باؤنڈز[Bonds] پر زکوٰۃ
سوال:حضرت مفتی ندیم صاحب! اسٹاک مارکیٹ میں ایک چیز باؤنڈز ہوتی ہے، کیا اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:موجودہ زمانے میں اسٹاک ایکسچینج [Stock Exchange] سرمایہ کاری کی دو صورتیں ہوتی ہیں؛ ایک صورت شیئرز کی ہے، شیئر ز ہولڈر کی حیثیت حصّےداروں کی ہوتی ہے ، دوسری صورت باؤنڈز [Bonds] کی ہے ، باؤنڈز کی حیثیت قرض کی سند کی ہے، گویا کمپنی اس کی مقروض ہوتی ہے، کمپنی کے نفع و نقصان سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ان کو اس پر سود بھی دیا جاتا ہے۔اس وضاحت کی روشنی میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ باؤنڈز کی حیثیت چوں کہ ’دَینِ قوی‘ کی ہے اس لیے اس پر تو بہ ہر حال زکوٰۃ واجب ہو گی اور اگر سود کی رقم کو اصل رقم سے ممتاز کیا جانا ممکن نہ ہو تو پورے مال یعنی اصل اور سود کے مجموعے پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔[اسلام کا نظامِ عشر و زکوٰۃ] گو آج کل باؤنڈز کی خرید و فروخت ہونے لگی ہے مگر شرعاً یہ ناجائز اور حرام ہے۔ [جدید فقہی مسائل]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






