سولھواںپارہ یہ پیغام دیتا ہے کہ کامیابی مادّی اسباب میں نہیں بلکہ اللہ کی پوشیدہ تدبیر پر یقین رکھنے میں ہے

قرآن کا پیغام (پارہ:۱۶)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید کا سولھواں پارہ ﴿قَالَ اَ لَمْ﴾ قرآنی مضامین کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ یہ پارہ تین سورتوں پر مشتمل ہے: سورہ کہف کا آخری حصہ، سورہ مریم (مکمل)، اور سورہ طہٰ کا بیش تر حصہ۔

تین حیرت انگیز واقعات اور ان کی توجیہ: اس پارے کا آغاز حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعے کے منطقی انجام سے ہوتا ہے۔ یہ قصہ انسانی علم کی محدودیت اور اللہ تعالیٰ کی وسیع حکمت کا آئینہ دار ہے۔ حضرت خضرؑنے ان تینوں کاموں کی حقیقت بیان کی جو حضرت موسیٰؑکے اضطراب کا باعث بنی تھیں: (۱) کشتی کو عیب دار بنانا: اس کا مقصد غریبوں کی روزی بچانا تھا کیوں کہ آگے ایک ظالم بادشاہ ہر سالم کشتی چھیننے والا تھا(۲) لڑکے کو قتل کرنا:وہ بچہ بڑا ہو کر اپنے صالح والدین کے لیے کفر اور فتنے کا پیش خیمہ تھا(۳)دیوار کی درستگی: ایک ایسی بستی جہاں کے لوگوں نے مسافروں کو کھانا کھلانے سے انکار کیا، وہاں حضرت خضرؑنے بغیر اجرت ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کر دی، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے نیچے دو یتیم بچوں کا خزانہ محفوظ تھا، اور ان کا باپ ایک نیک انسان تھا۔ ان واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو محض ظاہری حالات پر حکم نہیں لگانا چاہیے، کیوںکہ کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ کی پوشیدہ حکمتوں سے چل رہا ہے۔ ’مسلم شریف‘ میں ہے: رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے، اگر موسیٰ جلدی نہ کرتے تو بہت ہی عجیب عجیب باتیں ہم دیکھتے۔

ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج: اس کے بعد ایک عظیم عادل بادشاہ ذوالقرنین کا تذکرہ ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے زمین میں اقتدار اور اسباب عطا کیے تھے۔ انھوں نے مشرق و مغرب کے سفر کیے اور انسانیت کو یاجوج ماجوج کے فتنے سے بچانے کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر دیوار تعمیر کی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ طاقت جب ایمان کے ساتھ مل جاتی ہے تو وہ انسانیت کی عظیم خدمت کا ذریعہ بنتی ہے۔

اعمال کا ضیاع: سورہ کہف کے اختتام پر ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو سب سے بڑے خسارے میں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیوی کوششیں غلط راستے پر تھیں مگر وہ گمان کرتے تھے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی لامتناہی وسعت کا بیان ہے کہ اگر تمام سمندر روشنائی بن جائیں تب بھی اللہ تعالیٰ کے کلمات و عجائب لکھے نہیں جا سکتے۔ آخری آیت میں شرک و بدعت کا قلع قمع کرتے ہوئے فرمایا گیا:﴿قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰـــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا؀﴾کہہ دیجیے کہ میں تو تمھیں جیسا ایک انسان ہوں (البتہ) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا بس ایک خدا ہے۔ لہٰذا جس کسی کو اپنے مالک سے جاملنے کی امید ہو، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے مالک کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے۔

سورۃ مریم

حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا: سورہ مریم وہی سورت ہے جو حبشہ کی ہجرت کے وقت حضرت جعفر طیارؓنے شاہِ نجاشی کے دربار میں تلاوت کی تھی۔ سورت کا آغاز حضرت زکریاؑکی خاموش دعا سے ہوتا ہے ۔ انتہائی بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہوئے بغیر وارث کی دعا کی:﴿فَهَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا۝﴾۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی پکار سن لی اور انھیں حضرت یحییٰؑکی صورت میں ایسی اولاد دی جس کا نام پہلے کبھی کسی کا نہیں رکھا گیا تھا: ﴿يٰزَكَرِيَّآ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِۨ اسْمُهٗ يَحْــيٰى ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا۝﴾۔ یہ واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسباب کا محتاج نہیں اور ہمیں اسباب پر نظر رکھ کر دعا نہیں کرنی چاہیے۔

