر)

اسی لیے علماے اسلام نے دو ٹوک الفاظ میں لکھا ہے کہ ہمارے نبی، رسول اللہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین اور رحمۃ للعالمین ہیں، اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کو آپ پر ختم کر دیا ہے۔ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ کی نبوت کے بعد نبوت کا دروازہ بند کر دیا گیا، اب آپ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا اور آپ کا لایا ہوا دین تمام گذشتہ دینوں کا ناسخ ہے، آپ کی لائی ہوئی کتاب ، تمام گذشتہ کتابوں کے احکام کی ناسخ ہے۔ قیامت تک کے لیے صرف آپ ﷺ کا دین اور آپ کی شریعت کا اتباع فرض ہے اور اس کے سوا تمام دینوں کا ترک کرنا لازم ہے، سوائے آپ ﷺ کی پیروی کے اللہ سبحانہ وتعالیٰ تک پہنچنے کی سب راہیں بند کر دی گئی ہیں اور آپﷺ کی شریعت تمام شریعتوں کی ناسخ ہے، اب قیامت تک آپ ہی کی شریعت رہے گی اور کبھی منسوخ نہ ہوگی۔ جو شخص آں حضرت ﷺ کو خاتم النبیین نہ سمجھے، وہ بلا شبہ کافر ہے اور جو شخص آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ بلا شبہ کافر ہے۔ (عقائد الاسلام، بتغیر) نیز جن فرقوں نے رسول اللہ ﷺ پر ختمِ نبوت کا انکار کرکے نبی کے لیے دروازہ کھولنا چاہا اور قرآنِ کریم کی واضح تصریح خاتم النبیین کو اپنے مقصد میں حائل پایا تو انھوں نے رسول و نبی کی بہت سی قسمیں اپنی طرف سے اختراع کر لیں، جن کا نام نبیِ ظلّی، نبیِ بروزی وغیرہ رکھ دیا، اور ان کے لیے گنجائش نکالنے کی کوشش کی، مذکورالصدر آیت نے ان کے دجل و گمراہی کو بھی واضح کر دیا، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرامؓکے ایمان بالرسل میں کسی ظلی و بروزی کا کہیں نام و نشان نہیں، یہ کھلا ہوا زندقہ اور الحاد ہے۔ (معارف القرآن)

البتہ اس تفصیل سے کسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قُربِ قیامت واپس آنے سے آپ ﷺ کی ختم نبوت پر اشکال نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کہ خاتم النبیین اور آخر النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص عہدۂ نبوت پر فائز نہیں ہوگا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ ﷺسے پہلے جس کو نبوت عطا ہو چکی ہے، اُن کی نبوت بھی سلب ہو جائے گی، یا اُن میں سے کوئی اِس عالم میں پھر نہیں آسکتا، البتہ آں حضرت ﷺ کے بعد جو بھی آپ ﷺکی امت میں اصلاح و تبلیغ کے لیے آئے گا، وہ اپنے منصبِ نبوّت پر قائم رہتے ہوئے، اس امت میں اصلاح کی خدمت آں حضرت ﷺ کی تعلیمات ہی کے تابع رہ کر انجام دے گا، جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں تصریح ہے۔ (معارف القرآن، بتغیر)

اس اشکال کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا، جیسے آخری اولاد اور آخری بیٹے کے یہ معنی ہیں کہ اِس کے بعد کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ ﷺ سے پہلے پیدا ہوئے اور آپ سے پہلے پیغمبر ہوئے، اس لیے اُن کا نزول ختمِ نبوت کے معارض نہیں۔ (دیکھیے مسلک الختام من ختم النبوۃ: 36)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here