Home Dept of Islamic Studies Articles چھبیسواں پارہ بتاتا ہے کہ ایک مسلمان کو اپنے رب،نبی ،والدین کے...

چھبیسواں پارہ بتاتا ہے کہ ایک مسلمان کو اپنے رب،نبی ،والدین کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے

قرآن کا پیغام (پارہ:۲۶)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید کا چھبیسواں پارہ ﴿حٰـمۗ﴾سورۃ الاحقاف سے شروع ہوتا اور سورۃ الذاریات کی آیت نمبر ۳۰؍پر ختم ہوتا ہے۔ اس پارے میں مجموعی طور پر عقائد، اخلاقیات، معاشرت اور سیاسی و جنگی احکامات کا حسین امتزاج ملتا ہے۔

سورۃ الاحقاف

تخلیقِ کائنات کا مقصد: اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کسی برحق مقصد کے بغیر اور کسی متعین میعاد کے بغیر پیدا نہیں کردیا،اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اس چیز سے منھ موڑے ہوئے ہیں جس سے انھیں خبردار کیا گیا ہے۔

والدین کے حقوق اور ایک جامع دعا: اس سورت میں انسانی حقوق میں سب سے اہم ’والدین کے حقوق‘ پر زور دیا گیا ہے۔ خاص طور پر ماں کی مشقتوں کا تذکرہ کیا گیا جس نے اسے تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور تکلیف کے ساتھ جنا۔ یہاںچالیس سال کی عمر کو پہنچنے والے انسانوں کو ایک خاص دعا سکھائی گئی جو شکر گزاری اور اپنی نسل کی اصلاح کے بارے میں ہے: ﴿رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِيْٓ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰي وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَاَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ ڝ اِنِّىْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاِنِّىْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ؀﴾یار رب ! مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کی اس نعمت کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی، اور ایسے نیک عمل کروں جن سے آپ راضی ہوجائیں، اور میرے لیے میری اولاد کو بھی صلاحیت دے دیجیے، میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں فرماں برداروں میں شامل ہوں۔

قومِ عاد کی عبرت: آگےحضرت ہودؑکی قوم کا ذکر ہے، انھوں نے طاقت کے گھمنڈ میں اللہ تعالیٰ کے پیغام کو جھٹلایا۔ ان پر ایک ایسی ہوا کا عذاب آیا جس نے سب کچھ تہس نہس کر دیا:﴿فَاَصْبَحُوْا لَا يُرٰٓى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ ۭ ﴾ان کی حالت یہ ہوگئی کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔

جنات کا تذکرہ: یہاں ایک اہم واقعہ مذکور ہے: ﴿وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ ﴾جب حضرت نبی کریم ﷺ قرآن پڑھ رہے تھے تو جنات کے ایک گروہ نے اسے سنا، وہ اس سے متاثر ہوئے اور اپنی قوم میں جا کر اسلام کی دعوت دینے لگے۔

سورۃ محمد

ایمان بہ مقابلہ کفر:اس سورت کا مرکزی موضوع جہاد اور کفر و اسلام کا معرکہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو کافر ہوئے ان کے اعمال ضایع کر دیے گئے، اور جو ایمان لائے ان کے گناہ مٹا کر ان کی حالت سنوار دی گئی۔ یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیچھے چلے ہیں، اور مومن حق کے پیچھے۔ اس سورت میں جنگ کے دوران دشمنوں سے نمٹنے اور قیدیوں کے بارے میں احکامات بھی دیے گئے ہیں۔

منافقین کا کردار: مدینے کے منافقین کی نفسیات بیان کی گئی کہ وہ جہاد کے حکم سے ڈرتے تھے، ان کے دلوں میں بیماری تھی۔ مزید فرمایا: ﴿اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا؀﴾ بھلا کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔

انفاق فی سبیل اللہ: آخر میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی اور بخل کرنے والوں کو خبردار کیا گیا کہ اگر تم نے منھ موڑا تو اللہ تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے گا، وہ تم جیسے نہیں ہوںگے: ﴿ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ؀﴾۔

سورۃ الفتح

سکینہ کا نزول:یہ سورت صلحِ حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی جسے اللہ تعالیٰ نے فتحِ مبین قرار دیا: ﴿اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا۝﴾ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دلوں پر اطمینان اور سکینہ نازل کیا تاکہ ان کا ایمان مزید مضبوط ہو۔

بیعتِ رضوان: جب صحابۂ کرامؓنے درخت کے نیچے بیعت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی رضا کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: (اے پیغمبر ! ) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کررہے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، اس کے بعد جو کوئی عہد توڑےگا اس کے عہد کو توڑنے کا وبال اسی پر پڑےگا، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اس کو زبردست ثواب عطا کرے گا۔

صحابہؓکی صفات: سورت کے اختتام پر فرمایا:﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ، الآیۃ﴾ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انھیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، غرض اللہ کے فضل اور خوش نودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

سورۃ الحجرات

ادبِ رسول: یہ سورت مسلمانوں کو تہذیب اور آداب سکھاتی ہے۔مومنین کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی آوازیں حضرت نبی کریمﷺ کی آواز سے اونچی نہ کریں، کیوںکہ یہ بے ادبی اعمال کو ضائع کر سکتی ہے:﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ، الآیۃ﴾۔

خبر کی تحقیق اور اصلاح و بھائی چارہ: حکم دیا گیا کہ اگر کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لو تاکہ نادانی میں کسی کا نقصان نہ ہو۔ مسلمانوں کے دو گروہوں میں لڑائی ہو جائے تو صلح کراؤ، کیوںکہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تمسخر، طعنہ زنی، برے القاب، بدگمانی، تجسس اور غیبت کو حرام بلکہ غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ قبیلے اور قومیں صرف پہچان کے لیے ہیں، اللہ کے نزدیک معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے:﴿ وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ ﴾۔

سورۃ قٓ

تخلیقِ نو: اس سورت میں منکرینِ آخرت کے شکوک کا جواب دیا گیا ہے۔کافروں کو تعجب تھا کہ مرنے کے بعد مٹی ہو کر کیسے اٹھیں گے؟﴿ءَاِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ۝﴾ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق اور مردہ زمین کے جی اٹھنے کو اس کی دلیل میں پیش کیا۔

نامۂ اعمال اور قیامت کی ہول ناکی: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انسان کی ہر بات کو نوٹ کرنے کے لیے فرشتے مقرر ہیں: ﴿مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَـدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ؀﴾آگے سکراتِ موت، صور پھونکا جانا اور جہنم کا یہ سوال﴿ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ؀﴾کو نہایت پر اثر انداز میں بیان کیا ہے۔

سورۃ الذاریات

قیامت کا وعدہ: اس سورت میں قسم کھا کر بتایا گیا کہ جس قیامت کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ برحق ہے: ﴿اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ۝ وَّاِنَّ الدِّيْنَ لَوَاقِــعٌ۝﴾ قیامت آ کر رہے گی اور اعمال کا بدلہ مل کر رہےگا۔ نیز متقین کے لیے باغات اور چشموں کا تذکرہ ہے جو راتوں کو کم سوتے تھے اور سحری کے وقت استغفار کرتے تھے۔ اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا باقاعدہ حق ہوتا تھا۔

خلاصۂ کلام: چھبیسواں پارہ ہمیں ایک مکمل ضابطۂ حیات دیتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایک مسلمان کو اپنے رب کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے،اپنے نبی کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے، اپنے والدین کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے، اور اپنے معاشرے میں کس طرح رہنا چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here