فتنۂ دجّال یعنی جب دجّال آئےگا تو کیا کیا ہوگا؟

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

علاماتِ قیامت سے متعلق یہ ایک طویل حدیث ہے جو ’ابوداود‘ اور ’ابنِ ماجہ‘ میں وارد ہوئی ہے۔ حافظ ابوعبداللہ ابن ماجہؒ نے کہا: میں نے اپنے شیخ ابوالحسن طنافسیؒسے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے عبدالرحمن محاربی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ یہ حدیث اس لائق ہے کہ مکتب کے استاد کو دے دی جائے کہ وہ بچوں کو مکتب میں سکھلائے۔

حضرت ابوامامہ باہلیؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا تو آپ کے خطبے کا بڑا حصّہ دجال سے متعلق تھا، آپ نے دجال کا حال ہم سے بیان کیا اور ہمیں اس سے ڈرایا اور فرمایا: جب سے اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو پیدا کیا کوئی فتنہ زمین میں دجال کے فتنے سے بڑھ کر نہیں ہوا، اور اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو۔ میں تمام انبیا کے آخر میں ہوں اور تم سب امتوں سے آخر میں ہو اور دجال تم لوگوں میں ضرور پیدا ہوگا، جب وہ نکلے اور میں تم میں موجود ہوں تو میں ہر مسلمان کی جانب سے اس کا مقابلہ کروں گا۔ دجال کا فتنہ اتنا بڑا ہے کہ اگر میرے سامنے نکلے تو مجھے اس سے بحث کرنی پڑے گی کوئی اور شخص اس کام کے لیے کافی نہ ہوگا۔ اور اگر میرے بعد نکلے تو ہر شخص اپنی ذات کی طرف سے حجت کر لے، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (یعنی اللہ میرے بعد ہر مسلمان کا محافظ)ہے۔

دیکھو دجال خَلَّہ سے نکلے گا جو شام اور عراق کے درمیان ہے ، پھر بائیں طرف (ملکوں میں) فساد پھیلا دے گا، اے اللہ کے بندو ایمان پر جمے رہنا، میں تم سے اس کی ایسی صفت بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی؛ پہلے تو وہ کہے گا: میں نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے! پھر وہ کہے گا: میں تمھارا رب ہوں اور دیکھو تم اپنے رب کو مرنے تک نہیں دیکھ سکتے!ایک بات اور ہے وہ یہ کہ وہ کانا ہوگا اور تمھارا رب کانا نہیں ہے!دوسرے یہ کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہوگا: کافر، اسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ لکھنا پڑھا ہو یا جاہل!

mاس کا فتنہ سخت ہوگا، اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی، لیکن اس کی جنت دوزخ ہے اور اس کی دوزخ جنت ہے، تو جو کوئی اس کی دوزخ میں ڈالا جائے گا وہ اللہ سے فریاد کرے اور سورۂ کہف کے شروع کی آیتیں پڑھے، وہ دوزخ اللہ کے حکم سے اس پر ٹھنڈی اور سلامتی ہوجائے گی جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہوگئی تھی۔

mاس کا فتنہ یہ ہوگا کہ ایک گنوار دیہاتی سے کہے گا: اگر میں تیرے ماں باپ کو زندہ کر دوں تب تو تو مجھے اپنا رب کہے گا ؟ وہ کہے گا: بے شک۔ پھر دو شیطان دجال کے حکم سے اس کے ماں باپ کی صورت بن کر آئیں گے اور کہیں گے: بیٹا اس کی اطاعت کر، یہ تیرا رب ہے!

mایک فتنہ اس کا یہ ہوگا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کردیا جائے گا، پھر اسے قتل کر دے گا، اور اسے آرے سے چیر دے گا یہاں تک کہ اس کے دو ٹکڑے کر کے ڈال دے گا، پھر کہے گا : تم میرے اس بندے کو دیکھو، میں اس بندے کو اب زندہ کرتا ہوں، پھر وہ کہے گا: میرے علاوہ اس کا کوئی اور رب ہے؟ تو اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا، اور دجال خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہے گا : میرا رب تو اللہ ہے، اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے، اللہ کی قسم ! اب تو مجھے تیرے دجال ہونے کا مزید یقین ہوگیا ۔

