قرآن کا پیغام (پارہ:۲۲)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا بائیسواں پارہ ﴿وَمَنْ يَقْنُتْ﴾ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر۳۱؍ سے شروع ہوتا ہے اور سورۂ یٰسین کی آیت نمبر۲۱؍پر ختم ہوتا ہے۔ اس پارے میں معاشرتی اصلاح، انبیا کے قصوں سے عبرت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل نہایت اثر انگیز انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔
ختمِ نبوت کا اعلان: اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے تمام ابہام دور کرتے ہوئے اعلان فرمایا:﴿مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا﴾ (مسلمانو ! ) حضرت محمد ﷺ تم مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔ یہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی بنیاد ہے، جس پر پورے دین کی عمارت کھڑی ہے۔یہ آیت وہ قطعی و محکم دلیل ہے جس نے نبوت کے جاری رہنے کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے ہیں۔
درود و سلام کی اہمیت: اللہ تعالیٰ نے اس پارے میں اپنی اور فرشتوں کی سنت بیان کی کہ وہ نبی پر درود بھیجتے ہیں اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ بھی مکمل آداب کے ساتھ آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجیں:﴿اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۗىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ ۭ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا﴾ ۔ یہ آیت نہ صرف ایک حکم، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے حبیب ﷺ کے لیے عظیم الشان اعلانِ محبت بھی ہے۔
سورۃ سبأ
حضرت داود و سلیمان علیہما السلام کا اقتدار: سورہ سبا اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اقتدار اور مال و دولت اللہ کی طرف سے آزمائش ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داودؑ کو ایسی آواز دی تھی کہ پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے، اور حضرت سلیمانؑکو ہواؤں اور جنات پر حکومت دی تھی۔ اتنی عظیم طاقت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انھیںشکر کا حکم دیا اور فرمایا کہ میرے بندوں میں بہت کم شکر گزار ہیں: ﴿وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ﴾۔یہ آیت انسانی نفسیات اور بندگی کے ایک بہت بڑے المیے کی نشان دہی کرتی ہے۔
قومِ سبا کا عبرت ناک انجام: یمن کی یہ قوم اپنی خوش حالی اور باغات کی وجہ سے مشہور تھی، ان کے پاس ایک عظیم ڈیم تھا جس سے ان کی زمینیں سیراب ہوتی تھیں، لیکن جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنی محنت کا نتیجہ سمجھا اور ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے ڈیم توڑ دیا ﴿فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ ﴾ اور ایسا سیلاب آیا جس نے سب کچھ ملیامیٹ کر دیا۔ یہ قصہ آج کے دور کے مادّہ پرست انسان کے لیے ایک بڑی تنبیہ ہے۔
صرف ایک نصیحت: ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم بہت سی باتیں نہیں مانتے تو صرف ایک نصیحت مان لو، وہ یہ کہ اپنے سوچنے کا طریقہ بدل لو۔ تنہائی میں یا دو دو ہو کر سوچنا یہ ایک بہت بڑا نفسیاتی نکتہ ہے، جب لوگ ہجوم یا بڑے مجمع میں ہوتے ہیں، تو ’عوامی جوش‘ یا ’تعصب‘ کا شکار ہو جاتے ہیں اور دوسروں کی دیکھا دیکھی غلط بات پر بھی اصرار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اے پیغمبر) ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمھیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم چاہے دو دو مل کر اور چاہے اکیلے اکیلے اللہ کی خاطر اٹھ کھڑے ہو۔ پھر سوچو (توفوراً سمجھ میں آجائے گا کہ) تمھارے اس ساتھی (یعنی محمد ﷺ) میں جنون کی کوئی بات بھی تو نہیں ہے۔ وہ تو ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے تمھیں خبردار کررہے ہیں۔
سورۃ فاطر
