انکم ٹیکس [Income Tax]سےزکوٰۃ کی ادایگی
سوال: حضرت مفتی ندیم احمد صاحب! حکومت کو جو رقم انکم ٹیکس میں دینی پڑتی ہے، کیا اس کے بعد زکوٰۃبھی الگ سے دینی پڑےگی؟ یا اتنی رقم زکوٰۃ میں سے کم کی جا سکتی ہے؟ اگر زکوٰۃ دینی پڑےگی تو کیا پھر انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے جھوٹ بول سکتے ہیں؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:انکم ٹیکس [Income Tax] کا زکوٰۃ سے کوئی تعلق نہیں، زکوٰۃ عبادت اور اللہ کا حق ہے اور انکم ٹیکس ایک حکومت کا ٹیکس ہے، لہٰذا ایک کی ادایگی سے دوسرے کی ادایگی نہیں ہوتی، انکم ٹیکس کے لیے حقیقی سرمایے کو چھپانے میں جب جھوٹ بولنا پڑے یا جھوٹی شہادت دینا پڑے تو وہ (بھی) جائز نہیں۔[دیکھیے فتاویٰ عثمانی] انکم ٹیکس میں رقم دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی یعنی انکم ٹیکس میں دی ہوئی رقم کو زکوٰۃ میں سے منہا نہیں کیا جا سکتا اور زکوٰۃ کوئی ٹیکس نہیں، نہ اس پر ٹیکس کے احکام جاری ہوتے ہیں، یہ نماز اور روزہ و حج کی طرح خالص عبادت ہے، جو مصرفِ زکوٰۃ کے بغیر ادا نہیں ہوتی۔ [فتاویٰ دارالعلوم کراچی]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






