تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی رشیداحمد لدھیانویؒکا فتویٰ
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب دامت برکاتہم! تراویح پر اجرت لینا مان لیا کہ ناجائز ہے، لیکن قرآن کی اجرت کون دیتا ہے، اور لوگ دیتے ہی کیا ہیں؟ کچھ نقد یا کپڑے وغیرہ سے ان کی خدمت کرنے میں کیا حرج ہے؟اتنی شدت نہیں اختیار کرنی چاہیے۔
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ تحریر فرماتے ہیں: خدمت کے نام سے نقد یا کپڑے وغیرہ دینا بھی معاوضہ ہی ہے اور اجرت طے کرنے کی بہ نسبت زیادہ قبیح ہے ، اس لیے کہ اس میں دو گناہ ہیں؛ ایک قرآن سنانے پر اجرت کا گناہ اور دوسرا جہالتِ اجرت کا گناہ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاری اور سامع بھی للہ کام کرتے ہیں اور ہم بھی للہ ان کی خدمت کرتے ہیں معاوضہ مقصود نہیں ، ایسے حیلے بازوں کی نیت معلوم کرنے کے لیے حضراتِ فقہا رحمہم اللہ تعالیٰ نے یہ امتحان رکھا ہے کہ اگر قاری اور سامع کو کچھ بھی نہ ملے تو وہ آیندہ بھی اس مسجد میں خدمت کے لیے آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں؟ اور اہلِ مسجد کا امتحان یہ ہے کہ اگر یہ قاری اور سامع ان کی مسجد میں نہ آئیں تو بھی یہ لوگ ان کی خدمت کرتے ہیں یا نہیں؟اب دورِ حاضر کے لوگوں کو اس کسوٹی پر لائیے؛ قاری اور سامع کو اگر کسی مسجد سے کچھ نہ ملا تو آیندہ وہ اس مسجد کی طرف رخ بھی نہیں کریںگے، اور اہلِ مسجد کا یہ حال ہے کہ جس قاری یا سامع نے ان کی مسجد میں کام نہیں کیا وہ خواہ کتنا ہی محتاج ہو ان کو اس کی زبوں حالی پر قطعاً کوئی رحم نہیں آتا ، اس سے ثابت ہوا کہ جا نبین کی نیت معاوضے کی ہے اور للہیت کے دعوے میں جھوٹے ہیں ، لہٰذا اس طرح سننے اور سنانے والے سب سخت گنہ گار اور فاسق ہیں اورایسے قاری کی امامت مکروہِ تحریمی ہے ۔ فرائض میں فاسق کی امامت کا یہ حکم ہے کہ اگر صالح امام میسر نہ ہو یا فاسق امام کو ہٹانے کی قدرت نہ ہو تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھ لی جائے، ترکِ جماعت جائز نہیں، مگر تراویح کا حکم یہ ہے کہ کسی حال میں بھی فاسق کی اقتدا میں جائز نہیں، اگر صالح حافظ نہ ملے تو چھوٹی سورتوں سے تراویح پڑھ لی جائی۔ اگر محلّے کی مسجد میں ایسا حافظ تراویح پڑھائے تو فرض (شرعی) مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کر کے تراویح الگ مکان میں پڑھیں۔بالفرض کسی قاری کا مقصود معاوضہ نہ ہو تو بھی لین دین کے عرف کی وجہ سے اس کی توقع ہوگی اور کچھ نہ ملنے پر افسوس ہوگا، یہ اشرافِ نفس ہے، جو حرام ہے۔اگر کسی قاری کو اشرافِ نفس سے بھی پاک تصور کر لیا جائے تو بھی اس لین دین میں عام مروج فعلِ حرام سے مشابہت اور اس کی تائید ہوتی ہے، علاوہ ازیں دینی غیرت کے بھی خلاف ہے، اس لیے بہ ہر کیف اس سے کلّی اجتناب واجب ہے۔ [احسن الفتاویٰ]فقط
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی





![انشورنس [Insurance]میں جمع کرائی گئی رقم پر زکوٰۃ](https://afif.in/wp-content/uploads/2026/03/33-Insurance-ki-raqam-par-zakat-100x70.jpg)
