پروفیسر صاحب علی کا علمی و ادبی سرمایہ

[وفات: ۲۴؍جنوری ۲۰۲۰ء]

ڈاکٹر ندیم احمد انصاری

پروفیسر صاحب علی مرحوم-ہر دل عزیز استاذ، شعبۂ اردو، ممبئی یونی ورسٹی کے سربراہ – کے انتقال کو ایک سال بیت چُکا ہے۔ آپ کی ادبی خدمات میں شعبے کی ترقی اور مختلف النوع سرگرمیوں کا حصہ زیادہ اور اس کے بالمقابل قلمی خدمات کا حصہ کم ہے۔ آپ کی خدمات کا مفصل جایزہ لینا آپ سے وابستہ اساتذہ اور طلبہ کا اخلاقی فرض ہے۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن زبان و ادب کی لائن سے جو خدمات انھوں نے اپنی حیاتِ مستعار میں انجام دیں،اس کے گہرے نقوش موجود ہیں، ان سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔اس مختصر مقالے میں موصوف کے علمی سرمایے کا ایک مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔ موصوف نے (ہماری اطلاع کے مطابق ) کُل گیارہ کتابیں یادگار چھوڑی، انھیں ہم نے درجِ ذیل تین زمروں میں رکھا کیا ہے؛ تحقیق و تنقید، ترتیب اور ترجمہ نگاری۔

تحقیق و تنقید

(۱) اردو فکشن کا مطالعہ (۲۰۰۶ء)

اس کتاب کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ناول اور افسانہ۔ اس کتاب میں شامل بیش تر مشمولات پروفیسر صاحب کی طالبِ علمی کے زمانے کے لکھے ہوئے اور اردو کے مؤقر رسائل و اخبار میں شایع ہو چکے ہیں۔علاوہ ازیں چند ریڈیائی تقریریں ہیں اور کچھ مضامین ایم اے اور نیٹ (Net) میں بیٹھنے والے طلبہ کے لیے لکھے گئے ہیں۔ چند مقالے ایسے ہیں جو قومی سمینار میں پڑھے گئے ہیں۔ کتاب کے تمام مضامین کی حیثیت تنقیدی اور تجزیاتی ہے۔ مشمولات کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:ناول:(۱) نِرملا کی عصری معنویت (۲)ایک چادر میلی سی: ایک مطالعہ (۳)اداس نسلیں: ایک مطالعہ (۴)اردو ناولوں میں نسائی بیداری۔ افسانہ: (۱)مختصر افسانے کا اجمالی جایزہ (۲)اردو افسانوں میں شہری زندگی کے مسائل (۳)جدید اردو افسانے کے موضوعات (۴)اردو میں علامتی اور تجریدی افسانے (۵)پریم چند کے افسانے (۶)کفن کا لافانی کردار :گھیسو(۷)پریم چند کے خطوط کی معنویت (۸)قرۃ العین حیدر کے افسانے (۹)قاضی عبد الستار کی افسانہ نگاری (۱۰)’نذرِ قاضی عبد الستار‘ پر ایک نظر (۱۱)بادِ صبا کا انتظار

ٔ(۲)گلدستہ پیامِ یار:ایک مطالعہ(سالِ اشاعت درج نہیں)

ماضی میں جب کہ طباعت کا مرحلہ دشوار اور ذرائعِ ابلاغ کی کمی تھی،اور ادبی حلقوں میں شعری نشستیں منعقد کی ہوتی تھیں، ان میں شعرا اپنا کلام پیش کرتے تھے، ان شعری نشستوں کو عام کرنے کی غرض سے ’گلدستہ‘ کا رواج ہوا،اس میں شعری نشستوں میں پڑھے جانے والے کلام کا انتخاب اور شاعر کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا تھا۔ ادبی تاریخ نگاری میں گلدستوں کی بڑی اہمیت ہے۔ اس سے تاریخِ ادب کی نامعلوم کڑیوں کو ملانے میں مدد ملتی ہے۔ پروفیسر صاحب علی نے ایم فل میں تحقیق کے لیے ڈاکٹر علی خان کی زیرِ نگرانی ’گلدستہ پیامِ یار: ایک مطالعہ‘ کو موضوع بنایا ۔یہ مقالہ تقریباً ۲۵۰؍صفحات میں طبع شدہ ہے۔ اس میں چار ابواب ہیں:(۱)طرحی مشاعری کی روایت (۲)گلدستۂ پیامِ یار (۳)پیامِ یار کے شعری مشمولات (۴)پیامِ یار کے نثری مشمولات

