Home Dept of Islamic Studies Articles تیرھواں پارہ ہمیں اس حقیقت کی طرف لوٹاتا ہے کہ کائنات کا...

تیرھواں پارہ ہمیں اس حقیقت کی طرف لوٹاتا ہے کہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ کے حساب میں ہے

قرآن کا پیغام (پارہ:۱۳)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید کا تیرھواں پارہ ﴿ وَمَآ اُبَرِّئُ﴾ انسانی زندگی کے تین اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے: اخلاق و کردار کی بلندی (سورۂ یوسف)، کائنات کے مادّی نظام میں خدا کی وحدانیت کے دلائل (سورۂ رعد)، اور انسانی تاریخ میں شکر گزاری و بندگی کا نمونہ (سورۂ ابراہیم)۔

نفسِ امارہ کی حقیقت اور خود احتسابی:سورۂ یوسف کا آخری حصہ جو اس پارے میں شامل ہے، انسانی جذبات اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے بہترین تال میل کی عکاسی کرتا ہے۔پارے کا آغاز حضرت یوسف علیہ السلام کے اس تاریخی جملے سے ہوتا ہے:﴿ وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ؀﴾ اور میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرمادے تو بات اور ہے ( کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا)! یہاں قرآن مجید نے انسانی نفسیات کی اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کے اندر ’نفسِ امارہ‘ کی صورت میں چھپا ہوا ہے۔ کامیاب انسان وہی ہے جو اپنے نفس کی کمزوریوں کا اعتراف کرے اور مسلسل اللہ تعالیٰ کی رحمت کا طلب گار رہے۔

معاشی حکمتِ عملی اور سیاسی عروج: حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کا تخت سنبھالنے کے بعد جس دیانت داری اور حسنِ انتظام کے ساتھ قحط سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کی، وہ قیامت تک کے حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے غلّے کی حفاظت کے لیے جو تکنیک اپنائی، آج کی فوڈ سیکیورٹی کے اصول اس سے ہم آہنگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کے ذریعے ثابت کیا کہ جب انسان علم کے ساتھ امانت کو جمع کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے زمین میں اقتدار بخشتا ہے۔

بھائیوں کی نفسیاتی تربیت اور عفوو درگزر: حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو فوراً سزا نہیں دی بلکہ ایک طویل عمل کے ذریعے انھیں ان کی غلطی کا احساس دلایا۔ جب حقیقت واضح ہو گئی اور بھائیوں نے اپنی خطا تسلیم کر لی تو انھوں نے وہ عظیم جملہ کہا جو رہتی دنیا تک درگزر کی مثال بن گیا: ﴿لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۭ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ؁﴾آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی، اللہ تمھیں معاف کرے، وہ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ خیال رہنا چاہیے کہ یہ معافی اس وقت دی گئی جب کہ آپ کو مکمل اقتدار حاصل تھا، یہ اخلاقِ کریمانہ کی معراج ہے۔

سورۃ رعد

نظامِ کائنات کی ہم آہنگی: سورۂ رعد حق کی سچائی کو کائنات کے مادّی دلائل سے ثابت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مادّی قوتوں کا تذکرہ کیا ہے جو انسان کے قابو میں نہیں۔ بادلوں کا اٹھنا، بجلی کا کڑکنا، اور بارش کے ذریعے مردہ زمین کا زندہ ہو جانا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ سب اتفاقیہ نہیں ہے۔ جس طرح آسمان اللہ تعالیٰ کے حکم سے بغیرستونوں کے کھڑا ہے، اسی طرح انسانی زندگی کا نظام بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر قایم نہیں رہ سکتا۔

سماجی تبدیلی کا عالم گیر قانون: اس پارے کی ایک آیت سماجی تبدیلی کا بنیادی قانون پیش کرتی ہے:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ﴾ یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔ یہ آیت ہر اس فرد اور قوم کے لیے ہے جو زوال سے نکل کر عروج حاصل کرنا چاہتی ہے۔

