ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
انسان کے پاس جو کچھ ہے، سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا عطا کیا ہوا ہے، اس لیے انسان کو چاہیے کہ اللہ کے حضور عمدہ اشیا پیش کرے۔ قربانی کا جانور بھی بے عیب اور صحیح و سالم ہونا ضروری ہے۔ حضرت عائشہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یومِ نحر کو اللہ کے نزدیک (جانور کا) خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں،قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اور بے شک اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت حاصل کرلیتا ہے، اس لیے خوش دلی سے قربانی کرو۔عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ، أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا، وَأَشْعَارِهَا، وَأَظْلَافِهَا، وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا. [ترمذی]
جانور میں عیب اور اس کا حکم
جانور میں بعض ایسے کُھلے عیب ہوتے ہیں جوقربانی وغیرہ میں مانع ہوتے ہیں، ان میں سے بعض پیدائشی ہوتے ہیں اور بعض بعد میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ واما صفتھا فھو ان یکون سلیما من العیوب الفاحشۃ.[ہندیہ]قربانی کا جانور اگر خریدتے وقت سالم و بےعیب تھا،بعد میں کوئی ایسا عیب پیدا ہو گیا جو قربانی سے مانع ہے، تو اگر وہ شخص مال دار ہے تو اس پر لازم ہے کہ اس کی جگہ دوسرا بے عیب و سالم جانور لے کر قربانی کرے، اوراگر فقیر ہے تواسی جانور کی قربانی کرسکتا ہے۔ ولو اشتراھا سلیمۃ ثم تعیبت بعیب مانع، فعلیہ اقامۃ غیرھا مقامھا، ان کان غنیاً، وان کان فقیراً، اجزأہ ذٰلک.[درمختار]جو جانور بے عیب اور سالم تھا، قربانی (کے لیے گرانے وغیرہ)کے وقت عیب دار ہوگیا، اس کی قربانی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ولا یضر تعیبھا من اضطرابھا عند الذبح. [درمختار]
قربانی کے جانور میں چار عیب
حضرت بَرا بن عازبؓمرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ(۱) ایسا لنگڑا جانور- جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو (۲)ایسا کانا جانور- جس کا کانا پن ظاہر ہو- کی قربانی نہ کی جائے(۳)اسی طرح مریض اور (۴)بالکل کمزور جانور کی بھی قربانی نہ کی جائے- جس کا مرض ظاہر ہو- یا دوسری صورت میں اس کی ہڈیوں میں گودانہ نہ ہو۔ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، رَفَعَهُ، قَالَ: لَا يُضَحَّى بِالْعَرْجَاءِ بَيِّنٌ ظَلَعُهَا، وَلَا بِالْعَوْرَاءِ بَيِّنٌ عَوَرُهَا، وَلَا بِالْمَرِيضَةِ بَيِّنٌ مَرَضُهَا، وَلَا بِالْعَجْفَاءِ الَّتِي لَا تُنْقِي.[ترمذی]
لنگڑے پن کی تفصیل
جو جانور بالکل لنگڑا ہو یا اس قدر لنگڑا ہو کہ تین پاؤں زمین پر رکھتا ہو اور چوتھا پاؤںزمین پر رکھ ہی نہ سکتا ہو،تو اس کی قربانی جائز نہیں،لیکن اگر چوتھا پاؤں زمین پر ٹیک کر، بھلے ہی لنگڑاکر ،چل سکتا ہو تو اس کی قربانی درست ہے۔(و العرجاء التی لا تمشی الی المنسک ای المذبح) ای التی لا یمکنھا المشی برجلھا العرجاء، انما تمشی بثلاث قوائم، حتی لو کانت تضع الرابعۃعلی الارض وتستعین بھا جاز. [درمختار]
سینگ ٹوٹا یا کان کٹا ہوا جانور