فرشتوں کا نظام:سورۂ فاطر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا ایک عظیم بیانیہ ہے۔ اس میں بنیادی طور پر مشرکین کو توحید اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا:﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۭ يَزِيْدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ﴾ ۔ تمام تر تعریف اللہ کی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے ان فرشتوں کو پیغام لے جانے کے لیے مقرر کیا ہے، جو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے ہیں۔ وہ پیدائش میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کردیتا ہے۔ بےشک اللہ ہر چیز کی قدرت رکھنے والا ہے۔ اس میں کائنات کی وسعت [Expanding Universe] کا بیانیہ بھی موجود ہے۔
رحمت کے دروازے: انسان کو سمجھایا گیا ہے: ﴿مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ﴾ جس رحمت کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے کھول دے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے، اور جسے وہ روک لے، تو کوئی نہیں ہے جو اس کے بعد اسے چھڑا سکے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ اس آیت سے توکل اور استقامت کا سبق ملتا ہے۔اس آیت میں انسانی زندگی کے سب سے بڑے اضطراب اور خوف کا علاج بیان کیا گیا ہے۔
علما کی اصل تعریف: قرآن مجید نے یہاں ایک انقلابی بات ارشاد فرمائی:﴿ ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا﴾ اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ یہاں علم سے مراد صرف معلومات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی قدرت کا ادراک ہے۔ جو شخص کائنات کے اسرار کو جتنا زیادہ جانتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے اتنا ہی زیادہ جھکتا ہے۔
فاطرِ کائنات کے مظاہر: آگے ارشاد فرمایا:سفید، سرخ اور کالے پہاڑ، مختلف ذائقوں والے سمندر اور پھلوں کے رنگوں کا فرق یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے شاہ کار ہیں، جو انسان کو دعوتِ فکر دیتے ہیں۔اس طرح کائنات کی رنگینی اور تنوع [Diversity] کو اللہ کی معرفت کا ذریعہ بتایا ہے۔
اللہ کی طرف سے مہلت: آخری آیت میں فرمایا: اگر اللہ لوگوں کی ہر کرتوت پر ان کی پکڑ کرنے لگتا تو اس زمین کی پشت پر کسی چلنے والے کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ ایک معین مدت تک کے لیے ان کو مہلت دے رہا ہے۔ پھر جب ان کا مقررہ وقت آجائےگا تو اللہ اپنے بندوں کو خود دیکھ لےگا۔
سورۃ یٰسین
پارے کے آخر میں سورۂ یٰسین کی ابتدائی آیات شامل ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمت بالغہ کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ اس میں اسلام کے بنیادی عقائد بڑے فصیح وبلیغ انداز میں بیان فرمائے گئے ہیں، اسی لیے حضور ﷺنے اسے قرآن کا دل قرار دیا ہے۔
رسالت کی حقانیت: ﴿يٰسۗ وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ﴾اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم کھا کر آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دی اور قرآن کو ’حکیم‘ کہا،کیوںکہ اس کی ہر بات حکمت پر مبنی ہے۔
حبیبِ نجار کا واقعہ: ایک بستی میں تین رسول آئے، لیکن قوم نے انھیں جھٹلایا۔ بستی کے دور دراز کونے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا: ﴿يٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِيْنَ اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا يَسْـَٔــلُكُمْ اَجْرًا وَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ﴾ اے میری قوم کے لوگو ! ان رسولوں کا کہنا مان لو۔ ان لوگوں کا کہنا مان لو، جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگ رہے، اور وہ صحیح راستے پر ہیں۔یہ ایک نہایت دل نشین اور سبق آموز داستان کا حصہ ہے۔
خلاصۂ کلام:بائیسواں پارہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حیا اور حجاب اسلامی معاشرے کی روح ہیں۔ شکر گزاری نعمتوں میں اضافے اور ناشکری زوال کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ کو عاجزی پسند ہے، چاہے انسان کتنا ہی صاحبِ اقتدار کیوں نہ ہو۔ آخرت کی فکر ہی انسان کے اعمال کو درست رکھتی ہے۔ یہ پارہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کا راستہ کٹھن ضرور ہے، لیکن اس کا انجام دائمی کامیابی اور جنت کے انعامات ہیں۔






