قرآن کا پیغام (پارہ:۱۵)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا پندرھواں پارہ ﴿سُبْحَانَ الَّذِی﴾ دو عظیم سورتوں؛ سورہ بنی اسرائیل (مکمل) اور سورہ کہف (نامکمل) پر مشتمل ہے۔ یہ پارہ عقیدے، اخلاق، تاریخ اور مستقبل کی پیش گوئیوں کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کو مادّی دنیا سے بلند کر کے روحانیت کی معراج تک لے جاتا ہے۔
سورۃ بنی اسرائیل
سفرِ معراج: اس سورت کا آغاز اللہ تعالیٰ کی اس عظیم قدرت کے بیان سے ہوتا ہے جس نے اپنے بندے ورسول حضرت محمد ﷺ کو رات کے ایک قلیل حصے میں مکّے سے مسجدِ اقصیٰ (فلسطین) اور پھر وہاں سے آسمانوں کی سیر کرائی۔﴿سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ﴾ معراج محض ایک جسمانی سفر نہیں تھا بلکہ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب امامتِ عالَم بنی اسرائیل سے منتقل ہو کر امتِ محمدیہ کے پاس منتقل ہو چکی ہے۔ مسجدِ اقصیٰ میں تمام انبیاےکرام علیہم السلام کی امامت فرما کر حضرت نبی کریم ﷺ نے ثابت کر دیا کہ اسلام تمام سابقہ ادیان کا تسلسل اور تکملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سفر اس لیے کرایا گیا تاکہ ہم اپنے بندے کو اپنی بڑی نشانیاں دکھائیں۔
بنی اسرائیل کے عروج و زوال کا قانون: اس پارے میں بنی اسرائیل کے دو مرتبہ بڑے فسادات کا ذکر ہے:﴿لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ﴾۔ جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر طاقت ور دشمنوں کو مسلط کر کے انھیں ذلیل و خوار کیا۔ یہاں ایک ابدی اصول بیان ہوا ہے وہ یہ کہ اگر تم نیکی کی طرف لوٹو گے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ لوٹے گا۔ یہ امتِ مسلمہ کے لیے بھی ایک خاموش تنبیہ ہے کہ کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف اطاعتِ الٰہی پر ہے۔
معاشرتی عدل اور خاندانی نظام کا تحفظ: اس پارے کی آیت۲۳؍ سے ۳۹؍ تک ایک مکمل اخلاقی ضابطہ بیان کیا گیا ہے، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:(۱)والدین کی قدر و منزلت: اللہ تعالیٰ کی بندگی کے بعد سب سے اہم حکم والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ہے، خاص طور پر بڑھاپے میں جب ان کی طبیعت میں چڑچڑاپن آ جائےتو انھیں اُف تک کہنے سے منع کر دیا گیا: ﴿وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا﴾۔ یہ حکم معاشرے کے خاندانی ڈھانچے کو مضبوط رکھنے کی بنیاد ہے (۲)معاشی اعتدال: فضول خرچی کرنے والوں کوشیطان کے بھائی قرار دیا گیا ہے: ﴿اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ﴾، جب کہ بخل ؍کنجوسی سے بھی روکا گیا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک ایسا معاشی توازن چاہتا ہے جہاں دولت نہ تو ضائع ہو اور نہ ہی منجمد (۳)انسانی جان کی حرمت: اولاد کو غربت کے ڈر سے قتل کرنا بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا: ﴿وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا﴾ (۴)زنا کے متعلق فرمایا گیا: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا﴾ اور زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو، وہ یقینی طور پر بڑی بےحیائی اور بےراہ روی ہے۔ یعنی زنا کرنا تو بڑی چیز ہے اس کے پاس بھی مت جاؤ، گویا ﴿تَقْرَبُوا﴾ میں مبادیِ زنا سے بچنے کی ہدایت کی گئی (۵)امانت و دیانت: یتیم کے مال کی حفاظت، ناپ تول میں دیانت داری اور اپنے عہد کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا، کیوںکہ قیامت کے دن ہر عہد کے بارے میں سوال ہوگا۔
انسانی حواس کی جواب دہی:اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انسانی ذمّےداری کا ایک نہایت باریک اور اہم ضابطہ یہ بیان فرمایا:﴿وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا﴾ اور جس بات کا تمھیں علم نہ ہو، (اسے سچ سمجھ کر) اس کے پیچھے مت پڑو۔ یقین رکھو کہ کان آنکھ اور دل سب کے بارے میں تم سے سوال ہوگا۔ یہ آیت موجودہ سوشل میڈیا کے دور میں ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے کہ بغیر تحقیق کے کسی بات کو پھیلانا یا کسی کی بدگوئی کرنا کتنا بڑا گناہ ہے! اللہ تعالیٰ نے انسان کو متنبہ کیا کہ تمھارے حواس محض دنیوی لذت کے لیے نہیں بلکہ حق کی تلاش کے لیے ہیں اور ان کا ہر استعمال ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
