جب گرمی زیادہ ہو تو ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو – ارشادِ رسولﷺ

    ندیم احمد انصاری

    اسلام اللہ رب العالمین کا پسند کیا ہوا دین ہے‘ ورضیت لکم الإسلام دیناً، جو مخلوق کے لیے سراپا رحمت ہے۔ اور حضرت محمد ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں، ہر سُو جن کی رحمت کی ضیاپاشیاں عام ہیں۔ آپﷺنے اپنی امت پر نہایت شفقت کے سبب ساری زندگی اس اصول پر عمل کیا کہ جب کسی کام کو انجام دینے کے آپ ﷺکے سامنے دو راستے ہوتے تو آپ ﷺان میں سے سہل ترین راستے کو اختیار فرماتے۔ ظاہر ہے یہ عمل امت پر غایتِ رحمت کے باعث تھا۔ آپ ﷺنے امت کو ہر چھوٹی سے چھوٹی پریشانی سے بچانا چاہا،من جملہ ان کے گرمیوں کے موسم میں ظہر کے لیے مسجد کی جماعت میں حاضر ہونا بھی ہےکہ اس موسم میں شدتِ گرمی کی وجہ سے ظہر کی جماعت میں حاضری دشوار ہے۔ اس لیے آپ ﷺنے اپنے قول و عمل سے امت کو تعلیم دی کہ گرمیوں کے دنوں میں ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھیں۔ نہ صرف ایذا سے بچنے کے لیے بلکہ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ وقت خدا کے غضب کا مظہر ہے۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ اس پر عمل مدارس یا دیہاتوں میں تو آج بھی کیا جاتا ہے، لیکن عام مساجد خصوصاً شہروں میں اس جانب توجہ نہیں دی جاتی۔ مشاہدہ ہے کہ موسم کے بدلنے کے ساتھ جہاں دیگر نماز و جماعت کے اوقات تبدیل کیے جاتے ہیں، ظہر کی جماعت کا وقت نہ جانے کس مصلحت کے تحت سال کے بارہ مہینوں میں، خواہ سردی ہو یا گرمی، اس طرح بالکل فکس رکھا جاتا ہے، گویا یہ من جانب اللہ طے شدہ ہو۔جہاں سوا بجے کی جماعت ہے، وہاں سوا بجے اور جہاں ڈیڑھ بجے کی جماعت ہے، وہاں ڈیڑھ بجے ہی جماعت کی جاتی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ کم از کم ہم نے تو اپنے قرب و جوار میں اس وقت میں تبدیلی ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔اس تحریر کے ذریعے اسی جانب توجہ دلانا مقصود ہے، تاکہ مصلیان کے لیے جماعت میں حاضری بھی آسان ہو اور وہ بہتر وقت میں ربِّ کائنات سے مناجات میں مشغول ہو سکیں،اس لیے کہ جمہور علماء کے نزدیک یہ وقت اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے مناسب ترین ہے۔

    ارشاداتِ نبویﷺ

    حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ۔ ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہوتی ہے۔(بخاری)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ۔ جب گرمی زیادہ ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیوں کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے۔(ابوداود، بخاری، مسلم، ترمذی)حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے؛كُنَّا مَعَ النَّبِيِّﷺ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ :‏‏‏‏ أَبْرِدْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَبْرِدْ، حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَالتُّلُولِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ :‏‏‏‏ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ۔ہم حضرت نبی کریم ﷺکے ساتھ تھے، مؤذن نے چاہا کہ ظہر کی اذان کہے، تو آپ ﷺنے فرمایا: ذرا خنکی ہونے دو۔ کچھ دیر بعد مؤذن نے اذان کہنے کا ارادہ کیا ،آپ ﷺنے پھر یہی فرمایا :ذرا خنکی ہونے دو۔ اس طرح آپ ﷺنے دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا ،یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ ٹیلوں کا سایہ زمین پر پڑ نے لگا ہے۔ پھر آپﷺنے فرمایا: گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے، لہٰذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔ (بخاری،ابوداود)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت میںہے، حضرت نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا:إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ۔وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ۔جب گرمی زیادہ بڑھ جائے تو نماز کو ٹھندے وقت میں پڑھا کرو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہوتی ہےاور آگ نے اپنے پروردگار سے شکایت کی اور عرض کیا: اے میرے پروردگار! میرے ایک حصّے نے دوسرے حصّے کو کھا لیا ہے،تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میںاور وہی سخت گرمی ہے جس کو تم محسوس کرتے ہواور سخت سردی ہےجو تمھیں محسوس ہوتی ہے۔ (بخاری، مسلم)حضرت ابومسعود انصاریؓسے روایت ہے وہ کہتے تھے:سَمِعْتُ رَسُولَ اللہﷺ ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ : نَزَلَ جِبْرِيلُﷺ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ الخ۔(ابوداؤد)میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور مجھے نمازوں کے اوقات سے باخبر کیا، میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ پھر پڑھی۔ پھر پڑھی۔ پھر پڑھی۔ اور پھر پڑھی۔ اس طرح آپ نے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کو شمار کیا۔ پھر میں نے رسول اللہﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے سورج ڈھلتے ہی ظہر کی نماز پڑھی اور گرمی کی شدت کے وقت تاخیر کے ساتھ پڑھی، الخ۔

