قرآن کا پیغام(پارہ:۳)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
تیسرا پارہ سورہ البقرہ کی آیت نمبر:۲۵۳؍ سے شروع ہوتا ہے اور سورہ آلِ عمران کی آیت نمبر:۹۲؍ پر ختم ہوتا ہے۔ اس پارے کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (۱)اللہ تعالیٰ کے احکام (۲) اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں (۳)انبیاعلیہم السلام کے واقعات۔
رسولوں کے درجات اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت: پارے کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ تمام رسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اس کے فوراً بعد آیت الکرسی آتی ہے، جو توحید کا شاہ کار ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمال بیان کی گئی ہیں: وہ حی و قیوم ہے، اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند، زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملکیت ہے، اور اس کے علم کے بغیر کوئی پتّا بھی نہیں ہل سکتا۔ یہ آیت انسان کے دل سے غیر اللہ کا خوف نکال کر اسے صرف ایک خالق کے سامنے جھکنے کا درس دیتی ہے۔
ایمان پر استقامت اور جبر کی نفی: اسلام میں داخلے کے لیے کسی قسم کی زبردستی کی گنجائش نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ ہدایت اور گم راہی میں فرق ظاہر ہو چکا ہے۔ جو شخص ’طاغوت‘(شیطان اور باطل قوتوں) کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لاتا ہے، اس نے گویا ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اہلِ ایمان کا دوست ہے، وہ انھیں گم راہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔
قدرتِ الٰہی کے تین تاریخی مشاہدات:اس پارے میں عقیدۂ آخرت اور قدرتِ خداوندی کو سمجھانے کے لیے تین اہم واقعات درج ہیں: (۱)نمرود کا مناظرہ: حضرت ابراہیمؑ نے جب اللہ تعالیٰ کا تعارف کرایا تو نمرود نے ہٹ دھرمی دکھائی۔ ابراہیمؑ نے فرمایا: میرا رب سورج کو مشرق سے لاتا ہے تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا۔ اس دلیل نے کافر کو مبہوت کر دیا (۲) سو سال کی نیند: ایک شخص ایک اجڑی بستی سے گزرے اور سوچا کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ کیسے زندہ کرےگا؟ اللہ تعالیٰ نے انھیں سو سال کے لیے موت دے دی اور پھر زندہ کر کے دکھا دیا، یہاں تک کہ ان کا کھانا تروتازہ تھا مگر سواری کا گدھا ہڈیوں کا ڈھیر بن چکا تھا۔ پھر ان کی آنکھوں کے سامنے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا کر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا عملی مظاہرہ کیا (۳)پرندوں کا واقعہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اطمینانِ قلب کے لیے مُردوں کو زندہ کرنے کا طریقہ دیکھنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں چار پرندے پالنے، پھر انھیں ذبح کر کے مختلف پہاڑوں پر رکھنے کا حکم دیا۔ جب انھوں نے پکارا تو وہ پرندے زندہ ہو کر ان کے پاس اڑتے ہوئے آ گئے۔
اقتصادی نظام: تیسرے پارے کا ایک بڑا حصہ معاشی اصلاحات پر مشتمل ہے۔ (۱)صدقہ و خیرات: اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ جس طرح ایک دانے سے سات بالیاں اور ہر بالی سے سو دانے پیدا ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا گیا مال بھی اسی طرح بڑھتا ہے، شرط یہ ہے کہ اس کے پیچھے منّ و اذٰی(احسان جتانا یا تکلیف دینا) نہ ہو۔ ریاکاری کے صدقے کو اس مٹی سے تشبیہ دی گئی جو چٹان پر ہو اور بارش اسے بہا لے جائے (۲)سود کی تباہ کاریاں: قرآن مجید نے سود کو انسانیت کا معاشی استحصال قرار دیتے ہوئے اسے اللہ و رسول کے خلاف جنگ کہا ہے۔ سود سے مال بہ ظاہر بڑھتا ہے مگر اصل میں اس کی برکت ختم ہو جاتی ہے، جب کہ صدقہ مال کو پاک اور بابرکت بناتا ہے (۳) معاملات کی تحریر: آیتِ مُداینہ میں لین دین کے احکام بیان کیے گئے ہیں کہ قرض کے معاملات کو لکھ لیا جائے اور گواہ بنا لیے جائیں تاکہ بعد میں نزاع نہ ہو۔
