قرآن پڑھو، اس کو کھانے اور مال بڑھانے کا ذریعہ نہ بناؤ

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو ! (یہودی) احبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتےان کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔[التوبہ] اس آیت میں مسلمانوں کو مخاطب بنا کر یہود و نصاریٰ کے علما و مشائخ کے ایسے حالات کا ذکر ہے جن کی وجہ سے عوام میں گم راہی پھیلی، مسلمانوں کو مخاطب کرنے سے شاید اس طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ یہ حالات یہود و نصاریٰ کے علماو مشائخ کے بیان ہو رہے ہیں لیکن ان کو بھی اس سے متنبہ رہنا چاہیے کہ ان کے ایسے حالات نہ ہوجائیں۔اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ کے بہت سے علما و مشائخ کا یہ حال ہے کہ باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور اللہ کے سیدھے راستے سے ان کو روکتے ہیں۔ [معارف القرآن]

سورہ آلِ عمران میں ارشاد فرمایا:اور بےشک اہلِ کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کے آگے عجز و نیاز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اس کتاب پر بھی جو تم پر نازل کی گئی ہے، اور اس پر بھی جو ان پر نازل کی گئی تھی، اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت لے کر بیچ نہیں ڈالتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہیں، بےشک اللہ حساب جلد چکانے والا ہے۔[آلِ عمران]

سورہ بقرہ اور سورہ مائدہ میں ارشاد فرمایا: اور میری آیتوں کو معمولی سی قیمت لے کر نہ بیچو۔ [البقرۃ،المائدۃ]حضرت ابوالعالیہ سے روایت ہے، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پر اجرت نہ لی جائے۔[تفسیر ابن کثیر]بعض کج فہموں نے آیت کے الفاظ سے یہ مطلب نکالا کہ اس میں تھوڑی قیمت لینے کو منع کیا گیا ہے لیکن اگر منھ مانگی یا زیادہ قیمت ملے تو لی جا سکتی ہے، جب کہ آیت کا مفہوم واضح ہے کہ اس کے مقابلے میں دنیا کے تمام خزانےنہایت قلیل ہیں اور ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔سورۂ نحل میں فرمایا: اور اللہ کے عہد کو تھوڑ سی قیمت میں نہ بیچ ڈالو، اگر تم حقیقت سمجھو تو جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمھارے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ [النحل]اس آیت کے ذیل میں حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحبؒفرماتے ہیں:یہاں تھوڑی سی قیمت سے مراد دنیا اور اس کے منافع ہیں، وہ مقدار میں کتنے بھی بڑے ہوں آخرت کے منافع کے مقابلے میں ساری دنیا اور اس کی ساری دولتیں بھی قلیل ہی ہیں، جس نے آخرت کے بدلے میں دنیا لے لی، اس نے انتہائی خسارے کا سودا کیا ہے کہ ہمیشہ رہنے والی اعلیٰ ترین نعمت و دولت کو بہت جلد فنا ہونے والی گھٹیا قسم کی چیز کے عوض بیچ ڈالنا کوئی سمجھ بوجھ والا انسان گوارا نہیں کرسکتا۔[معارف القرآن]

پوری دنیا کی ساری نعمتوں کا قلیل ہونا اگلی آیت میں اس طرح بیان فرمایا:جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے، اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا ہم انھیں ان کے بہترین کاموں کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔ [النحل]سورہ ہود میں ارشاد فرمایا: جو لوگ (صرف) دنیوی زندگی اور اس کی سج دھج چاہتے ہیں ہم ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ اسی دنیا میں پورا پورا دے دیں گے اور یہاں ان کے حق میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں دوزخ کے سوا کچھ نہیں ہے، اور جو کچھ کارگزاری انھوں نے کی تھی وہ آخرت میں بےکار ہوجائے گی اور جو عمل وہ کر رہے ہیں( آخرت کے لحاظ سے) کالعدم ہیں۔ [ہود]

عن قریب ایسے لوگ آئیںگے

حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺہماری مجلس میں تشریف لائے، ہم قرآن پڑھ رہے تھے ، ہم میں اعرابی بھی تھے اور عجمی بھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پڑھتے رہو ، سب ٹھیک ہے، عن قریب ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (قرآن کو ) ایسے سیدھا کریں گے جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے، وہ اس کا اجر جلد لینا چاہیںگے( یعنی دنیا ہی میں ) اور ( آخرت تک ) مؤخر نہیں کریں گے ۔ [ابوداود]

