Home Dept of Islamic Studies Articles اٹھائیسواں پارہ سکھاتا ہے کہ گھریلو جھگڑوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات...

اٹھائیسواں پارہ سکھاتا ہے کہ گھریلو جھگڑوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق حل کرنا چاہیے

 

قرآن کا پیغام (پارہ:۲۸)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید کا اٹھائیسواں پارہ ﴿قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ﴾مدنی زندگی کے اہم دور کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس پارے میں کُل نو سورتیں ہیں جو زیادہ تر مدنی ہیں اور ان میں اسلامی معاشرت، عائلی قوانین، غزوات، منافقین کی سازشوں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بیان پر توجہ دی گئی ہے۔

سورۃ المجادلۃ

عورت کا مقام اور معاشرتی اصلاح: پارے کا آغاز سورۃ المجادلہ سے ہوتا ہے۔ یہ سورت ایک خاص واقعے کے گرد گھومتی ہے جس میں حضرت خولہ بنت ثعلبہؓنے اپنے شوہر کے’ظہار‘ (بیوی کو ماں کہہ دینا) کے خلاف اللہ کے رسول ﷺ سے فریاد کی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس جاہلانہ رسم کو ختم فرمایا اور واضح کر دیا کہ بیویاں مائیں نہیں ہو سکتیں اور کفارے کے طور پر غلام آزاد کرنے، ساٹھ روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا ۔

مجلس کے آداب: اس سورت میں مسلمانوں کو سکھایا گیا کہ جب کسی مجلس میں نئے آنے والے کے لیے جگہ بنانے کو کہا جائے تو کشادہ دلی دکھائیں: ﴿اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا﴾۔ یہ اور اس طرح کے چھوٹے چھوٹے آداب ایک منظم معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔

سورۃ الحشر

دشمنوں کی جلاوطنی اور اللہ کی قدرت:یہ سورت غزوۂ بنو نضیر کے پس منظر میں نازل ہوئی۔ یہودیوں کے اس قبیلے نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی، جس کے نتیجے میں انھیں مدینے سے نکال دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کے قلعے اور ساز و سامان انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچا سکے۔

مالِ فیئی کی تقسیم:سورۃ الحشر کی آیت ۶؍اور ۷؍ میںمالِ فیئی یعنی وہ مال جو مالِ غنیمت کے برعکس بغیر جنگ کے حاصل ہو، یہاں اس کی تقسیم کے اصول بتائے گئے ہیں، تاکہ وہ مال صرف انھیں لوگوں کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے جو دولت مند ہیں۔

ایک جامع ترین ہدایت: اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک جامع ترین ہدایت یہ ارشاد فرمائی: ﴿مَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ﴾رسول تمھیں جو کچھ دیں، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔اور اس کے مطابق عمل نہ کرنے والوں کو یہ وارننگ [Warning] بھی دی: ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۝﴾اور اللہ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ سخت سزا دینے و الا ہے۔

سورۃ الممتحنہ

دوستی اور دشمنی کا معیار:اس سورت میں ایمان والوں کو یہ سکھایا گیا کہ ایمان لانے کے بعد رشتوں کا معیار اللہ تعالیٰ کی رضا ہونا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا کہ اسلام کے دشمنوں کو اپنا رازدار بنایا جائے۔ تاہم یہ بھی واضح کر دیا کہ جو غیر مسلم تم سے دین کے معاملے میں نہیں لڑتے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور عدل کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے:﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۝﴾۔

حضرت ابراہیمؑکا نمونہ: مسلمانوں کو ہدایت دی گئی کہ تمھارے لیے ابراہیمؑاور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کرتے ہو ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ ابراہیم نے اپنے باپ سے یہ ضرور کہا تھا کہ میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا ضرور مانگوں گا، اگرچہ اللہ کے سامنے میں آپ کو کوئی فایدہ پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔

سورۃ الصف

کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ اور ہیں:اس سورت کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو جہاد اور اتحاد کی دعوت دینا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۝﴾اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ؟

مجاہدین کی تعریف اور حضور کی بشارت: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان مجاہدین سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں ایک مضبوط دیوار کی طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں۔ اسی سورت میں یہ بھی فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰؑنے اپنے بعد آنے والے رسولِ احمد (حضرت محمد ﷺ) کی بشارت دی تھی۔

سورۃ الجمعۃ

بعثتِ نبوی کے مقاصد: اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ رسول اللہ ﷺ کو بھیجنے کا مقصد آیات کی تلاوت، نفوس کا تزکیہ اور کتاب و حکمت کی تعلیم دینا ہے۔

یہود کی مثال: جن لوگوں نے تورات کو اٹھایا لیکن اس پر عمل نہیں کیا، انھیں اس گدھے سے تشبیہ دی گئی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔

نمازِ جمعہ کا حکم: اس سورت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ جمعے کی اذان ہوتے ہی دنیا کے تمام کاروبار چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف لپکیں۔

سورۃ المنافقون

منافقت کا پردہ چاک:اس سورت میں منافقین کی نفسیات بیان کی گئی ہیں۔منافقین دیکھنے میں خوب صورت اور گفتگو میں پرکشش ہوتے ہیں، لیکن ان کے دل ایمان سے خالی ہوتے ہیں۔ منافقین کا خیال تھا کہ وہ معزز ہیں اور رسول اللہﷺ اس کے برعکس، لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ﴾ عزت تو اللہ ہی کو حاصل ہے اور اس کے رسول کو، اور ایمان والوں کو۔

سورۃ التغابن

نفع نقصان کا دن:تغابن کا مطلب ہے ’ہار جیت کا دن‘۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے دن معلوم ہوگا کہ اصل میں کون جیتا اور کون ہارا۔

مال اور اولاد کے ذریعے آزمائش: اس میں انسان کو خبردار کیا گیا کہ بعض اوقات اس کے اہل و عیال اس کے لیے آزمائش یا دشمن ثابت ہو سکتے ہیں، جب کہ وہ اسے دین سے دور کر دیں۔نیز تاکید کی گئی: ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ لہٰذا جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو۔

سورۃ الطلاق

عائلی زندگی کا تحفظ اور تقوے کا صلہ:اس سورت کو ’سورۃ النساء الصغریٰ‘ بھی کہا جاتا ہے کیوںکہ اس میں طلاق کے تفصیلی احکامات بیان کیے گئے ہیں۔نیز اس میں حاملہ عورتوں اور دیگر کے لیے عدت کی مدت بھی متعین کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ڛ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا۝﴾جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا۔

سورۃ التحریم

گھر کی اصلاح اور خواتین کا نمونہ: اس سورت میں حضور ﷺ کی زندگی کے ایک واقعے کے ذریعے گھر میں راز کی حفاظت اور بیویوں کے حقوق و فرائض بیان کیے گئےہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی اور حضرت مریمؑکو ایمان والیوں کے لیے نمونہ قرار دیا ہے۔

حاصلِ کلام:یہ پارہ ایک مسلمان کو انفرادی و اجتماعی زندگی گزارنے کے تمام پہلو فراہم کرتا ہے۔ یہ پارہ سکھاتا ہے کہ گھریلو جھگڑوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق حل کرنا چاہیے۔ مال و اولاد کی محبت کو اللہ کی محبت پر غالب نہیں آنے دینا چاہیے،اور یہ کہ اللہ ہی تنگیوں سے نکالنے والا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here