(۳)ریاض خیرآبادی کی صحافت(۲۰۲۰ء)

 

ریاض خیرآبادی (قصبہ خیرآباد، ضلع سیتا پور، یو پی) اردو کے ایک اہم شاعر اور خمریاتی ادب کے عظیم نمایندے ہیں۔انھیں خمریہ شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں صحافت سے بھی ان کا گہرا تعلق رہا، لیکن ان کی صحافتی خدمات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ پروفیسر صاحب علی نے پی ایچ ڈی میں تحقیق کے لیے اس موضوع کا انتخاب کیا۔ موصوف کے انتقال سے چند ہفتوں قبل یہ مقالہ ایک ضخیم کتاب کی صورت میں زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر سامنے آیا۔کتاب کے درجِ ذیل چھے ابواب ہیں: (باب-۱) ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد ہندوستان کے حالات۔ اس میں تین ذیلی عنوانات ہیں؛ سیاسی اور سماجی حالات، سرسید کے اصلاحی کارنامے، ادبی ماحول (باب-۲)ریاض خیرآبادی کی حیات (باب-۳)۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی سے قبل اردو صحافت (باب-۴)ریاض خیرآبادی کے اخبارات (الفi) ریاض الاخبار: اجرا و تعارف، خبریں، اداریے، مضامین، تبصرے، شعری مشمولات(الفii)فتنۂ عطر فتنہ؛ پس منظر، اجرا و تعارف، اہم شُرکا، طنز و ظرافت، خبریں اور کارٹون (ب) روزانہ: (i)روزانہ تارِ برقی؛ تار برقی سے قبل اردو روزنامے، محرکات، اجرا و تعارف، معاصر روزنامے (ii) صلحِ کُل؛ پس منظر، اجرا و تعارف، معاصر روزنامے (باب-۵)ریاض خیرآبادی کے گل دستے (i) گُل کدۂ ریاض؛ اجرا و تعارف، مشمولات، اہم شُرکا (ii) گُل چیں؛ پس منظر، اجرا و تعارف، مشمولات اور اہم شرکا (۶) خلاصۂ کلام

ترتیب

(۴)مبادیاتِ عروض(۱۹۹۶ء)

کتاب کا موضوع عنوان سے ظاہر ہے، اس کتاب میں علمِ عروض کو آسان اور عام فہم طریقے سے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی اور کتاب کو حسبِ ذیل چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: (پہلا حصہ) عروض کی مبادیات (دوسرا حصہ) ہندی پنگل کی مبادیات (تیسرا حصہ) قواعدِ تقطیع (چوتھا حصہ) اوزانِ بحورِ مستعملہ مع امثلہ

(۵) قرۃ العین حیدر: شخصیت اور فن (۲۰۰۸ء)

قرۃ العین حیدر کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی شخصیت اور فن کا اجمالی جایزہ لینے کی غرض سے ۲۰۰۸ء میں شعبۂ اردو، ممبئی یونی ورسٹی میں دو روزہ قومی سمینار منعقد کیا گیا، اُس سمینار میں پڑھے گئے مقالات کو اِس کتاب میں شایع کیا گیا ہے۔کتاب میں کُل بیس مضامین شامل ہیں۔ پہلے حصے میں شامل مقالات؍مضامین میں عینی آپا کی شخصیت کو اور دوسرے حصے میں فکر و فن کو گفتگو کا موضوع بنایا گیا ہے۔ مضامین کی تفصیل حسبِ ذیل ہے؛(پہلا حصہ) شخصیت: (۱)قرۃ العین حیدر-چند یادیں اور ملاقاتیں (۲) قرۃ العین حیدرسے تین ملاقاتیں (۳)کیا قافلہ جاتا ہے (۴) طلسمی آئینے کا ایک زاویہ (۵) قرۃ العین حیدر-آتشِ رفتہ کا سراغ۔ (دوسرا حصہ) فن: (۶) قرۃ العین حیدرکے ناولوںکی انفرادیت (۷) قرۃ العین حیدر کی تحریروں میں فنونِ لطیفہ کے تلازمات و معروضات (۸)قرۃ العین حیدر کی بیٹا اور جنم جنم کے مسئلے (۹)فکشن ناٹ ہسٹری (۱۰) گردشِ رنگِ چمن (۱۱) آخر شب کے ہم سفر (۱۲) فوٹو گرافر:ایک تجزیہ (۱۳) قرۃ العین حیدر کے افسانے ’کہرے کے پیچھے‘ کا تجزیہ کرداروں کے حوالے سے (۱۴) فرقہ واریت اور قرۃ العین حیدر کے ناول (۱۵) تقسیمِ ہند اور قرۃ العین حیدر کے ناول (خاندانی زندگی کے تناظر میں) (۱۶) قرۃ العین حیدر اور موسیقی (۱۷) قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری اور شعور کی روکی تکنیک (۱۸) قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری: ایک جایزہ (۱۹) قرۃ العین حیدر کی افسانہ نگاری (۲۰) قرۃ العین حیدر کے افسانوںکا تجزیاتی مطالعہ

