قرآن کا پیغام(پارہ:۲)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
تحویلِ قبلہ: اس پارے کا آغاز قبلے کی تبدیلی کے اہم واقعے سے ہوتا ہے۔ ہجرت کے بعد تقریباً۱۶؍ سے ۱۷؍ ماہ تک مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ حضرت نبی کریم ﷺ کی دلی خواہش تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعمیر کیا ہو کعبہ مسلمانوں کا قبلہ قرار پائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس خواہش کو پورا کرتے ہوئے نماز ہی کے دوران رخ بدلنے کا حکم دیا۔ اس تبدیلی پر یہود اور منافقین نے یہ اعتراض کیا کہ اگر پہلا قبلہ صحیح تھا تو اسے کیوں بدلا گیا؟ قرآن مجید نے جواب دیا کہ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کے ہیں، اصل نیکی رخ بدلنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرنا ہے۔ یہ مسلمانوں کی آزمائش تھی کہ کون رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرتا ہے اور کون اپنی پرانی روش پر اڑا رہتا ہے۔ اس واقعے نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ پہچان اور مرکزیت عطا کی۔
امتِ وسط اور شہادتِ حق: اسی پارے میں اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو ’امتِ وسط‘ (اعتدال والی امت) کے لقب سے نوازا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان دنیا کے سامنے حق کی گواہی دیں اور قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ ان پر گواہی دیں۔ یہ ایک بہت بڑی ذمّے داری ہے جو اس امت کو کائنات کے نظام میں ایک مقتدیٰ اور رہنما کی حیثیت سے سونپی گئی ہے۔
صبر اور نماز مومن کے ہتھیار: زندگی کی مشکلات، خوف، بھوک، مال کی کمی اور اپنوں کی جدائی جیسی آزمائشوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو ہدایت دی کہ وہ صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ آزمائشیں مومن کے ایمان کو پختہ کرنے کے لیے آتی ہیں اور جو شخص ان حالات میں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہتا ہے اس پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔
شعائر اللہ اور صفا و مروہ:صفا و مروہ کی پہاڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھیں ’شعائر اللہ‘ (اللہ کی نشانیاں) قرار دیا گیا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں ان پہاڑیوں پر بت رکھے ہوئے تھے، اس لیے بعض مسلمان وہاں سعی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ حج و عمرے کے دوران میں صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا نیکی کا کام ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں۔
حلال و حرام اور انسانی فطرت: اس پارے میں کھانے پینے کے معاملات میں واضح رہنمائی دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ان چیزوں کو حرام قرار دیا جو انسانی صحت اور روح کے لیے نقصان دہ ہیں، جیسے: مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ لیکن اگر کوئی شخص سخت مجبوری کی حالت میں ہو اور بھوک سے جان نکل رہی ہو تو وہ بقاے جان کے لیے اتنی مقدار کھا سکتا ہے جس سے زندگی بچ جائے، شرط یہ ہے کہ وہ اس سے لذت حاصل کرنا نہ چاہتا ہو۔
نیکی کا حقیقی تصور: قرآن مجید نے نیکی کی ایک جامع تعریف پیش کی ہے جو محض ظاہری رسومات تک محدود نہیں۔ قرآن مجید کے مطابق نیکی یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ، آخرت کے دن، فرشتوں، کتابوں اور نبیوں پر ایمان لائے۔ پھر اپنے پسندیدہ مال کو اللہ تعالیٰ کی محبت میں رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرے۔ نماز قایم کرے، زکوٰۃ ادا کرے اور اپنے وعدوں کو پورا کرے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں سچے اور متقی ہیں۔
قصاص اور وصیت کے احکام: معاشرے میں امن و امان کے لیے ’قصاص‘ کا قانون بیان کیا گیا۔ قرآن کہتا ہے کہ ’قصاص‘ میں تمھارے لیے زندگی ہے یعنی جب ایک قاتل کو سزا ملےگی تو دوسرے لوگ قتل کرنے سے ڈریں گے اور معاشرہ محفوظ ہو جائےگا۔ اسی طرح قریب المرگ پر لازم کیا گیا کہ وہ اپنے والدین اور قریبی رشتے داروں کے حق میں وصیت کرے تاکہ بعد میں اختلافات پیدا نہ ہوں۔