سورۃ آلِ عمران
سورہ آلِ عمران کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ اللہ ہی زندہ جاوید ہے اور اس نے قرآن مجید کو پچھلی کتابوں (تورات و انجیل) کی تصدیق کے لیے نازل کیا ہے۔
محکم و متشابہ: یہاں ایک اہم اصول بیان ہوا ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات بالکل واضح (محکمات) ہیں اور بعض کے معنی گہرے ہیں (وہ متشابہات ہیں)۔ ٹیڑھے دل والے لوگ متشابہات کے پیچھے پڑ کر فتنہ پھیلاتے ہیں، جب کہ پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ’ہم سب پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے‘۔
اہلِ کتاب کو دعوت: اس سورت میں عیسائیوں اور یہودیوں کو مخاطب کر کے توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ حضرت مریمؑ کی پاکیزگی، ان کی عبادت گزاری اور ان کے بطن سے حضرت عیسیٰؑکی بغیر باپ کے ولادت کا تذکرہ کر کے ان غلط فہمیوں کا ازالہ کیا گیا ہے جو عیسائیوں نے عقیدۂ تثلیث کی صورت میں پال رکھی تھیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات: اس پارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عظیم معجزات کا ذکر ہے: (۱)انھوں نے مہد میں کلام کیا (۲)مٹی کے پرندے بنا کر پھونک مارتے تو وہ اللہ کے حکم سے اڑنے لگتے (۳)وہ کوڑھیوں اور اندھوں کو شفا دیتے اور مُردوں کو اللہ تعالیٰ کے اذن سے زندہ کر دیتے تھے۔ ان تمام معجزات کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، نہ کہ اللہ یا اللہ کے بیٹے (جیسا کہ بعض نے سمجھ لیا)۔
معیارِ بندگی اور کامیابی:آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ سنہرا اصول بیان فرمایا: تم نیکی کے اس مقام کو ہرگز نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔ یہ آیت صحابۂ کرامؓاور مسلمانوں کے لیے ایثار و قربانی کا سب سے بڑا محرک بنی۔
مباہلہ: تیسرے پارے کے اختتامی حصے میں ایک اور اہم پہلو مباہلے کا واقعہ ہے، جو حق و باطل کے درمیان فیصلے کی ایک عظیم مثال ہے۔ جب نجران کے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰؑکے بارے میں حق بات ماننے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ انھیں چیلنج دیں کہ وہ اپنے بیٹوں، عورتوں اور جانوں کو لے کر آئیں اور ہم اپنے بیٹوں، عورتوں اور جانوں کو لاتے ہیں، پھر مل کر اللہ تعالیٰ سے جھوٹوں پر لعنت کی دعا کرتے ہیں۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ دلیل اور مکالمے کے بعد بھی اگر مخالف ہٹ دھرمی دکھائے، تو اسلام معاملے کو اللہ تعالیٰ کی عدالت پر چھوڑ دینے کا حکم دیتا ہے۔نیز اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ دین محض چند ظاہری رسومات کا نام نہیں بلکہ یہ عہد کی پاسداری اور تقوے کا نام ہے۔ جو لوگ اللہ کے عہد کو تھوڑی سی قیمت کے بدلے بیچ دیتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پارے کا اختتام اس سبق پر ہوتا ہے کہ اللہ کی محبت کا دم بھرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کریں کیوںکہ نبی کی اتباع ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتا ہے۔
حاصلِ کلام:یہ تیسرا پارہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ یہ اللہ کی قدرت پر کامل بھروسہ (توحید)، معاشی پاکیزگی (سود سے اجتناب)، سماجی ہم دردی (صدقہ و خیرات) اور انبیا کی تعلیمات کی مکمل پیروی کا نام ہے۔ یہ پارہ انسان کو دنیا کی مادی زندگی کی حقیقت سمجھا کر اسے آخرت کی دائمی کامیابی کے لیے تیار کرتا ہے۔






