ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
حج ۲۰۲۶ء کی تیاریاں جاری ہیں۔ حج کمیٹی کے بعد پرائیویٹ ٹورس میں ۱۵؍جنوری آخری تاریخ ہے۔ استطاعت پائے جانے پر ہر مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض ہوتا ہے، حج کی فرضیت سے کسی مسلمان کو انکار نہیں، جو انکار کرے وہ مسلمان نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک المیہ ہے آج عملی طور پر بہت سے مسلمان اس فرض سے نہ صرف غافل بلکہ عملاً منکر نظر آتے ہیں۔ بعض تو شاید یہ سمجھتے ہیں کہ حج قبر میں جانے سے پہلے کا عمل ہے۔ جب سے کچھ سمجھ بوجھ آتی ہے تب سے دنیاداری میں ایسے لگتے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ ہروقت ننیانوے کے پھیر میں رہتے ہیں۔ کاروبار، دکان مکان، شادی بیاہ، اولاد کی تعلیم، پھر اولاد کی شادی بیاہ وغیرہ وغیرہ کو تو ذمّےداری سمجھتے ہیں لیکن حج کی فکر نہیں کرتے۔فیملی کے ساتھ بار بار ہِل اسٹیشنوں پر جا کر موج مستی کرنے والے، جو ایک ایک سفر میں ایک ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ خرچ کر دیتے ہیں، یا وہ لوگ جو اپنی یا اپنی اولاد کی شادی اور اس کی رسموں میں آٹھ دس لاک روپے اڑائے بغیر چین کا سانس نہیں لیتے، یا وہ لوگ جو ذاتی مکان میں رہتے ہوئے بیس لاکھ اور پچاس لاکھ کا دوسرا مکان خریدتے ہیں، جب انھیں حج کی ادایگی کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ابھی ہماری حج کی استطاعت نہیں۔ ان کے نزدیک حج شاید اس وقت کرنا ہوتا ہے جب کہ دنیا کے تمام جھمیلوں کے بعد بالکل ہی فالتو رقم پڑی ہو۔ ورنہ پانچ چھے لاکھ میں پرائیویٹ ٹورس سے مناسب پیکیج مل جانے کے باوجود وہ اسلام کے اس بنیادی رکن کو ادا کرنے میں ایسی غفلت نہ برتتے۔بنیادی ضرورتوں کے علاوہ تمام چیزیں استطاعت میں شمار ہوتی ہیں، ایک گھر میں رہتے ہوئے دوسرا مکان موجود ہو تو بعض علما نے لکھا ہے کہ اسے بیچ کر حج کرنا فرض ہے، بعض نے کہا کہ اگر کوئی اتنے بڑے یا عالی شان مکان میں رہتا ہو کہ اس سے کم میں گزارہ ہو سکے تو اسے چاہیے کہ اس بڑے اور عالی شان مکان کو بیچ کر حج کرے اور بہ قدرِ ضرورت مکان میں رہائش اختیار کرے۔شادی بیاہ کے خرچوں کا عذر تو چل ہی نہیں سکتا اور یہ تو انسان کے اپنے اختیار ہوتا ہے، ایک ایک لاکھ کے ہال بک کرنا، دو تین چار لاکھ سجاوٹ اور کھانوں پر خرچ کر دینا، عام سی بات ہو گئی ہے۔ ہماری بات نہ مانیے، جس پر اعتماد ہو ایسے کسی ذمّےدار مفتی سے جا کر ذرا معلوم کیجیے کہ کیا اس صورت میںحج میں تاخیر کرنا جائز ہو سکتا ہے؟
جب کوئی حج و عمرے کو جا رہا ہو تو بڑی معصومیت سے کہتے ہیں کہ ہمارے لیے بھی دعا کرنا اللہ تعالیٰ ہمیں بھی وہ مبارک گھر دکھا دے۔ نظمیں سنتے اور پڑھتے ہیں ’’میرا دل تڑپ رہا ہے، میرا جل رہا ہے سینہ، یہ دوا وہیں ملےگی، مجھے لے چلو مدینہ‘‘ لیکن وہاں جانے کی خود کوئی کوشش نہیں کرتے۔ حال یہ ہے کہ دنیا کی تمام حسرتوں کو پورا کرنے کے بعد جب منھ میں دانت بچتے ہیں اور نہ پیٹ میں آنت، جب کہ اپنے پیروں پر چلنا تو دور کھڑے رہنا بھی ممکن نہیں رہتا، اس وقت کہیں جا کر اس طرف توجہ ہوتی ہے اور کتنے تو حج فرض ہونے کے باوجود ادا کیے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا: ﴿وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِّیٌ عَنِ الْعَالَمِیْنَ﴾لوگوں پر اللہ کا حق یعنی فرض ہے کہ جو اس گھر (کعبے) تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے، اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو اللہ بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے۔ [آل عمران: 97]ایک مشہور حدیث میں ہے؛ جس کے راوی حضرت علیؓہیں، حضرت نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جوشخص سامانِ سفر اور اپنی سواری کی ملکیت رکھتا ہو کہ وہ اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے، پھر اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر مرے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے:﴿وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾۔[ترمذی: 812] حضرت عمرؓسے بھی یہ مضمون نقل کیا گیا کہ انھوں نے تین دفعہ فرمایا کہ یہودی ہو کر مرے، چاہے نصرانی مرے۔ دوسری حدیث میں حضرت عمرؓسے یہ نقل کیا گیا کہ جو شخص حج کی طاقت رکھتا ہو اور حج نہ کرے قسم کھا کر کہہ دو کہ وہ نصرانی مرا ہے یا یہودی مرا ہے۔ حضرت عمرؓکا یہ ارشاد ممکن ہے کہ ان کی یہی تحقیق ہو، ورنہ علما کے نزدیک حج نہ کرنے سے کافر نہیں ہوتا ، انکار سے کافر ہوتا ہے۔ ایک اور حدیث میں حضرت عمرؓسے نقل کیا گیا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ تمام شہروں میں اعلان کر دوں کہ جو شخص با وجود قدرت کے حج نہ کرے، اس پر جزیہ مقرر کر دیا جائے ، یہ مسلمان نہیں ، مسلمان نہیں۔[فضائلِ حج: 670]
اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں حج کو ایک خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ صرف ایک عبادت نہیں بلکہ بندے کی اپنے رب سے والہانہ محبت، اطاعت اور قربانی کا عملی مظاہرہ ہے۔ یہ افسوس ناک امر ہے کہ آج کل ہمارے معاشرے میں صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود حج کو مؤخر کرنے اور اس میں سستی برتنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جو کہ ایک سنگین دینی کوتاہی ہے۔ جمہور علما و فقہا کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جب کسی مسلمان کے پاس ضروریاتِ اصلیہ سے زائد اتنا مال ہو کہ وہ حج کے اخراجات برداشت کر سکے اور صحت بھی ہو تو اس پر اسی سال حج کرنا فرض ہو جاتا ہے، اسے بلا عذر آیندہ پر ٹالنا گناہ ہے۔ انسان نہیں جانتا کہ اگلے برس وہ زندہ بھی رہے گا یا نہیں یا اس کی مالی حالت کیسی ہوگی۔لوگ عموماً دنیا کو ترجیح دیتے ہوئے حج کو ٹالتے رہتے ہیں، اکثر لوگ حج کے لیے بڑھاپے کا انتظار کرتے ہیں، یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ ابھی تو جوانی ہے، حج بڑھاپے میں کریں گے، حالاںکہ حج ایک مشقت طلب عبادت ہے۔ طواف، سعی، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات کے اعمال کے لیے جسمانی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے، جو جوانی میں میسر ہوتی ہے۔ بڑھاپے میں انسان عبادت کا وہ حق ادا نہیں کر پاتا جو جوانی میں کر سکتا ہے۔ بہت سے والدین کہتے ہیں کہ پہلے بیٹی؍بیٹے کی شادی کر لیں، پھر اللہ کے گھر جائیں گے۔ شریعت نے عام حالات میں اولاد کی شادی کو حج میں تاخیر کا عذر شمار نہیں کیا۔ اگر حج فرض ہو چکا ہے تو اپنی شادی سے پہلے بھی حج کرنا ضروری ہے، چے جائے کہ اولاد کی شادی کے لیے تاخیر کی جائے۔ بعض لوگ اچھا مکان بنانے یا کاروبار کو وسیع کرنے کے چکر میں حج کو مؤخر کرتے رہتے ہیں، دنیا کی تعمیر کی خاطر آخرت کی تعمیر کو خطرے میں ڈالنا عقل مندی نہیں۔ کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ابھی حج کر لیا اور بعد میں گناہ ہو گیا تو کیا ہوگا؟ یہ بھی شیطانی دھوکا ہے، حج تو گناہوں کو دھو ڈالتا ہے اور انسان کی کایا پلٹ کر دیتا ہے، نیکی کی توفیق پر گناہ کے خوف کو حاوی نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی یاد رکھیے کہ حج میں تاخیر کرنے سے دنیوی و اخروی ہر دو قسم کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جو شخص اللہ کے حکم کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے اس کی جان و مال سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔اگر خدانہ خواستہ حج فرض ہونے کے باوجود ادا کیے بغیر موت آ گئی تو انسان اللہ کے ہاں جواب دہ ہوگا اور ایک فرض اس کے ذمے باقی رہ جائے گا۔ پھر انسان کے حالات بدلتے دیر نہیں لگتی، آج صحت اور پیسہ ہے، کل ہو نہ ہو۔ مہنگائی، بیماری یا ناگہانی آفت انسان کو استطاعت سے محروم کر سکتی ہے۔حجِ بیت اللہ عاشقوں کا سفر، عشق کا مظہر اور اللہ کے مہمان بننے کا شرف ہے، اسے بوجھ سمجھنے کے بجائے ایک عظیم سعادت سمجھنا چاہیے۔ اس لیے جیسے ہی استطاعت ہو، تمام دنیوی حیلے بہانے چھوڑ کر لبیک کہنا اور رختِ سفر باندھ لینا چاہیے۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ ’آج‘ کا کام ’کل‘ پر نہ ٹالا جائے، بالخصوص جب معاملہ اللہ کے فرض کا ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں سستی و کاہلی سے بچائے اور جلد از جلد حجِ مبرور نصیب فرمائے۔ آمین
[کالم نگار الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے صدر و مفتی ہیں]






