زکوٰۃ سے متعلق بعض عام مگر ضروری مسائل

زکوٰۃ سے متعلق بعض عام مگر ضروری مسائل

ز ۝۱ حوائجِ اصلیہ (زکوٰۃ کے باب میں) کیاہیں؟ فی زماننا کون سی چیزیں حوائجِ اصلیہ میں داخل ہوںگی؟ عام فہم زبان میں سمجھائیں۝۲ ایک آدمی نوکری کرتا ہے، اس کو مثلاً ۵/ہزار روپیہ وظیفہ (Salary) ملتا ہے، اس میں سے تقریباً ۴/ہزار روپئے خرچ ہوجاتے ہیں، ایک ہزار یا کبھی اس سے کم روپئے بچتے ہیں۔ پورا سال اسی طرح ہوتا ہے، اس شخص کے پاس ایک تولہ سونا بھی ہے، تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟۝۳ ایک شخص کے پاس صرف پانچ سو (۵۰۰) روپئے ہیں اور دو تولہ سونا ہے، تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟ ۝۴ ایک شخص کی دُکان ہے تو مالِ تجارت پر وہ زکوٰۃ کس حساب سے دے گا، خریدکی قیمت پر یا فروخت کی قیمت پر؟ اگر فروخت کی قیمت ہوتو اگر یہ شخص ایک ہی چیز تیس روپئے میں بیچتا ہے، بعینہ وہی کبھی ۷۰/روپئے میں بیچتا ہے، مطلب کوئی قیمت فکس نہیں ہے، تو زکوٰۃ کیسے دے گا؟۝۵ تاجر کے پاس جو نقد روپئے ہوتے ہیں اس میں روزانہ کمی بیشی ہوتی رہتی ہے- کبھی لاکھ، کبھی دس ہزار، کبھی ہزار، کبھی سو- تو وہ زکوٰۃ کے لیے حساب کیسے لگائے گا؟۝۶ چاندی ۲۹/ہزار روپئے کلو ہوتو کتنے روپئے پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟۝۷ ایک شخص ظاہراً تندرست جوان ہے، ایسے شخص کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ اداہوجائے گی؟۝۸ بہت سے بھیک مانگنے والے صاحبِ نصاب ہوتے ہیں یا غیر مسلم ہوتے ہیں، بظاہر ان کی یہ حالت زکوٰۃ دینے والے کو پتہ نہیں ہوتی تو، کیا ان کو زکوٰۃ دے دی تو ادا ہوگی یا نہیں؟۝۹ ایک شخص ہے (مردہویاعورت) اس کے پاس بڑا گھر ہے، سامانِ راحت ہے، اس کے بچّے کماتے ہیں اور اس کو پالتے ہیں، بظاہر خود یہ شخص کچھ نہیں کررہا ہے، تو اس کو زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟۝۱۰ ایک آدمی نے ۱۰۰/روپئے کے حساب سے ۵۰۰/شیئرز (حصص) لیے تھے، ایک سال کے بعد اس کی قیمت ۳۰/روپئے ہوگئی، تو اس پر زکوٰۃ کس حساب سے واجب ہوگی؟

ل۝۱ حوائجِ اصلیہ میں وہ اشیا داخل ہوتی ہیں جن کے بغیر انسان کو ہلاکت کا خطرہ ہو۔ مثلاًضروری نفقہ، رہائشی مکانات، اخراجات، آلاتِ جنگ اور سردی گرمی کے وہ کپڑے جن کی اپنے موسم کے اعتبار سے ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔ نیز وہ اشیا جن کے بارے میں انسان ہر وقت صحیح معنی میں متفکر رہتا ہے، مثلاًواجب الادا قرضہ، پیشہ اور کاریگری کے اوزار وآلات اور گھر کے ضروری اثاث وسامان اور سواری کے جانور اور علماء کے لیے دینی کتابیں۔ یہ سب حوائجِ اصلیہ میں شامل ہیں۔ لہٰذا اگر کسی کے پاس نقد رقم موجود ہے لیکن اس پر قرض بھی ہے، تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔

حضرات فقہائِ کرام کی بیان کردہ جزئیات سے اتنی بات تو ظاہر ہے کہ حاجتِ اصلیہ کی کوئی ایسی تحدید نہیں جس میں کمی زیادتی کی گنجائش نہ ہو بلکہ وسعت ہے، البتہ لفظ ’حاجت‘اور ’اصلی‘ کے مفہوم کو باقی رکھتے ہوئے اس کے دائرے میں جائز حد تک نمائش سے بچتے ہوئے توسع کی گنجائش ہے۔ مثلاًکچے مکان کی جگہ پختہ مکان، نل کی جگہ پر ٹنکی، سواری کے جانور کی جگہ پر موٹر سائیکل اور جیپ کار، تیر کمان کی جگہ رائفل اور بندوق وغیرہ، آلاتِ صنعت وحرفت میں دست کاری کی جگہ مشینیں۔ اسی طرح ضروریاتِ زندگی میں بڑے مکانات میں لفٹ، ٹیلیفون، فریج، کولر، موسم کے اعتبار سے ہیٹر، اے سی، پنکھا، اسی طرح نوکر چاکر یا لونڈی، ڈرائیور وغیرہ جو موٹر چلا سکے، اگر گھرانہ خوش حال ہو۔ اسی طرح بچوں کی پڑھائی یا تربیت کا سامان۔ الغرض اس طرح کی جدید چیزیں جو روز مرہ کی ضروریاتِ زندگی میں داخل ہیں اور جن کی اصل تصریحات فقہ میں بنیادی حیثیت سے موجود ہیں، وہ سب حاجتِ اصلیہ میں داخل ہیں، البتہ ٹی وی، وی سی آر جیسی فحش اور ناجائز چیزیں حاجتِ اصلیہ میں داخل نہیں۔ (ملخص از جدید فقہی مباحث ۶/۲۹۲، ۲۹۶ ادارۃ القرآن، وایضاح النوادر حصہ دوم ۳۳،۳۴ وامداد الفتاوی۲/۴۲)اولاد کا نکاح حوائجِ اصلیہ میں داخل نہیں ہے کیوں کہ اگر وہ بالغ ہیں تو نکاح کی ذمہ داری اولاد پر ہے اور نابالغ ہیں تو نکاح ضروری نہیں۔ باپ پر صرف نابالغ اولاد کا نفقہ واجب ہوتا ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ مبوب ومرتب ۹/۳۴۳)نیز ذاتی مکان کا ہونا بھی حاجتِ اصلیہ میں داخل نہیں ہے، زندگی بسر کرنے کے لیے کرایے کا مکان بھی کافی ہے اور مکان کے لیے جمع کردہ رقم پر سال گزرجائے تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔ (فتاوی دارالعلوم زکریا ۳/۱۱۵،۱۱۶ سے ماخوذ)۝۲ اس کے پاس نقد روپیہ جو بھی موجود ہو اور ایک تولہ سونے کی بازار میں جو قیمت ہے وہ دونوں ملاکر ۳۵۔۶۱۲گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہوجاتا ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۝۳ اگر پانچ سو روپئے اور ساتھ میں دو تولہ سونے کی قیمت ملا کر ۳۵۔۶۱۲ گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہوجاتی ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی ۝۴ زکوٰۃ کی ادائیگی میں قیمتِ فروخت کا اعتبار ہوگا، زکوٰۃ دیتے وقت بازار میں اس مال کی جو قیمت ہوگی وہ معتبر ہے۝۵ جس تاریخ کو زکوٰۃ کا سال پورا ہورہا ہے اس روز جو نقد اس کے پاس موجود ہے، اس کو حساب میں جوڑ لے۝۶چاندی کا نصاب ۳۵۔۶۱۲گرام ہے، ایک گرام چاندی کی جو قیمت ہو اس کو اس میں ضرب دے دیاجائے، صورتِ مسئولہ میں 17758.15روپئے ہوتے ہیں۝۷ اگر اس کے پاس چاندی کے نصاب کی قیمت کے بقدر حوائجِ اصلیہ سے زائد مال موجود نہ ہو،تو اس کو زکوٰۃ دینے سے ادا ہوجائے گی۝۸ زکوٰۃ دینے والے کے لیے ضروری ہے کہ تحقیق کرلے، ظاہری قرائن سے مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دے دی، بعد میں اس کا صاحبِ نصاب ہونا معلوم ہوا تب بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور اگر بعد میں اس کا غیر مسلم ہونا معلوم ہوا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، دوبارہ زکوٰۃ ادا کرے۝۹ اگر اس کی ملکیت میں حوائجِ اصلیہ کے علاوہ اتنا مال موجود ہو جس کی قیمت ۳۵۔۶۱۲گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہے، اگرچہ وہ مال تجارت کا نہ ہو، توایسے آدمی کو زکوٰۃ دینا درست نہیں۝۱۰ زکوٰۃ کا سال جس روز ختم ہورہاہے اس روز شیئرز کی جو قیمت ہوگی اس کے مطابق حساب لگائے۔

شادی کے زیورات پر زکوۃ
زکسی صاحب نصاب نے اپنی بیٹی کے لیے زیور کا ایک سیٹ ۵/تولہ کا خرید کر رکھا ہے، اس کی شادی پر اس کو دیںگے۔ تو اس ۵/تولہ پر زکوۃ ہوگی؟

ل جی ہاں! اس آدمی پر اس کی زکوۃ واجب ہے۔٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here