(۶) ترقی پسند تحریک اور بمبئی (۲۰۱۰ء)

ترقی پسند تحریک اردو ادب کی ایک عظیم تحریک ہے۔ اس تحریک سے وابستہ قلم کاروں کی ایک بڑی تعداد عروس البلاد میں موجود رہی۔ مارچ۲۰۰۸ء میں شعبۂ اردو، ممبئی یونی ورسٹی میںایک قومی سمینار منعقد کیا گیا۔ اس سمینار میں پڑھے گئے مقالات کو اس کتاب میں شایع کیا گیا ہے۔ بہ قول مرتب ’اس کتاب کی ترتیب کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ترقی پسند تحریک کے حوالے سے شہرِ ممبئی کی جو خدمات ہیں، اس کا مختلف زاویوں سے جایزہ لیا جائے۔ ۔۔ کتاب میں شامل بیش تر مقالے ان شخصیات کے ہیں جو کسی نہ کسی سطح پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے ہیں، یا انھوں نے ترقی پسند ادبا و شعرا کی سرگرمیوں کا چشم دید مشاہدہ کیا ہے ۔ چند ایک مقالے ریسرچ پر بھی مبنی ہیں، لیکن ان کا موضوع ممبئی میں ترقی پسند قلم کاروں کی عملی زندگی اور سماجی و ثقافتی روداد ہے‘۔
مقالات کی ترتیب حسبِ ذیل ہے: (۱)ممبئی میں ترقی پسند تحریک کا منظر نامہ (۲)بمبئی کی بزم آرائیاں (۳)ترقی پسند تحریک بمبئی میں (۴)ترقی پسند تحریک بمبئی کے تناظر میں (۵)مراٹھی میں ترقی پسندی کی روایت (۶)ترقی پسند تحریک اور بمبئی: کچھ یادیں کچھ باتیں (۷)بمبئی میں ترقی پسند تحریک (۸)ترقی پسند تحریک کی کل ہند بھیمڑی کانفرنس (۹)میرا سردار (۱۰)میرے ہم سفر (۱۱)تاریخ ادھوری ہے (۱۲)بمبئی اور ترقی پسند تحریک (۱۳)اردو ادب میں ترقی پسند تحریک (۱۴)خواجہ احمد عباس: یادیں اور تاثرات (۱۵)ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر بمبئی میں اردو ڈرامہ (۱۶)بمبئی میں ترقی پسند تحریک کی چند ممتاز خواتین (۱۷)بمبئی میں ترقی پسند تحریک کے اخبارات و رسائل (۱۸)بمبئی میں ترقی پسند تحریک: میری نظر میں

(۷) رانی کیتکی کی کہانی (۲۰۱۱ء)

انشاء اللہ خاں انشا کی تصنیف ’رانی کیتکی کی کہانی‘ اردو کی اولین اور لسانی اعتبار سے بے مثل تصنیف ہے۔انشاؔ نے اس کے ذریعے اردو کی آزادانہ حیثیت کو تسلیم کرنے پر زور دیا ہے۔ اس کتاب کو ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں اہمیت حاصل ہے۔ انشاؔ نے اپنے دعوے کے مطابق اس مختصر داستان میں اردو اور ہندی کے علاوہ کسی اور زبان کے الفاظ کے استعمال سے گریز کیا ہے۔ پروفیسر صاحب علی نے طلبہ کی نصابی ضرورت کے پیشِ نظر اس کتاب کو جدید ترتیب کے ساتھ شایع کیا اور آخر میں مشکل الفاظ کی فرہنگ بھی شامل کر دی۔

(۸) عربی اور اُردو کے لسانی و ادبی روابط(۲۰۱۳ء)