حضرت علیؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے ٹوٹے ہوئے سینگ اور کٹے ہوئے کان والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ قتادہؒکہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیبؒسے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا؛ سینگ اگر نصف یا نصف سے زائد ٹوٹا ہوا ہو تو اس کی ممانعت ہے، ورنہ نہیں۔عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ، وَالْأُذُنِ۔ قَالَ قَتَادَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، فَقَالَ: الْعَضْبُ: مَا بَلَغَ النِّصْفَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. [ترمذی]
ٹوٹے ہوئے سینگ کی قدرے تفصیل
ایسے جانور کی قربانی تو جائز و درست ہے جس کے پیدائش طور پر سینگ نہ ہوں یا ٹوٹے ہوئے ہوں یا ان کا خول اتر گیا ہو،اور مذکورہ بالا حدیث نہیِ تنزیہی پر محمول کی جائےگی، اور اگر جانور کے سینگ کا کچھ حصہ اوپر سے ٹوٹ گیا ہو، تو اس کی قربانی درست ہوگی، لیکن اگر سینگ ٹوٹنے کا اثر دماغ تک پہنچ گیا، تو اس کی قربانی درست نہ ہوگی۔ ویضحی بالجماء ھی التی لا قرن لھا خلقۃ وکذا العظماء التی ذھب بعض قرنھا بالکسر او غیرہ، فان بلغ الکسر الی المخ لم یجز۔ [شامی]
اندھا، کانا یا کان کٹا ہوا جانور
حضرت علیؓسے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں تاکہ کوئی نقص نہ ہو، اور ہمیں ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا، جس کے کان آگے یا پیچھے سے کٹے ہوئے یا پھٹے ہوئے ہوں، یا ان میں سوراخ ہو۔ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: أَمَرَنَا ﷺ: أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ، وَالْأُذُنَ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ. [ترمذی]اس لیے جس جانور کی آنکھوں کی کُل یا اکثر روشنی جا چکی ہو، اس کی قربانی درست نہ ہوگی۔ ومقطوع أکثر۔۔۔العین أی التی ذھب أکثر نور عینھا.[درمختار] اور جس جانور کے کان پیدائشی طور پر نہ ہوں، اس کی قربانی درست نہ ہوگی۔ والسکاء التی لا أذن لھا خلقۃ۔۔۔ ولا تجوز مقطوعۃ احدی الأذنین بکمالھا والتی لھا أذن واحدۃ خلقۃ.[شامی] نیز کان تو ہوں مگر تھوڑا بہت کٹا ہوا ہوتو قربانی درست ہے،اگر اکثر حصہ کٹ گیا ہو تو اس کی قربانی درست نہ ہوگی۔ ومقطوع أکثر الأذن، لو ذھب بعض الأذن ۔۔۔ إن کان کثیراً یمنع، وإن یسیراً لا یمنع. [شامی]
دانت ٹوٹا ہوا جانور
بکری؍ بکرا پورے ایک سال کا ہونا ضروری ہے، اگر ایک دن بھی کم ہوگا تو قربانی درست نہیں ہوگی، دو دانت ہونا اس کی علامت ہے۔جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں یا اکثر ٹوٹ چکے ہوں، اس کی قربانی درست نہیں ہے، اور جس کے دو چار دانت ٹوٹے ہوئے ہوں کہ چارہ کھانے میںزیادہ دشواری نہ ہوتی ہو،اس کی قربانی کی جا سکتی ہے۔ ولا بالھتماء التی لا أسنان لھا، ویکفی بقاء الأکثر.[درمختار ]
بغیر دُم والا یا دُم کٹا ہوا جانور
اگر پیدائشی طور پر جانور کی دُم نہ ہو تو امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس کی قربانی درست ہے، لیکن امام محمدؒ کے نزدیک درست نہیں (اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی قربانی نہ کی جائے)۔ الشاۃ إذا لم یکن لھا أذن ولا ذنب خلقۃ، قال محمد: لا یکون ھٰذا ولوکان لا یجوز، وذکر في الأصل عن أبي حنیفۃؒ أنہ یجوز. [شامی]اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر دُم کا اکثر حصہ کٹا ہوا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، اور اگر معمولی حصہ کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی درست ہے۔ ومقطوع أکثر الذنب۔۔۔ لو ذھب بعض الذنب ۔۔۔ إن کان کثیراً یمنع وإن یسیراً لا یمنع. [شامی]