    نامناسب وقت میں مناجات مناسب نہیں

    امام شافعیؒ کے علاوہ تمام فقہا اس (گرمیوں میں تبریدِ ظہر) کو مستحب کہتے ہیں، اس لیے کہ گرمی کی زیادتی ربِّ ذوالجلال کے غضب کا وقت ہے۔ اسی لیے حضرت نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز ٹھنڈی کرو، یعنی وقت ٹھنڈا ہونے کے بعد نماز پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی زیادتی جہنم کے پھیلاؤ سے ہے، اور چوں کہ جہنم اللہ کی صفت ِ غضب کا مظہر ہے، جیسا کہ جنت پروردگار کی صفتِ رحمت کا مظہر ہے،تو جہنم کے اثرات بھی صفتِ غضب کا مظہر ہوئے اور وہ اثرات گرمیوں میں ظہر کے شروع وقت میں پھیلتے ہیں، پس یہ وقت اللہ کی ناراضگی کا ہے، ایسے وقت میں مناجات مناسب نہیں، پہلے وقت کو ٹھنڈا ہونے دو پھر نماز پڑھو تاکہ اطمینانِ خاطر کے ساتھ عرض و معروض کر سکو۔ گرمی میں نماز پڑھنا جہنم کی بھاڑ کے قریب کھڑے ہو کر مناجات کرنا ہے، ایسے نامناسب وقت میں مناجات نہیں کرنی چاہیے۔نیز گرمی کی شدت کے موقع پر ابراد کا یہ حکم سفر و حضر دونوں کے لیے ہے، چناں چہ امام بخاریؒ نے ان دونوں کو مستقل باب میں ذکر کیا ہے۔ ( تحفۃ القاری ملخصاً)

    علما و فقہا کی تصریحات

    فتاویٰ قاضی خان میں ہے:ویؤخر الظہر فی الصیف و یعجل فی الشتاء۔ظہر کی نماز موسمِ سرما میں تعجیل سے اور گرما میں تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے۔ (خانیہ علی ہامش الہندیہ:۱؍۷۴)ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں:أدخلوہا فی وقت البرد، فالباء للتعدیۃ والأمر للندب۔ (مرقاۃ المفاتیح) مراقی الفلاح میں ہے: و یستحب الابراد بالظہر فی الصیف۔درمختار میں ہے:والمستحب تاخیر ظہر الصیف۔اسی طرح اور بھی کتبِ فقہ میں ہے، اور تاخیرکی حد یہ ہے کہ ایک مثل سایہ ہونے سے پہلے پڑھ لی جائے، جب تک ایک مثل سایہ نہ ہو تاخیر کا اختیار ہے۔ (کفایت المفتی)

    خلاصہ یہ کہ ظہر کی نماز گرمیوں میں ایسے وقت پڑھنا مستحب ہے کہ گرمی کی شدت کم ہوجائے اور رسول اللہﷺ بھی ظہر کو گرمی میں مؤخر کرکے پڑھتے تھے اور آپ نے مؤخر کرنے کا حکم بھی فرمایا۔ امام بخاری نے بھی اسی لیے باب اس طرح منعقد کیا ہے – باب الابراد بالظہر فی شدۃ الحر اور پھر ان حدیثوں کو لا کر (جو مذکور ہوئیں)گویا ترجمے کو اچھی طرح ثابت کردیا، اسی واسطے ہمارے فقہانے گرمی میں تاخیر کو مستحب کہا ہے۔کاش کہ لوگ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور ایک سنت زندہ ہو!آمین

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here