شفاورحمت: سورہ بنی اسرائیل میں قرآن مجید کی ایک عظیم صفت شفا و رحمت بیان کی گئی ہے، ارشاد فرمایا:﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا﴾ اور ہم وہ قرآن نازل کر رہے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت کا سامان ہے، البتہ ظالموں کے حصے میں اس سے نقصان کے سوا کسی اور چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ شفا صرف جسمانی امراض تک محدود نہیں بلکہ یہ ان نفسیاتی اور قلبی بیماریوں کا علاج ہے جو انسان کو مادہ پرستی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔ قرآن کی تلاوت اور اس پر غور و فکر انسان کے اندر ایسا سکون پیدا کرتا ہے جو اسے دنیا کے بڑے سے بڑے حادثے میں بھی ٹوٹنے نہیں دیتا۔
سورۃ الکہف
اصحابِ کہف-نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ: سورۃ الکہف فتنوں کے دور میں ایک مومن کے لیے حصار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس پارے میں اس سورت کے دو کلیدی قصے بیان ہوئے ہیں۔ اس میں چند ایسے نوجوانوں کا تذکرہ ہے جنھوں نے ایک مشرک اور ظالم معاشرے میں اپنے ایمان کو بچانے کے لیے ہر طرح کے عیش و عشرت کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ وہ ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے جہاں اللہ تعالیٰ نے ان پر۳۰۹؍سال تک نیند طاری کر دی۔ جب وہ بیدار ہوئے تو ان کا سکّہ اور لباس پرانا ہو چکا تھا، لیکن ان کا ایمان تازہ تھا۔ یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کے لیے کسی چیز کو چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے غیب سے پناہ عطا فرماتا ہے۔
دو باغ والوں کی تمثیل : قرآن مجید نے دو آدمیوں کی مثال دی ہے؛ ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور باغات سے نوازا تھا لیکن وہ مغرور ہو کر کہنے لگا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ نعمتیں کبھی ختم ہوںگی۔ دوسرے نے اسے سمجھایا کہ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ آخر کار اس کا باغ تباہ ہو گیا اور وہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔ یہ مثال واضح کرتی ہے کہ دنیوی نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی ہیں، انھیں اپنا کمال سمجھنا ہلاکت کا باعث ہے۔
علم و حکمت کا سفر- حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام:پارے کے اختتام پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ مشہور سفر شروع ہوتا ہے جو انھوں نے ایک ایسے بندے (حضرت خضرؑ) کی تلاش میں کیا تھا جن کے پاس علمِ لدنی تھا۔ایک جلیل القدر نبی ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ کہنا: ﴿هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰٓي اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ کیا میں آپ کے ساتھ اس غرض سے رہ سکتا ہوں کہ آپ کو بھلائی کا جو علم عطا ہوا ہے، اس کا کچھ حصہ مجھے بھی سکھا دیں ؟ یہ علم سیکھنے والوں کے لیے عاجزی کا بہترین سبق ہے۔ اس قصے کے واقعات انسانی عقل کے لیے بہ ظاہر غلط لگتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے وہ مصلحتیں ہوتی ہیں جن کا ادراک عام انسان نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے۔
حاصلِ کلام: پندرھواں پارہ ہمیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے جو رات کی تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ و تسبیح کی کثرت کرے اور دن میں معاشرے کے حقوق ادا کرے اور کسی بھی آزمائش میں اصحابِ کہف کی طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔






