تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ کا فتویٰ
سوال:مفتی ندیم صاحب! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے سے کچھ طے کیے بغیر ہدیے کے طور پر تراویح سنانے والے کو کچھ دینے میں کچھ حرج نہیں، طے کر کے لینا دینا منع ہے؟ کیا یہ درست ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒتحریر فرماتے ہیں:اجرت دے کر قرآن سننا شرعاً جائز نہیں، لینے والا دینے والا دونوں گنہ گار ہیں اور اگر بغیر تعینِ اجرت سنایا جائے اور ختمِ قرآن کے بعد بہ طور تبرع دیا جائے تو اصح قول کی بنا پر یہ صورت بھی ناجائز ہے۔[ فتاویٰ مظاہرِ علوم المعروف بہ فتاویٰ خلیلیہ]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