حضرت مریمؑ کے یہاں حضرت عیسیٰؑکی پیدائش: اس سورت کا سب سے بڑا معجزہ حضرت مریمؑکے یہاں بغیر باپ کے حضرت عیسیٰؑکی پیدائش ہے۔ حضرت مریم نے جب تنہائی میں فرشتے کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی۔ فرشتے نے انھیں ایک پاکیزہ بیٹے کی خوش خبری دی۔ دردِ زہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین کے لیے کھجور کے درخت اور نیچے سے چشمہ جاری کرنے کا انتظام کر دیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلام: جب قوم نے حضرت مریمؑ پر تہمت لگائی تو حضرت عیسیٰؑنے پالنے میں کلام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قَالَ اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰه ِ ڜ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّا؀﴾ بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ یعنی بڑے ہو کر انجیل عطا کی جائے گی اور نبی بنایا جائےگا، اور یہ بات اتنی یقینی ہے جیسے ہو ہی چکی۔ دودھ پیتے بچے کا اس طرح بولنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلا ہوا معجزہ تھا جس نے حضرت مریمؑکی براءت بالکل واضح کردی۔ اس میں ان لوگوں عقیدے کی تردید بھی ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑاللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے والد: یہاں ایک عظیم سبق ہے کہ دعوت و تبلیغ میں ادب کا کیا مقام ہے۔ حضرت ابراہیم ؑنے اپنے مشرک والد کو بار بار﴿یا اَبَتِ﴾اے میرےابا جان!کہہ کر پکارا اور اسے شیطان کی پیروی سے منع کیا۔ باپ نے انھیں سنگ سار کرنے کی دھمکی دی مگر انھوں نے جواب میں سلام کہا اورکہا کہ میں آپ کے لیے دعا کروںگا: ﴿قَالَ سَلٰمٌ عَلَيْكَ ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ۭ﴾۔

بعض انبیاےکرام علیہم السلام کا تذکرہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل، ادریس اور موسیٰ علیہم السلام کا ذکرِ خیر فرمایا اور بتایا کہ یہ وہ لوگ تھے جو سجدہ گزار اور رونے والے تھے، لیکن ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنھوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کے پیچھے لگ گئے۔

سورۃ طٰہٰ

حضرت موسیٰؑکا تفصیلی تذکرہ:سورہ طہٰ کا مرکزی موضوع نبوت کی ذمّےداری اور معاندینِ حق کے مقابلے میں صبر و استقامت کی تلقین ہے۔ سورت کے آغاز میں حضرت نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ قرآن مجید آپ کو مشقت میں ڈالنے کے لیے نہیں بلکہ نصیحت کے لیے نازل ہوا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰؑکا قصہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ مدین سے واپسی پر وادیِ طویٰ میں انھیں آگ کی صورت میں نور نظر آیا جہاں اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا،دو معجزات؛ عصا اور یدِ بیضا دیے اور سرکش فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا:﴿اِذْهَبَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى؀﴾۔

فرعون سے مکالمہ اور جادوگروں کا سجدہ: حضرت موسیٰؑنے فرعون کو توحید کی دعوت دی مگر اس نے اسے جادو قرار دے کر مقابلے کے لیے جادوگروں کو بلا لیا۔ جب جادوگروں نے اپنے کرتب دکھائے اور حضرت موسیٰؑنے اپنا عصا پھینکا تو وہ جادوگروں کے تمام سحر کو نگل گیا۔ جادوگر فوراً پہچان گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ معجزہ ہے اور وہ فرعون کی دھمکیوں کی پروا کیے بغیر سجدے میں گر کر ایمان لے آئے۔ لیکن آگے چل کر فرعون سے نجات پانے کے بعد سامری کے بہکانے پر قوم شرک میں مبتلا ہو گئی۔ حضرت موسیٰؑکی واپسی پر ان کا غصہ اور پھر سامری کی سزا کا ذکر مذکور ہے: ﴿قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِي الْحَيٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ۠ وَاِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ ۚ ﴾۔

حاصلِ کلام:یہ پارہ یہ پیغام دیتا ہے کہ کامیابی مادّی اسباب میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی پوشیدہ تدبیر پر یقین رکھنے میں ہے اور اللہ کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے، وہ بانجھ کو اولاد اور بن باپ کے بیٹا دینے پر بھی قادر ہے۔ نیز حق کے راستے میں تکلیفیں آتی ہیں ، مگر انجام کار حق ہی غالب رہتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here