قرآن کا پیغام (پارہ:۱۷)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا سترھواں پارہ ﴿اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ﴾ دو اہم سورتوں پر مشتمل ہے: سورہ الانبیاء اور سورہ الحج۔ یہ پارہ عقائد، تاریخ، احکامات اور قیامت کے مناظر کا ایک عظیم سنگم ہے۔
سورۃ الانبیاء
انسانی غفلت اور حساب کا قریب ہونا:یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس کا مرکزی موضوع ’نبوت‘ اور ’حساب‘ ہے۔ پہلی ہی آیت میں فرمایا: ﴿اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ﴾ لوگوں کے لیے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا ہے اور وہ ہیں کہ غفلت کی حالت میں منھ پھیرے ہوئے ہیں۔ گویا پارے کا آغاز ایک سخت وارننگ [Warning] سے ہوتا ہے کہ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ پہنچا ہے مگر وہ اب بھی کھیل تماشوں اور غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ مشرکینِ مکہ اعتراض کرتے تھے کہ کیا یہ شخص (حضرت محمد ﷺ) ہمارے جیسے ہی ایک آدمی ہیں؟ اللہ نے جواب دیا کہ تمام انبیا آدمی ہی تھے: ﴿وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ﴾۔
انقلابِ ابراہیمی: اس سورت میں حضرت ابراہیمؑ کے اس عظیم واقعے کا ذکر بھی ہے جب انھوں نے اپنی قوم کے بتوں کو پاش پاش کر دیا تھا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا تو انھوں نے کمالِ حکمت سے بڑے بت کی طرف اشارہ کیا، تاکہ قوم کو ان کی بے بسی کا احساس دلائیں۔ قوم اس کی تاب نہ لا سکی اور انھیں سزا دینی چاہی اور کہا: ﴿حَرِّقُـوْهُ وَانْصُرُوْٓا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ ﴾ اس شخص کو آگ میں جلا ڈالو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو، اگر تم میں کچھ کرنے کا دم خم ہے۔ لیکن جب قوم نے انھیں آگ میں ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلْنَا يٰنَارُكُـوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ ﴾ہم نے کہا : اے آگ ! ٹھندی ہوجا اور ابراہیم کے لیے سلامتی بن جا۔
انبیا کی دعائیں اور قبولیت: یہ سورت مصیبت زدہ لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے، اس میں متعدد انبیاےکرام ؑ کی دعاؤں کے قبول ہونے کا ذکر ہے:(۱) حضرت نوحؑ: جب انھوں نے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں عظیم کرب سے نجات دی ﴿وَنُوْحًا اِذْ نَادٰي مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّيْنٰهُ وَاَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ﴾(۲)حضرت ایوبؑ: سالہا سال کی بیماری کے بعد جب انھوں نے دعا کی﴿اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ ﴾مجھے یہ تکلیف لگ گئی ہے، اور آپ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں! تو اللہ تعالیٰ نے انھیں شفاے کاملہ دے دی (۳)حضرت یونسؑ: مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں ان کی پکار ﴿ لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ﴾کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور انھیں غم سے نجات دی(۴)حضرت زکریاؑ: بڑھاپے میں انھیں اولاد کی نعمت سے نواز دیا، جب کہ انھوں نے دعا کی: ﴿ رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ﴾یا رب ! مجھے اکیلا نہ چھوڑئیے، اور آپ سب سے بہتر وارث ہیں۔
رحمۃ للعالمین ﷺ کی آفاقیت: سورت کے آخر میں حضرت نبی کریم ﷺ کی آفاقی حیثیت کو بیان کیا گیا ہےکہ آپ صرف انسانوں کے یا صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں:﴿وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ﴾ اور (اے نبی جی) ہم نے آپ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت ہی رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
سورۃ الحج
قیامت کا زلزلہ: یہ سورت مدنی اور مکی دونوں خصوصیات کی حامل ہے۔ اس میں عقائد کے ساتھ ساتھ احکاماتِ حج بھی بیان ہوئے ہیں۔سورہ الحج کا آغاز ایک لرزہ خیز منظر سے ہوتا ہے:﴿يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ ﴾ اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو، یقین جانو کہ قیامت کا بھونچال بڑی زبردست چیز ہے۔ آگے فرمایا:﴿يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ﴾ جس دن وہ تمھیں نظر آجائےگا اس دن ہر دودھ پلانے والی اس بچّےتک کو بھول بیٹھےگی جسے اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا بیٹھےگی اور لوگ تمھیں یوں نظر آئیںگے کہ وہ نشے میں بدحواس ہیں، حالاںکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے ، بلکہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔
انسان کی تخلیق کے مراحل: منکرینِ آخرت کو دلیل دی گئی کہ اگر تمھیں دوبارہ جی اٹھنے میں شک ہے تو اپنی تخلیق پر غور کرو۔ کیسے اللہ تعالیٰ نے مٹی سے نطفہ، پھر خون کا لوتھڑا، اور پھر گوشت کی بوٹی بنا کر تمھیں ایک مکمل انسان بنایا: ﴿فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ۭ﴾۔ جو اللہ تعالیٰ بنجر زمین کو بارش کے ایک قطرے سے زندہ کر سکتا ہے، وہی مُردوں کو بھی زندہ کرےگا۔
بیت اللہ کی تعمیر اور حج: حضرت ابراہیمؑکو حکم دیا گیا کہ کعبے کی بنیادیں رکھیں اور لوگوں میں حج کا عام اعلان کریں: ﴿وَاَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ﴾ اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو کہ وہ تمھارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔
شرک کی بے بسی-مکھی کی مثال: اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب مثال بیان فرمائی کہ جن ہستیوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اسے واپس لینے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔
قومِ مسلم کا نام : پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عالمی شناخت اور ان کی ذمّے داریوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ ڏ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ ښ ﴾ اس نے تمھارا نام مسلم رکھا ہے تاکہ تم لوگوں پر حق کی گواہی دو، جس طرح رسول اللہﷺ تم پر گواہی دیتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کو ایک ایسی امت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کا رشتہ بہ راہِ راست حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت سے جڑا ہوا ہے۔
کامیابی کا نصاب: یہاں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا ایک مکمل نصاب بیان کیا ہے۔ اس میں نماز، زکوٰۃ اور اللہ تعالیٰ کی رسّی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہی تمھارا مولیٰ اور سرپرست ہے، اور وہ کتنا ہی بہترین مولیٰ اور بہترین مددگار ہے: ﴿فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ ۭ هُوَ مَوْلٰىكُمْ ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ﴾۔
خلاصۂ کلام:یہ پارہ انسان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ دنیا کی عارضی لذتوں سے نکل کر حقیقی بندگی کی طرف آئے جہاں اس کے تمام مسائل کا حل اللہ تعالیٰ کی نصرت میں پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے تمھارے لیے دین میں کوئی تنگی اور حرج نہیں رکھا، یہ تمھارے باپ حضرت ابراہیمؑ کی ملّت ہے۔اس پارے میں امید کا پیغام ہے کہ چاہے بیماری ہو، بے اولادی ہو یا دشمن کا خوف ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہی نجات کا واحد راستہ ہے۔یہ پارہ بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ زندگی مختصر ہے اور آخرت کا حساب برحق ہے۔






