Home Dept of Islamic Studies آٹھواں پارہ ہمیں محض کہانیاں نہیں سناتا بلکہ زندگی گزارنے کے ابدی...

آٹھواں پارہ ہمیں محض کہانیاں نہیں سناتا بلکہ زندگی گزارنے کے ابدی اصول دیتا ہے

قرآن کا پیغام (پارہ:۸)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید کا آٹھواں پارہ ﴿وَلَوْ اَنَّنَا﴾ سورۃ الانعام کے بقیہ حصے اور سورۃ الاعراف کی ابتدائی۸۷؍ آیتوں پر مشتمل ہے۔ یہ حصہ مکی دورِ نبوت میں نازل ہوا، اس لیے اس کا زیادہ تر مرکز توحید، رسالت، آخرت اور انسانی تاریخ کے عبرت ناک واقعات ہیں۔

حق و باطل کا فرق اور کائناتی دلائل:پارے کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ منکرینِ حق کی کج فہمی کا علاج معجزات نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ہم فرشتے بھی اتار دیتے یا مُردے قبروں سے نکل کر ان سے کلام کرتے تب بھی یہ ایمان نہ لاتے کیوںکہ انھوں نے اپنی عقل و بصیرت پر ضد کے تالے ڈال رکھے ہیں، ﴿وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ۝﴾۔

حلال و حرام کے خود ساختہ قوانین کی تردید: مشرکینِ مکہ نے اپنی مرضی سے بعض جانوروں کو بتوں کے نام پر وقف کر کے حرام اور بعض کو حلال کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان جاہلانہ رسوم کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ حلال و حرام کا اختیار صرف خالقِ کائنات کو ہے۔ یہاں یہ اصول طے کر دیا گیا کہ جس جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے وہ حلال ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے وہ ناپاک اور فسق ہے۔ اگر کوئی شخص بھوک کی شدت میں مجبور ہو جائے تو وہ اضطراری حالت میں بہ قدرِ ضرورت حرام بھی کھا سکتا ہے۔

دس سنہرے اصول: سورۃ الانعام کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو دس ایسے احکامات دیے ہیں جو تمام الہامی ادیان کا نچوڑ ہیں: (۱)اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا (۲)والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا (۳) فقر کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا، رزق کا ذمّۃ اللہ پر ہے (۴)بےحیائی کے کاموں کے قریب نہ جانا، خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ (۵) کسی جان کو ناحق قتل نہ کرنا (۶) یتیم کے مال کی حفاظت کرنا، جب تک وہ جوان نہ ہو جائے (۷) ناپ تول میں عدل و انصاف کرنا (۸) بات کرتے وقت ہمیشہ انصاف کا دامن تھامے رکھنا، خواہ معاملہ اپنے قریبی رشتےدار کا ہو (۹) اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد و پیمان کو پورا کرنا (۱۰) صراطِ مستقیم کی پیروی کرنا اور گروہ بندیوں سے بچنا۔

سورۃ الأعراف

سورۃ الاعراف قرآن مجید کی ان عظیم سورتوں میں سے ہے جو کائنات کے آغاز سے انجام تک کا نقشہ کھینچتی ہیں۔’اعراف‘ اس دیوار یا بلند مقام کو کہتے ہیں جو جنت اور دوزخ کے درمیان حائل ہوگی۔

حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور شیطان کا تکبر:اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا وہ منظر پیش کیا ہے جب فرشتوں کو حضرت آدمؑکے سامنے سجدے کا حکم دیا تھا۔ ابلیس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے۔ یہ تکبر ہی تھا جس نے اسے راندۂ درگاہ کر دیا۔ ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی تاکہ وہ آدم کی اولاد کو چاروں طرف ؛آگے، پیچھے، دائیں، بائیں سے بہکا سکے، ﴿ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ﴾۔

لباس کی اہمیت اور شیطانی حملے:اللہ تعالیٰ نے انسان کو خبردار کیا ہے کہ شیطان تمھارا قدیم دشمن ہے۔ اس نے تمھارے والدین (آدم و حوا) کے لباس اتروا دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا کہ ہم نے تمھارے لیے لباس اتارا جو تمھارے لیے زینت ہے، لیکن سب سے بہترین لباس ’تقویٰ‘ ہے، ﴿ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا ۭوَلِبَاسُ التَّقْوٰى ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ ۭ﴾۔ یہ آیات ہمیں حیا و پاکیزگی اور تقوے کا درس دیتی ہیں۔

