Home Dept of Islamic Studies Articles شکست و فتح کے دنوں کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان بدلتا...

شکست و فتح کے دنوں کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان بدلتا رہتا ہے

قرآن کا پیغام (پارہ:۴)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآنِ کریم کے چوتھے پارے کا آغاز سورہ آلِ عمران کی آیت نمبر:۹۲؍ سے اور اختتام سورہ نساء کی آیت نمبر:۲۳؍ پر ہوتا ہے۔ یہ پارہ عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاقیات کا ایک جامع مجموعہ ہے۔

انفاق اور نیکی کا معیار:پارے کا آغاز اس عظیم فلسفے سے ہوتا ہے کہ انسان اس وقت تک حقیقی نیکی اور تقویٰ حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی سب سے پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرے۔ یہ حکم مسلمانوں کو مادیت پرستی سے نکال کر ایثار اور قربانی کی طرف مائل کرتا ہے۔

کعبہ کی مرکزیت اور حج:اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ (کعبہ) کی عظمت بیان کرتے ہوئے اسے روئے زمین پر عبادت کے لیے بنائی گئی پہلی عمارت قرار دیا ہے۔ اسے تمام جہانوں کے لیے ہدایت اور برکت کا مرکز بتایا ہے۔ حج کی فرضیت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو شخص وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اس پر زندگی میں ایک بار حج کرنا لازم ہے۔

اہلِ کتاب کے ساتھ مکالمہ اور دعوتِ توحید:اس پارے میں اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کی ان غلط بیانیوں کی تردید کی گئی ہے جو وہ دینِ ابراہیم کے حوالے سے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ حضرت ابراہیمؑ نہ یہودی تھے نہ نصرانی، بلکہ وہ ’حنیف‘(یک سو مسلمان) تھے۔ مسلمانوں کو خبردار کر دیا گیا کہ اہلِ کتاب کا ایک گروہ انھیں صراطِ مستقیم سے بھٹکانے کی کوشش کرےگا، لہٰذا انھیں اللہ تعالیٰ کی رسّی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیے اور تفرقہ بازی سے بچنا چاہیے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر:امتِ مسلمہ کو ’خیرِ امت‘ (بہترین امت) کا لقب دیا گیا، اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ امت لوگوں کو نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے روکتی ہے۔ یہ اس امت کی عالمی ذمّےداری ہے کہ وہ معاشرے میں خیر کو فروغ دے۔

غزوۂ احُد کے عبرت آموز واقعات:چوتھے پارے کا ایک بڑا حصہ غزوۂ احد کے پس منظر اور اس کے نتائج پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ہمت بندھائی اور بتایا کہ شکست و فتح کے دنوں کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان بدلتا رہتا ہے تاکہ سچے مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہو سکے۔غزوۂ احد کے تناظر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم ﷺ کی نرم مزاجی اور عفو و درگزر کی تعریف فرمائی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ آپ ﷺ ان کے لیے نرم دل ہیں، ورنہ اگر آپ تند خو ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دعوتِ دین اور معاشرتی اصلاح کے لیے حکمت، نرمی اور باہمی مشاورت (شوریٰ) بنیادی ستون ہیں۔

صبر، سود اور شہادت: مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے کہ اگر وہ صبر و تقویٰ اختیار کریں تو دشمن کی کوئی چال انھیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ سود (ربا) کی سخت ممانعت کی گئی، کیوںکہ سود معاشرے میں خود غرضی پیدا کرتا ہے، جب کہ جہاد اور انفاق کے لیے سخاوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہدا کے بارے میں واضح کیا گیا کہ وہ مُردہ نہیں بلکہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انھیں رزق دیا جاتا ہے۔

کائنات میں غور و فکر اور اہلِ ایمان کی دعائیں:سورہ آلِ عمران کے اختتام پر کائنات کی تخلیق، دن و رات کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں بیان کی گئی ہیں اور مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے اللہ کو یاد کرتا ہے اور کائنات کے نظام میں غور کر کے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے۔ یہاں نہایت رقت آمیز دعائیں بھی ذکر کی گئی ہیں جن میں مغفرت، عذابِ جہنم سے پناہ اور قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کی التجا کی گئی ہے۔

سورۃ النساء

چوتھے پارے کے آخری حصے میں سورۃ النساء شروع ہوتی ہے، جو مدنی سورت ہے اور اس میں زیادہ تر خاندانی اور سماجی قوانین بیان ہوئے ہیں:

تقویٰ اور انسانی مساوات: سورت کا آغاز اس پیغام سے ہوتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی جان (حضرت آدمؑ) سے پیدا ہوئے ہیں، لہٰذا نسل، رنگ یا صنف کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے: ﴿يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَاۗءَلُوْنَ بِهٖ وَالْاَرْحَامَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا۝﴾۔ یہ آیتِ مبارکہ اسلامی معاشرت، انسانی حقوق اور خاندانی نظام کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ایک آیت میں تقویٰ اور انسانی مساوات کے فلسفے کو اتنے جامع انداز میں بیان کیا ہے کہ اگر اسے سمجھ لیا جائے تو دنیا سے نسل پرستی، صنف کی بنیاد پر ناانصافی اور ظلم کا خاتمہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ تمام انسان خواہ وہ کسی بھی ملک، رنگ یا نسل سے ہوںان کی اصل ایک ہی ہے۔ سب ایک ہی ماں باپ (آدم و حوا) کی اولاد ہیں۔ اس سے حسب و نسب، ذات و نسل کا غرور ختم ہو جاتا ہے۔

یتیموں کے حقوق: یتیموں کے مال کی حفاظت پر سخت زور دیا گیا ہے۔ حکم دیا گیا کہ ان کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ اور جب وہ سمجھ دار ہو جائیں تو ان کی امانتیں ان کے حوالے کر دو۔

نکاح و عدل: ایک سے زائد نکاح (چار تک) کی اجازت دی گئی، لیکن اس کے ساتھ عدل و انصاف کی کڑی شرط لگائی گئی ہے۔

عورتوں کا مہر: مہر کو عورت کا حق قرار دیا گیا، جو خوش دلی سے ادا کرنا چاہیے۔

وراثت کے تفصیلی احکام:اسلامی قانونِ وراثت کا ایک بڑا حصہ اس چوتھے پارے میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے والدین، اولاد، میاں بیوی اور بہن بھائیوں کے حصے خود متعین کر دیے ہیں تاکہ معاشرے میں مالی تنازعات ختم ہوں۔ یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ یہ ’اللہ تعالیٰ کی حدود‘ ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ سخت عذاب کا مستحق ہوگا۔

توبہ کی قبولیت اور محرماتِ نکاح:پارے کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کن لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے (وہ جو نادانی میں گناہ کر بیٹھیں اور جلد توبہ کر لیں) اور کن کی نہیں (وہ جو موت کے وقت توبہ کریں)۔ آخر میں ان خواتین کی فہرست دی گئی ہے جن سے نکاح شرعاً حرام ہے،مثلاً مائیں، بیٹیاں، بہنیں، خالائیں، پھوپھیاں، رضاعی مائیں اور بہنیں وغیرہ۔

خلاصۂ کلام: چوتھا پارہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرتی انصاف، یتیموں کی کفالت، وراثت کی منصفانہ تقسیم اور جنگ و امن کے حالات میں اللہ پر کامل بھروسا کرنے کا نام ہے۔ یہ پارہ ایمان کی پختگی اور انسانی حقوق کی پاس داری کا ایک مکمل ضابطہ ہے۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں موجود دنیوی مال و متاع، اولاد اور سونے چاندی کے خزانوں کی رغبت کا ذکر فرمایا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ اصل ٹھکانہ اور دائمی کامیابی اللہ تعالیٰ کے پاس موجود نعمتوں میں ہے۔ یہ سبق ہمیں مادیت پرستی کے فتنے سے بچا کر آخرت کی تیاری کی طرف راغب کرتا ہے۔پارے کے مختلف مقامات پر منافقین کی نفسیات کو بے نقاب کیا گیا ہے جو مسلمانوں کی تکلیف پر خوش اور خوشی پر رنجیدہ ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ ان کی سازشیں اللہ تعالیٰ کے منصوبے کے سامنے ہیچ ہیں اور ان کا انجام ذلت آمیز عذاب ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here