Home Dept of Islamic Studies Articles پچیسواں پارہ انسان کو مادّی زندگی کے سحر سے نکال کر روحانی...

پچیسواں پارہ انسان کو مادّی زندگی کے سحر سے نکال کر روحانی زندگی کی طرف لاتا ہے

قرآن کا پیغام (پارہ:۲۵)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید کا پچیسواں پارہ ﴿اِلَيْهِ يُرَدُّ﴾ قرآن کے ان حصوں میں سے ہے جو انسان کی عقل، ضمیر اور مشاہدے کو بہ راہِ راست مخاطب کرتے ہیں۔ یہ پانچ مکی سورتوں پر مشتمل ہے: سورہ فصّلت کا بقیہ حصہ،سورۃ الشوریٰ،سورۃ الزخرف، سورۃ الدخان، اور سورۃ الجاثیہ۔

قیامت کب آئےگی؟:پارے کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے:﴿اِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ ۭ﴾ قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔یہ منکرین کے اس سوال کے جواب میں ہے کہ قیامت کب آئے گی؟ یہاں ﴿اِلَيْهِ﴾ کو فعل سے پہلے لانے سے اس میں حصر [Exclusivity] کے معنی پیدا ہو گئے، اس کے ذریعے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی، فرشتہ ہویا نبی، قیامت کے وقتِ مقررہ سے واقف نہیں ہے۔

انسانی فطرت: آگے انسانی فطرت کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا، اور اگر اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو مایوس اور شکستہ دل ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس کو تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اسے اپنی رحمت چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ یہ تو میرے لیے ہونی ہی تھی اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی برپا ہوگی، اور اگر (واقعی) میں اپنے رب کے پاس لوٹایا گیا تو وہاں بھی میرے لیے مزے ہیں۔ خوش حالی میں حد سے بڑھ جانا [Self-Centeredness] اور تنگی میں حوصلہ ہار دینا [Despair] دونوں ہی غیرمناسب رویّے ہیں۔

آفاق و انفس کی نشانیاں: اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم وعدہ﴿سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۭ﴾ عن قریب ہم انھیں اپنی نشانیاں کائنات کے کناروں میں اور ان کے اپنے وجود کے اندر دکھائیںگے، اس پارے کا فکری عروج ہے۔ یہ آیت اس بات کی ضمانت ہے کہ جیسے جیسے انسانی علم (سائنس) بڑھے گا، قرآن کی سچائی مزید واضح ہوتی چلی جائےگی۔

سورۃ الشوریٰ

مشورے کی اہمیت: دوسری مکی سورتوں کی طرح سورۃ الشوریٰ میں بھی توحید، رسالت اور آخرت کے بنیادی عقائد پر زور دیا گیا ہے، اور ایمان کی قابلِ تعریف صفات بیان فرمائی گئی ہیں۔ آیت نمبر :۳۸؍ میں مسلمانوں کی یہ خصوصیت بیان فرمائی گئی کہ ان کے اہم معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں: ﴿وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ ۠﴾، اسی بنا پر سورت کا نام سورۃ شوریٰ ہے۔ سورت کے آخر میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی انسان سے روبہ رو ہو کر ہم کلام نہیں ہوتا بلکہ وحی کے ذریعے کلام فرماتا ہے، اور پھر اس وحی کی مختلف صورتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔

دینِ واحد کا تصور: اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ اسلام کوئی نیا دین نہیں بلکہ وہی نظام ہے جو حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو دیا گیا تھا۔ یہاں ’اقامتِ دین‘ کا حکم دیا گیا ہے یعنی دین کو صرف ماننا نہیں بلکہ اسے نافذ کرنا اور اس پر متحد رہنا ضروری ہے۔ نیزاللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ علم آ جانے کے بعد آپس کی ضد اور سرکشی کی وجہ سے تفرقہ پیدا کرنا ہلاکت کا باعث ہے۔

رزق کی حکمت: اللہ تعالیٰ نے رزق کے نظام پر گہری روشنی ڈالی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ سب کو برابر کا مال دار کر دیتا تو زمین میں فساد مچ جاتا۔ یہ عدم مساوات دراصل کائنات کے پہیے کو چلانے اور ایک دوسرے کی ضرورت بننے کے لیے ہے۔ ارشاد فرمایا: اور اگر اللہ اپنے تمام بندوں کے لیے رزق کو کھلے طور پر پھیلا دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگتے، مگر وہ ایک خاص اندازے سے جتنا چاہتا ہے (رزق) اتارتا ہے۔