روزہ اور رمضان المبارک:اسلام کے اہم ستون ’روزہ‘ کے تفصیلی احکام اسی دوسرے پارے میں ہیں۔ روزے کا مقصد ’تقوے‘ کا حصول بتایا گیا ہے۔ رمضان کی ایک اہم ترین فضیلت یہ بتائی گئی کہ اس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ مسافر اور بیمار کو رخصت دی گئی کہ وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لیں۔ اسی کے ساتھ اعتکاف کے مسائل اور دعا کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بہت قریب ہے اور ان کی پکار سنتا ہے۔
حج اور سماجی نظم و ضبط:حج کے مہینوں اور اس کے مناسک کا تذکرہ کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ حج کے دوران لڑائی جھگڑے، گالی گلوچ اور شہوانی باتوں سے پرہیز کیا جائے۔ حج صرف ایک عبادت نہیں بلکہ مسلمانوں کے اتحاد اور اخلاقی تربیت کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔
خاندانی قوانین؛ نکاح، طلاق اور عدت:دوسرے پارے کا ایک بڑا حصہ خاندانی زندگی کو خوش گوار بنانے اور تنازعات کو حل کرنے کے لیے وقف ہے۔(۱)نکاح: مشرک مَردوں اور عورتوں سے نکاح کو حرام قرار دیا گیا، کیوںکہ وہ جہنم کی طرف بلاتے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ جنت کی طرف بلاتا ہے (۲) حیض: ایامِ حیض میں عورتوں سے الگ رہنے (قربت نہ کرنے) کا حکم دیا گیا، کیوںکہ یہ ایک تکلیف دہ حالت ہے(۳) طلاق: اس سلسلے میں مَردوں کو حکم دیا گیا کہ وہ عورتوں کو تنگ نہ کریں۔ طلاق دو بار ہے، اس کے بعد یا تو اچھے طریقے سے روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے رخصت کر دیا جائے(تو تین طلاقیں ہو کر معاملہ ختم ہو جائےگا) (۳) رضاعت: ماؤں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے بچوں کو مکمل دو سال تک دودھ پلائیں، اور والد پر ان کے نان و نفقے کی ذمّےداری ڈالی گئی (۴) عدّت: بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر کی گئی تاکہ اس دوران اس کی دوسری جگہ نسبت نہ ہو اور حمل کی صورتِ حال بھی واضح ہو جائے۔
اللہ کی راہ میں خرچ اور جہاد: مسلمانوں کو بار بار اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اسے ’قرضِ حسنہ‘ قرار دیا گیا، یعنی وہ مال جو اللہ کو دیا جائے اور وہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس کرے۔ ساتھ ہی جہاد کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمھارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لیے بری ہو۔ یہ انسان کو اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا سبق دیتا ہے۔
طالوت اور جالوت کا قصہ:اس پارے کے آخر میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ بیان کیا گیا ہے؛ جب بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے ایک امیر مقرر کیا جائے تاکہ وہ جہاد کر سکیں، تو اللہ نے ’طالوت‘ کو بادشاہ بنایا۔ بنی اسرائیل نے ان کی غربت پر اعتراض کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیادت کے لیے علم اور جسمانی طاقت ضروری ہے، نہ کہ مال و دولت۔طالوت کے لشکر کا مقابلہ جب جالوت کے طاقت ور لشکر سے ہوا تو ایک چھوٹی سی جماعت نے اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی۔ اسی جنگ میں حضرت داودؑ نے جالوت کو قتل کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ فتح و نصرت مادّی وسائل میں نہیں بلکہ ایمان، صبر اور اللہ کی مدد میں پوشیدہ ہے۔
خلاصۂ کلام: دوسرا پارہ ایک مثالی اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی قوانین فراہم کرتا اور ہمیں بتاتا ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی کا ہر انفرادی و اجتماعی عمل اللہ کی بندگی کے گرد گھومنا چاہیے۔ یہ پارہ عبادات اور معاملات کے درمیان ایک خوبصورت توازن قایم کرتا ہے۔