دلوں کا اطمینان اور ذکرِ الٰہی: آج کے مادّہ پرست دور میں جہاں ہر طرف بے چینی عام ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا حل یہ بتایا:﴿اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ؀﴾یا درکھو کہ صرف اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ اور ذکر صرف تسبیح پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور استحضار کا نام ہے۔ جب دل اللہ تعالیٰ سے جڑ جاتا ہے تو دنیا کے دکھ اسے بے چین نہیں کر سکتے۔

سورۃ ابراہیم

شکر اور ناشکری کا نتیجہ: ﴿لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ۝﴾اللہ تعالیٰ نے ایک دائمی قاعدہ بیان کیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں نعمتوں میں اضافہ کروںگا اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔ شکر گزار انسان ہمیشہ مثبت سوچ رکھتا ہے، جب کہ ناشکرا انسان موجود نعمتوں کی قدر کھو دیتا ہے۔

ایمان کی مثال- ایک مضبوط درخت: اللہ تعالیٰ نے (ایمان) کو ایک ایسے پاکیزہ درخت سے تشبیہ دی ہے جس کی جڑیں گہری اور شاخیں بلند ہوں ﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِي السَّمَاۗءِ؀﴾یعنی مومن کا کردار اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ حالات کی آندھیاں اسے اکھاڑ نہیں سکتیں۔ جب کہ کفر ایک بے بنیاد جھاڑی کی طرح ہے جو ذرا سی ہوا سے اکھڑ جاتی ہے: ﴿وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ؁﴾۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں اور کعبہ کی تعمیر: پارے کا آخری حصہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نہایت رقت آمیز دعاؤں پر مشتمل ہے۔ آپ نے مکّے کی وادی میں اپنی اولاد کو بساتے ہوئے جو دعائیں کیں، ان میں نماز کے قیام کو سب سے اول رکھا۔ آپؑنے دعا کی تھی:﴿رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ؀﴾اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو آپ کے حرمت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی، ہمارے رب! (یہ میں نے اس لیے کیا) تاکہ یہ نماز قایم کریں۔ لہٰذا لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے کشش پیدا کردیجیے اور ان کو پھلوں کا رزق عطا فرمائیے،تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔یہ دعائیں اپنی اولاد کے لیے ایک باپ کی بہترین فکر کی عکاسی کرتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی عدالت کا منظر: پارے کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کی عدالت کا وہ منظر پیش کیا گیا ہے جہاں زمین دوسری زمین سے بدل دی جائےگی اور سب لوگ اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہوںگے۔ مجرموں کے لباس گندھک کے ہوں گے اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لےگی۔ یہ ہول ناک منظر کشی دراصل انسان کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ہے تاکہ وہ وقت ختم ہونے سے پہلے اپنی اصلاح کر لے۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ وہ جہاں مومنوں کو جنت کی بشارت دیتا ہے، وہیں ظالموں کو ان کے انجام سے ڈرا کر عدل و انصاف کی راہ پر لاتا ہے۔

حاصلِ کلام:یہ پارہ ہمیں اس حقیقت کی طرف لوٹاتا ہے کہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ کے حساب میں ہے اور کوئی بھی عمل ضایع ہونے والا نہیں ہے۔ یہ ہمیں ایک ایسی متوازن شخصیت بنانے کا درس دیتا ہے جو تنہائی میں اپنے نفس پر نظر رکھے، معاشرے میں معافی اور عدل کا راستہ اپنائے، کائنات کی نشانیوں سے اپنے ایمان کو تازہ کرے اور ہر نعمت پر شکرادا کرے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ حق ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور باطل جھاگ کی طرح ختم ہو جانے والا ہے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنے دلوں کو آباد کر لیں تو دنیا کا کوئی بھی طوفان ہمارا سکون تباہ نہیں کر سکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here