حضرت سہل بن سعد ساعدیؓسے روایت ہے، ایک دن رسول اللہ ﷺہمارے پاس تشریف لائے، ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: الحمداللہ! اللہ کی کتاب ایک ہے، اور تم لوگوں میں اس کی تلاوت کرنے والے سرخ، سفید، سیاہ سب طرح کے لوگ ہیں، تم اسے پڑھو، قبل اس کے کہ ایسے لوگ آ کر اسے پڑھیں جو اسے اسی طرح درست کریںگےجس طرح تیر کو درست کیا جاتا ہے، مگر اس کا بدلہ دنیا ہی میں لے لیا جائے گا اور اسے آخرت کے لیے نہیں رکھا جائےگا۔ [ابوداود]

حضرت عمران بن حصینؓسے منقول ہے، وہ ایک قاری کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھ رہا تھا، پھر اس نے ان سے کچھ مانگا تو انھوں نے ﴿اِنَّا لِلہ وَاِنَّآ اِلَیہ رَاجِعُون﴾ پڑھا، پھر حدیث بیان کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، آپﷺ نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھے اسے چاہیے کہ اللہ سے سوال کرے، اس لیے کہ عن قریب ایسے لوگ آئیںگے جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کریںگے۔ [ترمذی]
حضرت عمرؓ نے فرمایا: قرآن پڑھو اور قرآن کے ذریعے اللہ سے سوال کرو، اس سے پہلے کہ ایک قوم ایسی آئےگی جو لوگوں سے قرآن کے واسطے سے مانگاکرےگی۔[مصنف ابن ابی شیبہ]

قرآن کو کھانے کمانے کا ذریعہ نہ بناؤ

حضرت ابو ہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: قرآن پڑھو، اس کو کھانے اور مال بڑھانے کا ذریعہ نہ بناؤ، نہ اس میں غلو کرو ،نہ اس میں بےوفائی کرو، قرآن پڑھو کیوں کہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرےگا۔[طبرانی اوسط]

جس نے دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنایا

حضرت اسماء بنت عمیس خثعمیہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کتنا برا ہے وہ بندہ جس نے اپنے آپ کو اچھا سمجھا اور تکبر کیا اور بلند وبالا ذات کو بھول گیا، وہ بندہ بھی بہت برا ہے جو لہو ولعب میں مشغول ہو کر قبروں اور قبر میں گل سڑ جانے والی ہڈیوں کو بھول گیا، وہ بندہ بھی برا ہے جس نے سرکشی و نافرمانی کی اور اپنی ابتداے خِلقت اور انتہا کو بھول گیا، وہ بندہ بھی برا ہے جس نے دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنایا، وہ بندہ بھی برا ہے جس نے حرص کو راہ نما بنالیا، وہ بندہ بھی برا ہے جسے اس کی خواہشات گم راہ کردیتی ہیں، وہ بندہ بھی برا ہے جسے اس کی حرص ذلیل کردیتی ہے۔ [ترمذی]

جنت کی خوش بو بھی نہیں پائےگا

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ایسا علم-جس کے ذریعے اللہ تبارک تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کی جاتی ہے- اس لیے سیکھا کہ اس کے ذریعے اسے دنیا کا کچھ مال و متاع مل جائے، ایسا شخص قیامت کے دن جنت کی خوش بو کو بھی نہیں پا سکےگا، یعنی جنت کی ہوا۔ [ابوداود]

دنیوی فایدے کے لیے قرآن پڑھنا

حضرت بریدہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قرآن اس لیے پڑھے کہ اس کے ذریعے لوگوں سے کمائے، وہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھ کر آئےگا کہ اس کا چہرہ صرف ہڈی ہوگا، اس پر گوشت نہیں ہوگا۔ [مشکوۃ]

شارحِ مشکوٰۃ علامہ نواب قطب دہلویؒ فرماتے ہیں:حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت تنبیہ اور وعید ہے جو قرآنِ کریم کو بھیک مانگنے کا ذریعہ بناتے ہیں، یوں تو یہ بات بہ طور خود انسانی شرف کے خلاف ہے کہ کوئی شخص اپنے خدا کو چھوڑ کر اپنے ہی جیسے ایک انسان کے سامنے دستِ سوال دراز کرے اور اسے حاجت روا قرار دے، چہ جائے کہ اس قبیح فعل کے لیے قرآنِ کریم کو ذریعہ بنایا جائے، اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ قرآنِ کریم پڑھ کر صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے آگے دستِ سوال دراز کرو، اپنے اخروی اور دنیوی امور میں جو چاہے اس سے مانگو، لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلاؤ، کیوں کہ وہ خود اسی ذات کے محتاج ہیں، وہ تمھاری کیا حاجت پوری کریں گے۔[مظاہر حق جدید]

