مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا انتیسواں پارہ﴿تَبٰرَكَ الَّذِيْ﴾ اپنی ساخت اور مضامین کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں کُل گیارہ سورتیں شامل ہیں اور یہ تمام مکی ہیں۔ اس پارے کا مرکزی موضوع انسان کو اس کی تخلیق کے مقصد سے آگاہ کرنا اور اسے یومِ حساب کے لیے تیار کرنا ہے۔
سورۃ الملک
کائنات کی بادشاہی اور آزمائش کا فلسفہ:اس پارے کا آغاز سورۃ الملک سے ہوتا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرما یا: ﴿الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭ﴾موت اور زندگی کا یہ کارخانہ اس لیے لگایا گیا ہے تاکہ تمھارا امتحان لیا جائے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے کون بہتر ہے؟ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان تلے اوپر بنائے اور چیلنج کیا کہ اس کی تخلیق میں کوئی نقص نکال کر دکھائے!اس سورت میں جہنم کے داروغہ اور کافروں کے درمیان ہونے والے مکالمے کا بھی ذکر ہے، جہاں کافر اعتراف کریںگے کہ اگر وہ عقل سے کام لیتے تو آج دوزخ میں نہ ہوتے:﴿وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ﴾۔
سورۃ القلم
حق و باطل کی کشمکش:اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قلم اور اس کی لکھی ہوئی باتوں کی قسم کھائی ہے: ﴿نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ﴾۔آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ﴾ یقیناً آپ اخلاق کے اعلیٰ درجے پر ہیں۔ اس سورت میں ایک عبرت ناک کہانی بھی ہے کہ کچھ بھائیوں نے اپنے سخی والد کے نقشِ قدم کو چھوڑ کر غریبوں کا حق مارنے کی سوچی تو اللہ تعالیٰ نے راتوں رات ان کا باغ برباد کر دیا گیا:﴿فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِ﴾ ۔ اس میں یہ سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر تکبر اور لالچ زوال کا سبب بنتا ہے۔
سورۃ الحاقہ
قیامت کا منظر: اس سورت میں قومِ عاد، ثمود، فرعون اور قومِ لوط کے انجام کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تند و تیز ہواؤں اور چنگھاڑ کے ذریعے ان طاقت ور قوموں کو کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح بکھیر دیا، اب ان میں سے کوئی باقی نظر نہیں آتا: ﴿فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ﴾۔ آگے قیامت کے منظر کا ذکر ہےکہ اس دن جن کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا، وہ خوشی سے پکاریںگے: ﴿هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ﴾لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔ اور جن کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں ملے گا، وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں موت ہی آ گئی ہوتی:﴿يٰلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ﴾۔
سورۃ المعارج
انسانی نفسیات اور صبر:پہلے بتایا کہ قیامت کےدن کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی، لیکن ایمان والوں کے لیے یہ مختصر ہوگا۔آگے فرمایا: ﴿اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًااِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاوَّاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا﴾ حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے۔ اور جب اس کے پاس خوش حالی آتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔ نیز فرمایا کہ اس سے بچنے کا راستہ نمازیوں کے لیے ہے جو اپنی نمازوں، زکوٰۃ اور پاک دامنی کی حفاظت کرتے ہیں۔
سورۃ نوح
دعوتِ دین کی جدوجہد:اس سورت میں حضرت نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغی محنت کا نچوڑ بیان کیا گیا ہے۔انھوں نے اپنی قوم کو تنہائی میں، مجمع میں، دن کو اور رات کو ہر طرح سے سمجھایا۔انھوں نے فرمایا کہ اگر تم توبہ کر لوگے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے موسلا دھار بارش برسائےگا، تمھارے مال اور بیٹوں میں اضافہ کرے گا اور تمھارے لیے نہریں جاری کر دے گا، مگر قوم نے ہٹ دھرمی دکھائی اور آخر کار غرق کر دی گئی: ﴿مِمَّا خَطِيْۗـــٰٔــتِهِمْ اُغْرِقُوْا﴾ ان لوگوں کے گناہوں کی وجہ ہی سے انھیں غرق کیا گیا۔
سورۃ الجن
قرآن کی تاثیر اور جنّوں کا ایمان: یہ سورت اس آیت سے شروع ہوتی ہے: ﴿قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَـمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا﴾ (اے پیغمبر) کہہ دیجیے کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے (قرآن) غور سے سنا، اور (اپنی قوم سے جاکر) کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔ آگے ہے کہ جنوں نے اعتراف کیا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ یہ سورت واضح کرتی ہے کہ ہدایت صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ جنوں کے لیے بھی ہے۔
سورۃ المزمل سورۃ المدثر
دعوتِ دین کی تیاری:یہ دونوں سورتیں نبوت کے ابتدائی دور کی ہیں۔سورۃ المزمل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریمﷺ کو﴿نِّصْفَهٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا﴾ رات میں آدھا یا اس سے کچھ کم حصہ قیام (تہجد) کا حکم دیا تاکہ آپ ’قولِ ثقیل‘ (بھاری ذمّےداری) اٹھا سکیں۔ سورۃ المدثر میں فرمایا:﴿يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ﴾ اے کپڑے میں لپٹنے والے، اٹھیے اور لوگوں کو خبردار کیجیے۔
سورۃ القیامۃ
قیامت کا اثبات: سورت آغاز قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم سے ہوتا ہے:﴿لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ﴾ ۔ اس میں منکرینِ آخرت کے اس شبہ کا جواب دیا گیا کہ گلی سڑی ہڈیوں کو جمع کرنا کیا مشکل ہے اللہ تعالیٰ انسان کی پور پور تک درست کرنے پر قادر ہے۔ سورت کے درمیان میں وحی کے نزول کے وقت رسول اللہ ﷺ کی تڑپ اور حفاظتِ قرآن اوراختتام میں انسانی تخلیق کے مراحل کا ذکر ہے۔
سورۃ الإنسان
شکر گزار اور نا شکرا بندہ:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا﴾ ہم نے انسان کو راستہ دکھایا کہ وہ یا تو شکر گزار ہو، یا ناشکرا بن جائے۔آگے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی محبت میں مسکینوں اور یتیموں کو کھانا کھلاتے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں ایسی جنت دےگا جہاں نہ دھوپ کی تپش ہوگی نہ کڑاکے کی سردی۔ وہاں ریشمی لباس، چاندی کے کنگن اور زنجبیل ملی ہوئی شرابِ طہور میسر ہوگی۔
سورۃ المرسلات
حق کو جھٹلانے والوں کا انجام:یہ سورت قیامت کے وقوع اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں پر مشتمل ہے۔اس کا لبِ لباب وہ تنبیہ ہے جو دس مرتبہ دہرائی گئی ہے:﴿وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔
حاصلِ کلام:انتیسوں پارہ مومن کی زندگی میں انقلاب برپا کرنے والا پارہ ہے۔ یہ خوابِ غفلت میں ڈوبے ہوئے انسان کو جھنجھوڑتا ، انجام سے ڈراتا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور جنت کی نعمتوں کی امید بندھاتا ہے۔ نیز یہ پارہ صبر، استغفار اور راتوں کی عبادت کی تلقین کرتا ہے۔