گابھن یا لنگڑا جانور
حضرت علیؓسے روایت ہے کہ بقرہ کی قربانی سات آدمیوں کے لیے ہے۔ راوی نے عرض کیا: اگر وہ خریدنے کے بعد بچہ جنے؟ فرمایا: اس کو بھی ساتھ ہی ذبح کر دو۔ میں نے عرض کیا: لنگڑی بقرہ کا کیا حکم ہے۔ فرمایا :اگر وہ قربان گاہ تک پہنچ جائے (تو جائز ہے)۔ میں نے عرض کیا: اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو ؟ فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ ہمیں حکم دیا گیا؛ یا فرمایا؛ ہمیں حضرت نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ ہم کانوں اور آنکھوں کو اچھی طرح دیکھ لیں۔ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، قُلْتُ: فَإِنْ وَلَدَتْ، قَالَ: اذْبَحْ وَلَدَهَا مَعَهَا، قُلْتُ: فَالْعَرْجَاءُ، قَالَ: إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسِكَ، قُلْتُ: فَمَكْسُورَةُ الْقَرْنِ، قَالَ: لَا بَأْسَ، أُمِرْنَا أَوْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَيْنِ، وَالْأُذُنَيْنِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. [ترمذی] حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے، لیکن اگر ولادت کا زمانہ بالکل قریب ہو تو مکروہ ہے۔ شاة أو بقرة أشرفت علی الولادة قالوا: یکرہ ذبحھا، لأن فیہ تضییع الولد. [ہندیہ] خیال رہے کہ بھارت کے ملکی قانون میں بقرہ کی قربانی ممنوع ہے۔
خصّی جانور کی قربانی
حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے،اللہ کے رسول ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، موٹے، سینگ والے، سفید و سیاہ رنگ کے خصی مینڈھے خریدتے؛ ان میں سے ایک اپنی امت کے ان افراد کی طرف سے ذبح کرتے جو توحید اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات پہنچانے کی شہادت دیں اور دوسرا اپنی طرف سے اور اپنی آل کی طرف سے ذبح کرتے۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ، فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ لِلَّهِ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ ﷺ.[ابن ماجہ ]اس لیے خصی جانور کی قربانی نہ صرف جائزبلکہ افضل ہے، اس کا گوشت بھی اچھا ہوتا ہے۔ والخصی افضل من الفحل لانہ اطیب لحماً۔ [ہندیہ] ویضحی بالجماء والخصی. [درمختار]
خنثیٰ جانورکی قربانی
خنثیٰ جانور کی قربانی درست نہیں ہے۔ ولا بالخنثی لأن لحمھا لا ینضج.[درمختار] لیکن اگر کسی نے اتفاقاً خنثیٰ جانور کی قربانی کر لی اور اس کا گوشت اچھی طرح پک گیا، تو وہ قربانی درست ہو جائے گی۔ [امداد الفتاویٰ،محمود الفتاویٰ مبوب]
وحشی اور جنگلی جانور کی قربانی
وحشی اور جنگلی جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ ولا یجوز فی الأضاحی شیء من الوحشی. [ہندیہ] یہاں تک کہ اگر کوئی شخص جنگلی جانور کو پال لے اور یہ جانور اس سے مانوس ہو جائے، تب بھی اس کی قربانی جائز نہیں۔و إن ضحی بظبیة وحشیة أنست أو ببقرة وحشیة أنست لم تجز. [ایضاً]