کالجوں اور یونیورسٹیوں میں عموماً عربی، فارسی اور اردو کے یکساں رسم الخط کی بنا پر ایک شعبے کے صدرکو دوسرے شعبے کا بھی نگراں متعین کر دیا جاتا ہے۔ ممبئی یونی ورسٹی میں پروفیسر صاحب علی سے بھی اس نوع کی خدمات لی گئیں۔ وہ ایک مدت تک ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے کارگذار صدر رہے۔یہ کتاب اسی زمانے میں مذکورہ بالا عنوان کے تحت منعقدہ سمینار کے مقالوں پر مشتمل ہے، البتہ کتاب میں شامل چند مقالے ایسے ہیں جو سمینار میں نہیں پڑھے گئے تھے ، مگر کتاب کے موضوع کی مناسبت سے انھیں شاملِ کتاب کر لیا گیا ہے ۔اس کتاب میں موصوف کے مقدمے کے ساتھ درجِ ذیل ۱۹؍مقالات ہیں: (۱)عربی اور اردو کے لسانی و ادبی روابط (۲)ڈاکٹر سمیر عبد الحمید ابراہیم نوح: مصنف و مترجم (۳)عربی زبان میں ہندوستانی الفاظ:معرباتِ رشیدی کے حوالے سے (۴)ذوق کی قصیدہ نگاری پر عربی کے اثرات (۵)اردو پر عربی کے لسانی اثرات:تصرف کے آئینے میں (۶)قرآنی استعارے اور ان کے تراجم (۷)اردو میں مستعمل قرآنی امثال (۸)داستانِ امیر حمزہ میں عربی زبان کا استعمال (۹)اردو میں مستعمل چند عربی الفاظ کی تشریح (۱۰)اردو بلاغت پر عربی کے اثرات (۱۱) اردو زبان و ادب میں قرآنی الفاظ کا استعمال (۱۲) اقبال کے اردو کلام میں چند قرآنی اصطلاحات (۱۳)عربی اور اردو تنقید کے باہمی رشتے (۱۴)مقدمۂ شعر و شاعری پر عربی تنقید کے اثرات (۱۵)قلمِ آزاد میں عربیت کی سیاہی (۱۶)اردو تنقید پر عربی تنقید کے اثرات (۱۷)اردو قواعد پر عربی قواعد کے اثرات (۱۸)اردو اور عربی کی غزلیہ شاعری میں فکری ہم آہنگی (۱۹)اردو شاعری پر عربی کے لسانی اثرات

(۹) ممبئی کے ساہتیہ اکاڈمی انعام یافتگان: شاعر، ادیب اور مترجم (۲۰۱۳ء)

 

۱۲؍مارچ ۱۹۵۴ء کو نئی دہلی میں ’ساہتیہ اکاڈمی‘ کا قیام عمل میں آیا۔ ابتاے قیام سے ہی اکیڈمی مختلف النوع ادبی خدمات اور ملک کی دو درجن نمایندہ زبانوں میں سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔ ۱۹۵۵ء سے اکیڈمی کی جانب سے ادبی کتابوں پر انعام کا سلسلہ جاری کیا گیا۔ ترجمے پر انعام کا سلسلہ ۱۹۸۹ء سے شروع کیا گیا۔ متذکرہ کتاب سمینار کے مقالوں پر مشتمل ہے، سمینار کا موضوع وہی ہے، جو کتاب کا عنوان ہے، البتہ کتاب میں چند ایسے مضامین بھی شایع کیے گئے ہیں، جو موضوع کی مناسبت سے اشاعت کے موقع پر شامل کیے گئے ہیں۔ بہ قول مرتب ’ کتاب کی ترتیب کچھ اس طرح رکھی گئی ہے کہ ایک مضمون خود صاحبِ اعزاز شخصیت کا اپنے فن اور اپنے تخلیقی رویے سے متعلق ہے، جب کہ دوسرا مضمون انعام یافتگان کے فن پاروں کے تنقیدی جایزے پر مشتمل ہے ۔۔۔جاں نثار اختر کی کوئی تحریر ایسی نہیں مل سکی جس میں انھوں نے اپنے تخلیقی سفر اور فنّی محرکات کے تعلق سے اظہارِ خیال کیا ہو، لہٰذا ان کے فکر کے فکر و فن پر معروف نقاد شمس الرحمن فاروقی کے مضمون پر اکتفا کیا گیا ہے۔ اسی طرح مترجمین میں ساجد رشید اور خالد اگاسکر کی بھی کوئی تحریر دست یاب نہ ہو سکی، لہٰذا یہاں بھی اسی طریقے کا اعادہ کیا گیا ہے‘۔
فہرستِ مشمولات حسبِ ذیل ہے:شاعری: (۱)میری شاعری- اختر الایمان (۲)اختر الایمان کی شاعری- قمر صدیقی (۳)میں اور میری شاعری- کیفی اعظمی (۴)کیفی اعظمی کی شاعری: پروفیسر صاحب علی (۵)جاں نثار اختر اور نیا استعارہ- شمس الرحمن فاروقی (۶)میرا تخلیقی سفر- ندا فاضلی (۷)ندا فاضلی کی شاعری میں منظر- عبد الاحد ساز۔ فکشن:(۸) افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل-راجندر سنگھ بیدی (۹)بیدی کے افسانوں کا محور-پروفیسر شمس الحق عثمانی (۱۰)شیشے کا گھر-سریندر پرکاش (۱۱)اردو میں علامتی اور تجریدی افسانہ- پروفیسر گوپی چند نارنگ (۱۲)میں کہتا نہیں خود سے- گلزار (۱۳)گلزار کے افسانوں کا تخلیقی منظر نامہ- مقصود دانش (۱۴)میرا تخلیقی سفر- سلام بن رزاق (۱۵)سلام بن رزاق کے افسانوں کے فنی محاسن-انور قمر۔ ترجمہ: (۱۶)مراٹھی تراجم سے میری دل چسپی- پروفیسر عبد الستار دلوی (۱۷)پروفیسر دلوی ایک کثیر الجہات شخصیت- ایوب واقف (۱۸)خالد اگاسکر اور کتھا درپن-محمد حسین پرکار (۱۹)ترجمہ-میرے تجربات اور معروضات: سلام بن رزاق (۲۰)سلام بن رزاق کی ترجمہ نگاری- یوسف ناظم (۲۱)دلت کہانیوں کے تراجم اور میں- وقار قادری (۲۲)بابو سگلا بیس ہے- ڈاکٹر قاسم امام (۲۳)ساجد رشید: شخصیت اور فن- محمود ایوبی

ترجمہ نگاری

پروفیسر صاحب علی نے ممبئی یونیورسٹی سے منسلک ہونے کے بعد شعبۂ مراٹھی کے زیرِ اہتمام سرٹفکیٹ اور ڈپلوما کورس کیا تھا۔ اس دوران انھیں مراٹھی ادب اور اردو میں مراٹھی ترجمے کے مطالعے کا موقع ملااور انھوں نے دو مراٹھی کتابیں اردو میں ترجمہ کرکے شایع کیں۔

(۱۰) کوّوں کا اسکول(۲۰۰۴ء)

یہ کتاب پرلھاد کیشو اَترے عُرف آچاریہ اَترے کی مراٹھی کتاب ’کاوڑیانچی شاڑا‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے۔اس میں بچّوں کے لیے لکھی گئی چھوٹی چھوٹی بیس کہانیاں شامل ہیں۔ پروفیسر یونس اگاسکر کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں:’ڈاکٹر صاحب علی کی کاوش قابلِ داد ہے کہ انھوں نے نہ صرف اصل زبان سے ترجمہ کیا، بلکہ آچاریہ اترے کی نثر کے بہاو اور رِدم کو ہاتھ سے نہ جانے دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ انھوں نے مراٹھی پن کے ساتھ اردو کے محاورے کو اس طرح آمیز کیا ہے کہ اصل کا ذایقہ اور ترجمے کی بو باس دونوں برقرار ہیں اور زبان بھی نامانوس نہیں معلوم ہوتی۔‘

(۱۱) پھول اور بچّے(۲۰۰۵ء)

یہ کتاب بھی آچاریہ اَترے کی مراٹھی تصنیف ’پھولے اڑیں مولے‘ کا اردو ترجمہ ہے، اس میں چھوٹی چھوٹی کُل اٹھارہ کہانیاں ہیں۔ زبان سادہ اور سلیس ہے۔ بچوں کی خاطر کیے گئے اس ترجمے کو بھی غیر مانوس الفاظ سے دور رکھنے کی سعی کی گئی ہے۔ بہ قول پروفیسر عبد الستار دلوی: ’ڈاکٹر صاحب علی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ شاید انھوں نے پہلی بار مراٹھی سے بچّوں کے ادب کو اردو میں منتقل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔۔۔ (انھوں) نے اس بچّوں کے شہ کار ادب کو اردو میں ترجمہ کرکے ادبی، تہذیبی و تعلیمی خدمت انجام دی اور یہ بہت بڑی بات ہے‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here