اصحاب الاعراف کا تذکرہ:ارشاد فرمایا: ﴿وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ﴾قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے ہوںگے جن کی نیکیاں اور گناہ برابر سرابر ہوںگے۔ وہ ایک بلند مقام (اعراف) پر ہوںگے۔ وہ جنت والوں کو دیکھ کر سلام کریںگے اور دوزخیوں کے برے حال کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگیںگے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں بھی جنت میں داخل کر دےگا۔

انبیاے کرام علیہم السلام کی دعوت اور اقوامِ عالم کا انجام:اس پارے کا ایک بڑا حصہ انبیاے کرامؑکی تاریخ کے لیے وقف ہے، تاکہ امتِ محمدیہ پچھلی قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرے: (۱)حضرت نوح علیہ السلام: آپ نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، مگر انھوں نے مذاق اڑایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ طوفان میں غرق کر دیے گئے اور صرف اہلِ ایمان بچا لیے گئے (۲) حضرت ہود علیہ السلام: وہ قومِ عاد کی طرف بھیجے گئے۔ یہ لوگ قد آور اور جسمانی طور پر بہت طاقت ور تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تند و تیز آندھی کے ذریعے ان کا نام و نشان مٹا دیا (۳) حضرت صالح علیہ السلام: وہ قومِ ثمود کی طرف بھیجے گئے۔ ان کا معجزہ ﴿نَاقَةُ اللّٰهِ﴾ اللہ کی اونٹنی تھی۔ ان کی قوم نے اونٹنی کو قتل کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ہول ناک چنگھاڑ اور زلزلے کے ذریعے انھیں ہلاک کر دیا (۴)حضرت لوط علیہ السلام: آپ کی قوم ہم جنس پرستی جیسی بدترین بے حیائی میں مبتلا تھی۔ حضرت لوطؑ نے قوم کو بہت سمجھایا، لیکن انھوں نے کہا کہ ان پاک بازوں کو بستی سے نکال دو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش کی (۵) حضرت شعیب علیہ السلام: وہ قومِ مدین کی طرف مبعوث ہوئے۔ اس قوم کا بڑا گناہ ناپ تول میں کمی اور معاشی بددیانتی تھا۔ حضرت شعیبؑ نے انھیں تجارت میں دیانت داری کا سبق دیا، مگر انھوں نے انکار کیا اور بالآخر عذابِ الٰہی کی گرفت میں آ گئے۔حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت کا تذکرہ اس پارے کے اختتام پر ایک خاص پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ یہ معاشی دیانت داری اور سماجی عدل کا بھی ضامن ہے۔ آپؑنے اپنی قوم کو خبردار کیا کہ ناپ تول میں کمی کرنا زمین پر فساد پھیلانے کے مترادف ہے، جو قوموں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔

خلاصۂ کلام: آٹھواں پارہ ہمیں کائنات کے خالق کی عظمت، انسانی فطرت کی کمزوریوں اور تاریخ کے نشیب و فراز سے آگاہ کرتا ہے۔یہ ہمیں محض کہانیاں نہیں سناتا بلکہ زندگی گزارنے کے ابدی اصول دیتا ہے، جو حسبِ ذیل ہیں: (۱) اسراف سے بچنا: کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو، بےشک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (۲)عاجزی و دعا: اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ پسند ہیں جو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے اسے پکارتے ہیں (۳) عدل و انصاف: سامنے چاہے دشمن ہی کیوں نہ ہو، بات ہمیشہ حق اور انصاف کی کرنی چاہیے (۴) شیطان سے ہوشیاری: شیطان ہر انسان کے پیچھے لگا ہوا ہے، اس کا مقابلہ صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تقوے سے ممکن ہے۔
اس پارے میں وحی اور الہامی کتابوں (تورات اور قرآن) کے مقصدِ نزول پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ یہ کتابیں انسانیت کے لیے ﴿تَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ﴾ ہر چیز کی وضاحت اور ﴿هُدًى وَرَحْمَةً﴾ ہدایت و رحمت بنا کر نازل کی گئی ہیں۔ پارے کا اختتام اس پیغام پر ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب اور اس کی رحمت دونوں برحق ہیں؛ جو لوگ اس کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ ذلت کا شکار ہوتے ہیں، جب کہ ایمان اور عملِ صالح اختیار کرنے والے سلامتی کے گھرکے وارث قرار پاتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here