ابوالحسن طنافسی کہتے ہیں کہ ہم سے محاربی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبیداللہ بن ولید وصافی نے بیان کیا، انھوں نے عطیہ سے روایت کی، عطیہ نے ابو سعید خدری سے، ابو سعید خدریؓکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں سے اس شخص کا درجہ جنت میں بہت اونچا ہوگا ۔حضرت ابو سعید خدریؓکہتے ہیں : اللہ کی قسم ! ہمارا خیال تھا کہ یہ شخص سوائے حضرت عمر بن خطابؓکے کوئی نہیں ہوسکتا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔

m(اب پھر ہم ابوامامہ کی حدیث کو بیان کرتے ہیں، ابوسعید کی حدیث درمیان میں اس مرد کے ذکر پر آگئی تھی)دجال کا ایک فتنہ یہ ہوگا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے کا حکم دے گا، تو وہ پانی برسائے گا، اور زمین کو غلہ اگانے کا حکم دے گا تو وہ غلہ اگائےگی۔

mاس کا ایک فتنہ یہ ہوگا کہ وہ ایک قبیلے پر سے گزرے گا، وہ لوگ اس کو سچا کہیں گے تو وہ آسمان کو غلہ اور گھاس اگانے کا حکم دے گا تو وہ اگ آئے گی یہاں تک کہ ان کے جانور اسی دن شام کو نہایت موٹے اور بڑے- کوکھیں بھری ہوئی، تھن دودھ سے پھولے ہوئے- آئیںگے۔غرض دنیا میں کوئی حصہ زمین کا باقی نہ رہے گا جہاں دجال نہ جائے گا اور اس پر غالب نہ ہوگا، سوائے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے، ان دونوں شہروں میں وہ جس راہ سے آئے گا اس کو ننگی تلواریں لیے ہوئے فرشتے ملیں گے، یہاں تک کہ دجال چھوٹی لال پہاڑی کے پاس اترے گا جہاں کھاری تر زمین ختم ہوتی ہے۔مدینہ میں تین بار زلزلہ آئے گا تو جو منافق مرد یا منافق عورت مدینے میں ہوں گے وہ دجال کے پاس چلے جائیں گے اور مدینہ پلیدی کو اپنے میں سے دور کر دے گا، جیسے بھٹی لوہے کا میل دور کردیتی ہے، اس دن کا نام یوم الخلاص (یعنی چھٹکارے کا دن) ہوگا۔

mام شریک بنت ابوعکرؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! عرب کے لوگ اس دن کہاں ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عرب کے لوگ (مومن مخلصین) اس دن کم ہوں گے اور دجال کے ساتھ بے شمار لوگ ہوں گے، ان کو لڑنے کی طاقت نہ ہوگی اور ان عرب مومنین میں سے اکثر لوگ اس وقت بیت المقدس میں ہوں گے، ان کا امام ایک نیک شخص ہوگا۔ ایک روز ان کا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھانا چاہے گا، اتنے میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے تو یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا، حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ دیں گے پھر اس سے کہیں گے: آپ ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے، اس لیے کہ یہ نماز آپ ہی کے لیے قایم ہوئی تھی (یعنی تکبیر آپ ہی کی امامت کی نیت سے ہوئی تھی)۔ وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائیں گے۔

mجب نماز سے فارغ ہوں گے تو حضرت عیسیٰ (مسلمانوں سے) فرمائیں گے: قلعے یا شہر کا دروازہ کھول دو ۔ دروازہ کھول دیا جائے گا۔ وہاں پر دجال ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ ہوگا،جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی، اس کے ساز و سامان کے ساتھ، اور چادر ہوگی۔ جب دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو ایسے گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے، اور بھاگے گا۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے: میری ایک مار تجھے کھانی ہے، تو اس سے بچ نہ سکے گا، آخر بابِ لُدّ کے پاس -جو مشرق کی طرف ہے- اس کو پا لیں گے اور اس کو قتل کر دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا،یہ حال ہوجائے گا کہ یہودی اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے جس چیز کی آڑ میں چھپے گا اللہ تعالیٰ اس چیز کو بولنے کی طاقت دے گا، پتھر ہو یا درخت، دیوار ہو یا جانور؛ ایک درخت -جسے غرقد کہتے ہیں،وہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے- وہ یہودیوں کا درخت ہے،وہ نہیں بولے گا۔ اس کے علاوہ ہر وہ چیز جس کی آڑ میں یہودی چھپے گا، کہے گی: اے اللہ کے مسلمان بندے! یہ یہودی ہے، آ اور اس کو مار ڈال!

mرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجال چالیس برس تک رہے گا، لیکن اس کا ایک برس چھے مہینے کے برابر، ایک برس ایک مہینے کے برابر، ایک مہینہ ایک ہفتے کے برابر ہوگا، اور اخیر دن دجال کے ایسے ہوں گے جیسے چنگاری (ہوا میں) اڑتی جاتی ہے، تم میں سے کوئی صبح کو مدینے کے ایک دروازے پر ہوگا پھر دوسرے دروازے پر نہ پہنچ سکےگا کہ شام ہوجائے گی۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ان چھوٹے دنوں میں نماز کس طرح پڑھیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: اندازے سے نماز پڑھ لینا، جیسے لمبے دنوں میں اندازہ کرتے ہو۔

mرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت عیسیٰ میری امت میں ایک عادل حاکم اور منصف امام ہوں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے،سور کو مار ڈالیں گے، اس کا کھانا بند کرا دیں گے، جزیہ موقوف کردیں گے،صدقہ موقوف کردیں گے، بکریوں اور اونٹوں پر کوئی زکوۃ لینے والا مقرر نہیں کریں گے، اور آپس میں لوگوں کا کینہ اور بغض اٹھ جائے گا، ہر ایک زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا، یہاں تک کہ بچہ اپنا ہاتھ سانپ کے منھ میں دے دے گا تو وہ کچھ نقصان نہ پہنچائے گا۔ ایک چھوٹی بچی شیر کو بھگا دے گی، وہ اس کو ضرر نہ پہنچائے گا۔ بھیڑ یا بکریوں میں اس طرح رہے گا جیسے کتّا ان میں رہتا ہے۔ زمین صلح سے بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھرجاتا ہے۔ سب لوگوں کا کلمہ ایک ہوجائے گا، اللہ کے سوا کسی کی پرستش نہ ہوگی۔ لڑائی اپنے سب سامان ڈال دے گی۔ قریش کی سلطنت جاتی رہے گی اور زمین کا یہ حال ہوگا کہ جیسے چاندی کا طشت۔ وہ اپنا میوہ ایسے اگائے گی جیسے آدم کے عہد میں اگاتی تھی، یہاں تک کہ کئی آدمی انگور کے ایک خوشے پر جمع ہوں گے اور سب سیر ہوجائیں گے۔بیل اتنے اتنے (مہنگے) داموں میں بکے گا۔ گھوڑا تو چند روپیوں میں بکے گا۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! گھوڑا کیوں سستا ہوگا؟ آپﷺ نے فرمایا: اس لیے کہ جنگ کے لیے کوئی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا۔ لوگوں نے عرض کیا: بیل کیوں مہنگا ہوگا؟ آپﷺ نے فرمایا: ساری زمین میں کھیتی ہوگی۔

mدجال کے ظہور سے پہلے تین سال تک سخت قحط ہوگا، ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے، پہلے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو تہائی بارش روکنے اور زمین کو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، پھر دوسرے سال آسمان کو دو تہائی بارش روکنے اور زمین کو دو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، اور تیسرے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم دے گا کہ بارش بالکل روک لے پس ایک قطرہ بھی بارش نہ ہوگی، اور زمین کو یہ حکم دے گا کہ وہ اپنے سارے پودے روک لے تو وہ اپنی تمام پیداوار روک لے گی، نہ کوئی گھاس اگے گی، نہ کوئی سبزی، بالآخر کھر والے جانور (گائے بکری وغیرہ چوپائے) سب ہلاک ہوجائیں گے، کوئی باقی نہ بچے گا مگر جسے اللہ بچا لے۔ عرض کیا گیا : پھر اس وقت لوگ کس طرح زندہ رہیں گے؟ آپ ﷺنے فرمایا : تہلیل (لآ إلٰه إلا الله) تکبیر (الله اكبر) تسبیح (سبحان الله) اور تحمید (الحمد لله) کا کہنا، ان کے لیے غذا کا کام دے گا۔

[ابن ماجہ، کتاب الفتن: 4077، ابوداود: 4321]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here