ولیمے کی سنت کے لیے فرض نماز ضایع نہ کریں

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

وہ مسلمان جنھیں میدانِ جنگ میں عین جنگ کی حالت میں بھی فرض نماز چھوڑنے کی اجازت نہیں، وہ آج کل نکاح و ولیمے کے نام پر جس طرح نمازوں کو ضایع کرتے ہیں، انھیں دیکھ کر دل کُڑھتا ہے۔ جنگ میں بھی نماز ضایع نہ ہو، اس کے لیے شریعت میں نمازِخوف مشروع ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓفرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ایک گروہ کو نماز پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا، جب وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ چلے گئے تو دوسرا گروہ آگیا، آپ ﷺ نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور پھر سب کے ساتھ سلام پھیرا، انھوں نے کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت مکمل اور تمام کرلی تھی۔  عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ:‏‏‏‏ “أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ،‏‏‏‏ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ أُولَئِكَ،‏‏‏‏ فَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ وَقَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ”.  [بخاری]
کوئی حادثہ پیش آجائے، گھر یا رشتے داروں میں کوئی انتقال ہو جائے، یا کوئی بڑی پریشانی لاحق ہو جائے تو سارے گھر والے ساری رات آنکھوں میں گزار دیتے ہیں، کوئی بزرگوں سے رابطہ کر کے ان سے دعاؤں کی درخواست کرتا ہے، کوئی خود دعا میں لگ جاتا ہے، کوئی نماز پڑھتا ہے، کسی کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے، کسی کی زبان پر درود ہوتا ہے، لیکن یہی مسلمان جب عیش و طرب میں ہوتے ہیں، نکاح و ولیمے کی خوشیاں منا رہےہوتے ہیں، تو سارا کا سارا گھرانا اجتماعی طور پر سنت نہیں فرائض کو پامال کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِيْبًا اِلَيْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْٓا اِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ﴾ اور جب انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو اسی سے لو لگا کر پکارتا ہے، پھر جب وہ انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے اللہ کو پکار رہا تھا۔ [الزمر] دولھا دلھن تیار ہونے کے نام پر ایک نہیں کئی کئی نمازیں ضایع کر دیتے ہیں، گھر والے انتظامات میں ایسے لگتے ہیں کہ خدا کو بھول جاتے ہیں، مہمان آمد و رفت میں نماز ٹال دیتے ہیں۔
حکیم الامت حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں: انسان کے اندر ایک چیز ہے جس سے صدورِ افعال ہوتا ہے، جس کا نام قصدواختیار ہے، آدمی جب تک اس سے ہمت کے ساتھ کام لیتا رہے معاصی سے بچ سکتا ہے، مگر رسوخ و دوام صرف داعی فی القلب ہی سے ہوتا ہے کہ دل میں کوئی خاص حالت پیدا ہو جائے، ایسا شخص کسی وقت بھی احکام سے پہلو تہی نہیں کر سکتا۔ وہ شادی کی پہلی رات میں بھی نماز کی جماعت ترک نہیں کرتا اور جو شخص داعیِ قلب سے خالی ہے وہ ایسے وقت میں اول تو نماز قضا کر دےگا، ورنہ جماعت تو فوت کر ہی دےگا، حالاں کہ بیوی میاں کو نماز سے نہیں روکتی، مگر آپ دیکھ لیں کہ شادی کر کے شبِ زفاف میں کتنے لوگ نماز کی پابندی کرتے ہیں؟ حالتِ موجودہ یہ ہے کہ نکاح شادی میں دولھا دولھن کا تو کیا کہنا سارے باراتی اور گھر والے ہی بے نمازی ہو جاتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جن کے سپرد کوئی کام یا انتظام ہو۔[مواعظِ حکیم الامت]
ولیمے کی دعوت نامے پر لکھا جاتا ہے ’مغرب بعد‘، لیکن نہ مغرب پڑھی جاتی ہے اور نہ عشاء۔ تہائی رات، آدھی رات اور پونی رات تک خوب دھماچوکڑی ہوتی ہے، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرما کر اپنے بندوں کی طرف خصوصی توجہ فرماتا ہے تو یہ ایسے غافل ہو کر سوتے ہیں کہ فجر میں اٹھ نہیں پاتے۔حضرت عبداللہ ؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص کا ذکر آیا تو کہا گیا کہ وہ سوتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور نماز کے لیے نہ اٹھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کردیا۔  ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ “ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ رَجُلٌ فَقِيلَ:‏‏‏‏ مَا زَالَ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ مَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ”. [بخاری]