سورۃ الزخرف

اس سورت کا نام ’زخرف‘ (سونے کے نقش و نگار) رکھنے میں ایک گہری حکمت ہے۔ سورت کا مرکزی موضوع مشرکینِ مکہ کے باطل عقائد کی تردید ہے، من جملہ ان کے یہ کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے: ﴿وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا﴾۔

اندھی تقلیدکی مذمت: اس سورت میں ان لوگوں کا بھی ذکر ہے جو اپنے دین کو صحیح قرار دینے کے لیے یہ دلیل دیتے تھے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی طریقے پر پایا ہے، اس کے جواب میں اول تو یہ حقیقت واضح کی گئی کہ قطعی عقائد کے معاملے میں باپ دادوں کی تقلید بالکل غلط طرزِ عمل ہے، اور پھر حضرت ابراہیم ؑکا حوالہ دے کر فرمایا کہ اگر باپ دادوں ہی کے پیچھے چلنا ہے تو حضرت ابراہیم ؑکی پیروی کیوں نہیں کرتے، جنھوں نے شرک سے کھلم کھلا بیزاری کا اعلان فرمایا تھا: ﴿وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖٓ اِنَّنِيْ بَرَاۗءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ؀﴾۔

مادہ پرستی کا رد: مکہ کے کفار کا خیال تھا کہ وحی کسی مال دار یا دنیوی جاہ و جلال والے شخص پر ہونی چاہیے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سطحی سوچ کی نفی کی اور بتایا کہ دنیا کی یہ تمام دولت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی حقیر ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان کے گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔

فرعون کا قصہ: فرعون کا قصہ اس پارے میں دوبارہ ایک نئے زاویے سے آتا ہے۔ اس نے اپنی نہروں اور سونے کے کنگنوں پر فخر کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے لشکر کو غرق کر کے رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا۔

سورۃ الدخان

لیلۃ المبارکہ:یہ سورت ایک ایسے دھوئیں (دخان) کے بارے میں ہے جو قیامت کے قریب نمودار ہوگا اور منکرین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس میں بہ قول جمہور مفسرین شبِ قدر اور بعض مفسرین کے قول کے مطابق شبِ براءت کے حوالے سے’مبارک رات‘ کا ذکر ہے، جس میں کائنات کے تمام اہم اور حکمت بھرے فیصلے فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں:﴿ فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ۝﴾۔

قومِ تبع اور قومِ فرعون: اللہ تعالیٰ نے پچھلی طاقت ور قوموں کی تباہی کا ذکر کر کے یہ سمجھایا ہے کہ مادّی ترقی کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا راستہ نہیں روک سکتی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَهُمْ خَيْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّــعٍ ۙ وَّالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ اَهْلَكْنٰهُمْ ۡ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ؀﴾ بھلا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم، اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ؟ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا، کیوںکہ وہ یقینی طور پر مجرم لوگ تھے۔

سورۃ الجاثیہ

مشاہدۂ کائنات: پارے کے آخر میں سورۃ الجاثیہ ہے، جو کائنات کے مشاہدے پر زور دیتی ہے۔آسمانوں اور زمین کی تخلیق، رات اور دن کا بدلنا، ہواؤں کا رخ اور بادلوں سے برستی بارش یہ سب ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو مانتے، یقین رکھتے اور عقل سے کام لیتے ہیں۔

خواہشِ نفس کا بُت: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ﴾کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیاہے؟ جب انسان اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی مرضی کو ترجیح دیتا ہے تو وہ عملاً خواہشِ نفس کو خدا بنا لیتا ہے۔ یہ آیت انسانی بگاڑ کی جڑ [Root Cause] کی نشان دہی کرتی ہے۔آج کے دور میں میری زندگی میری مرضی[My Life My Choice] کا نعرہ ، اسی کا مظہر ہے۔

خلاصۂ کلام:یہ پارہ انسان کو مادّی زندگی کے سحر سے نکال کر روحانی زندگی کی طرف لاتا اور سکھاتا ہے کہ مشاورت معاشرے کی روح ہے، رزق کی کمی بیشی اللہ کی حکمت ہے، تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے، کائنات میں غور و فکر کرنا عبادت ہے اور نفس کےبجائے رب کی اطاعت کرنی چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here