حضور ﷺ کی پیشین گوئی

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺنے فرمایا: لوگوں پر ایک وقت آئےگا جب آدمی کو اس کی کچھ پروا نہیں ہوگی کہ مال حلال طریقے سے حاصل کیا یا حرام طریقے سے؟ [بخاری]

امامت، و تدریس پر اجرت جائز، لیکن تراویح؟

حضرت عثمان بن ابوالعاصؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے مجھے آخری وصیت یہ کی تھی کہ میں ایسا مؤذن مقرر کروں جو اذان پر اجرت نہ لے۔امام ترمذیؒفرماتے ہیں:اہلِ علم کا اس پر عمل ہے کہ مؤذن کے لیے اذان پر اجرت لینا ناپسندیدہ ہے، اور مؤذن کے لیے مستحب ہے کہ وہ آخرت کے ثواب کے لیے اذان دے۔ [ترمذی]اس حدیث سے علما نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ عباداتِ محضہ پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ [تحفۃ الالمعی]تین چیزیں ہیں؛ (۱)عبادتِ محضہ جیسے اذان ، اقامت، امامت، قرآن وحدیث و تفسیر کی تعلیم وغیرہ (۲)دوم معاملاتِ محضہ جیسے بیع و شرا، اجارہ وغیرہ (۳)دونوں سے مرکب جیسے نکاح وغیرہ۔ تمام ائمہ متفق ہیں کہ جو چیزیں معاملاتِ محضہ ہیں یا دونوں سے مرکب ہیں ان پر اجرت لینا جائز ہے، اور جو چیزیں عباداتِ محضہ ہیں ان پر اجرت لینا جائز نہیں۔ مگر جب احوال بدلے؛ خلافتِ عباسیہ ڈانواڈول ہو گئی اور اسلام پھیلتا ہوا دار الاسلام سے دار الکفر تک پہنچا اور دینی کام کرنے والوں کی کفالت کرنے والا کوئی نہ رہا تو بدلے ہوئے حالات میں متاخرین علما نے دین کے ان کاموں پر -جن کے ساتھ اسلام کی شان وابستہ ہے- اجرت لینے کے جواز کا فتویٰ دیا اور آج تک یہی فتویٰ چل رہا ہے، کیوں کہ ابھی حالات سدھرے نہیں، جب حالات پلٹ جائیںگے اور اسلام کی سابقہ شان و شوکت لوٹ آئےگی اس وقت عدم جواز کا فتویٰ دیا جائےگا۔اور متاخرین نے بدلے ہوئے حالات میں یہ جو دو سر افتویٰ دیا ہے یہ شریعت کی تبدیلی نہیں، کیوں کہ اس کی اصل موجود ہے، جب عدم جواز کا فتویٰ تھا اس وقت بھی دینی کام کرنے والوں کی کفالت حکومت کیا کرتی تھی، علما کو جاگیریں اور وظیفے دیے جاتے تھے اور وہ وظیفے بیت المال سے دیے جاتے تھے اور بیت المال لوگوں کی جیبوں سے جمع ہوتا تھا، پھر جب بیت المال کا نظام کمزور پڑ گیا یا درہم برہم ہو گیا تو متاخرین علما نے دینی کام کرنے والوں کا خرچہ بلا واسطہ لوگوں کی جیبوں پرڈال دیا۔ یہ خرچہ پہلے بھی لوگوں کے ذمّے تھا اب بھی انھیں کے ذمّے ہے، بس اتنا فرق ہے کہ پہلے درمیان میں حکومت کا واسطہ تھا، اب وہ واسطہ باقی نہیں رہا،البتہ دین کے وہ کام جن کے ساتھ اسلام کا نظام وابستہ نہیں مثلاً میت کے لیے ایصالِ ثواب کرنا یا رمضان میں تراویح میں قرآن سنانا، ان پر اجرت لینا اب بھی جائز نہیں ۔[تحفۃ الالمعی]

[کالم نگار مشہور عالمِ دین اورالفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے صدر و مفتی ہیں]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here