جو تعلقات اللہ و رسول کی نافرمانیوں کو بھینٹ چڑھا کر بنائے جائیں، ان میںخیروبرکت کی تمنا فضول ہے۔آج کل لوگ بندوں کو راضی کرنے کے لیے جائز وناجائز کی پرواہ نہیں کرتے اور اللہ کو ناراض کر بیٹھتے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے، خواہ لوگ ناراض ہو جاتے۔ حضرت عبدالوہاب بن ورد مدینے کے ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت معاویہؓنے حضرت عائشہؓکو لکھا کہ مجھے ایک خط لکھیےجس میں نصیحتیں ہوں، لیکن زیادہ نہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓنے انھیں خط لکھا:سَلَامٌ عَلَيْکَ، أَمَّا بَعْدُ: میں نے رسول اللہﷺسے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا ڈھونڈتا ہے لوگوں کو ناراض کرنے کے ذریعے، اللہ تعالیٰ اس سے لوگوں کی تکلیف دور کر دے گا، اور جو شخص لوگوں کی رضامندی ڈھونڈتا ہے اللہ کو ناراض کرنے کے ذریعے، اللہ تعالیٰ اسے انھیں کے سپرد کر دے گا، وَالسَّلَامُ عَلَيْکَ۔  عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ الْوَرْدِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ سَلَامٌ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:‏‏‏‏ ” مَنِ الْتَمَسَ رِضَاءَ اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللَّهُ مُؤْنَةَ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَاءِ النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ “. [ترمذی]
نماز چھوڑنا منافق کی نشانی ہے، جو لوگ نمازوں کو ضایع کر دیں آخرت میں ان سے کوئی وعدہ نہیں۔حضرت عبادہ بن صامتؓفرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو ان کے لیے اچھی طرح وضو کرےگا اور مستحب وقت میں نماز ادا کرے گا، اطمینان سے رکوع کرےگا، اور نماز میں خشوع خضوع اختیار کرے گا، تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کی مغفرت فرمائےگا، اور جو ایسا نہیں کرے گا اس کے لیے اللہ کا کوئی وعدہ نہیں، چاہے تو بخش دےگا اور چاہے گا تو عذاب دےگا۔  ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصُّنَابِحِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ:‏‏‏‏ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ “خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى، ‏‏‏‏‏‏مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ”. [ابوداود]
آج پورا کا پورا معاشرہ بگڑا ہوا ہے، عوام نہیں خواص بھی اس میں مبتلا ہیں۔ جو لوگ عام حالات میں باجماعت نماز کا اہتمام کرتے ہیں، وہ بھی اس ماحول میں نمازیں قضا کر دیتے ہیں۔ کوئی کہنے سننے والا نہیں رہا۔ اصل بات یہ ہے کہ اپنے انجام اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس ختم ہو گیا۔اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جنھجھوڑتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ؀وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰـىهُمْ اَنْفُسَهُمْ ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ؀﴾ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کَل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے؟ اللہ سے ڈرو، یقین رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے، اور تم ان جیسے نہ ہوجانا جو اللہ کو بھول بیٹھے تھے، تو اللہ نے انھیں خود اپنے آپ سے غافل کردیا، وہی لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔ [الحشر]
اپنی حیثیت سے بہت بڑھ چڑھ کر نکاح و ولیمے میں خرچ کرنے والے مسلمان دیگر دینی پروگراموں کی طرح شادی بیاہ کی تقریبات میں ہی اگر نمازوں کا بندوبست کر لیں تو کیا ہی اچھا ہو، اس طرح بہت سے لوگوں کی نماز ضایع ہونے سے بچ سکےگی۔ انھیں چاہیے کہ دعوت نامے میں صاف لکھ دیا جائے کہ ’مغرب بعد باوضو تشریف لائیں، اتنے بجے نکاح ہوگا، اس کے بعد عشاء کی نماز ادا کی جائےگی، پھر کھانا پیش کیا جائےگا؟ عشاء کا وقت ہوتے ہی سب سے پہلے نماز سے فراغت حاصل کر لی جائے، اس کے بعد دوسرے کاموں میں لگا جائے۔
مسجدوں میں نکاح کی تقریب تو محض رسم بن کر رہ گئی، اس میں بڑی کوتاہی مسجد کے ذمّےداروں کی بھی ہے کہ انھوں نے اول تو یہ شرط ٹھہرا لی کہ ان کے پرسنل امام کے علاوہ مسجد میں کوئی اور عالم، مفتی یا کوئی بزرگ نکاح پڑھا ہی نہیںسکتا، دوسرے یہ کہ ایجاب و قبول کے علاوہ کوئی مختصر جائز تقریب بھی مسجد کے صحن تک میں کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ نتیجہ یہ کہ ایجاب و قبول کے بعد العیاذباللہ قاضی اور شریعت دونوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے اور آگے کی کارروائی کسی شان دار ہال یاہوٹل وغیرہ میں خواتین کی سربراہی میں انجام دی جاتی ہے کہ وہ نکاح و ولیمے کی عبادت میں جس طرح چاہیں فلموں اور ڈراموں کی گندی رسمیں شامل اور اپنے ارمان پورے کریں۔ اس کے بعد محرم و نامحرم کی تمام پابندیاں اٹھا کر، دین و شریعت کے ساتھ جو بھونڈا مذاق کیا جاتا ہے، الامان و الحفیظ۔
کمال یہ ہے کہ جی کھول کر اللہ و رسول کی نافرمانیاں کرنے والے بھی تمنا یہ کرتے ہیں کہ ہماری اولاد ہماری فرماںبردار رہے، ہماری اطاعت گزاری کو سعادت سمجھے اور ہماری ایک آواز پر لبیک کہتی ہوئی ہاتھ باندھے ایک پاؤں پر کھڑی رہے۔ خدارا کچھ تو ہوش کیجیے کہ جب ربِ حقیقی کی تمام تر نعمتوں کے بعد آپ نے اس کا لحاظ نہ کیا تو آپ کی اولاد آپ کا لحاظ کیوںکرنےگی؟

[کالم نگار الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے صدر و مفتی ہیں]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here