قرآن کا پیغام (پارہ:۹)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا نواں پارہ ﴿قَالَ الْمَلَاُ﴾ سورۃ الاعراف کی آیت نمبر۸۸؍ سے شروع ہو کر سورۃ الانفال کی آیت نمبر۴۰؍ پر ختم ہوتا ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے پچھلی قوموں کے عروج و زوال، انبیاے کرام علیہم السلام کی دعوت اور حق و باطل کے معرکے کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام اور قومِ مدین کا انجام: پارے کے آغاز میں حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم کا تذکرہ ہے۔ قوم کے متکبر سرداروں نے حضرت شعیبؑکو دھمکی دی کہ یا تو وہ اپنے ساتھیوں سمیت ان کے آبائی دین میں واپس آ جائیں یا وہ بستی سے نکال دیے جائیںگے۔ حضرت شعیبؑنے کمالِ ایمان کے ساتھ جواب دیا کہ اللہ کے فضل سے ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹنا ناممکن ہے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور دعا مانگی: اے ہمارے رب! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے۔ قرآن کہتا ہے: ﴿فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ﴾پھر ہوا یہ کہ انھیں زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا قصہ: اس پارے کا ایک بڑا حصہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ہونے والے مکالموں اور معجزات پر مشتمل ہے؛ (۱)معجزات کا ظہور: حضرت موسیٰؑنے فرعون کے دربار میں اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ اژدہا بن گئی، اور اپنا ہاتھ نکالا تو وہ چمکنے لگا۔ فرعون نے اسے جادو قرار دیا اور مقابلے کے لیے جادوگروں کو بلالیا (۲)جادوگروں کا ایمان لانا: جب جادوگروں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰؑکا عصا ان کے تمام بناوٹی سانپوں کو نگل گیا ہے تو وہ سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ معجزہ ہے۔ وہ اسی وقت سجدے میں گر پڑے اور اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لائے۔ فرعون نے انھیں ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی پر چڑھانے کی دھمکی دی، لیکن ان کے ایمان میں لرزش نہ آئی(۳)فرعونیوں پر آفات: فرعون کی سرکشی پر اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف عذاب بھیجے جن میں طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون شامل تھے۔ ہر بار وہ حضرت موسیٰؑسے دعا کی درخواست کرتے لیکن عذاب ٹلتے ہی پھر نافرمانی کرنے لگتے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے انھیں سمندر میں غرق کر دیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔
بنی اسرائیل کی بدعہدی اور کوہِ طور کا واقعہ: سمندر پار کرنے کے بعد بنی اسرائیل نے بت پرستی کی خواہش ظاہر کی جس پر حضرت موسیٰؑنے انھیں سخت تنبیہ کی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰؑکو چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر بلایا گیا۔
دیدارِ الٰہی کی خواہش: حضرت موسیٰؑنے اللہ تعالیٰ سے دیدار کی خواہش ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے، اور جب اللہ تعالیٰ کی تجلی پہاڑ پر پڑی تو وہ ریزہ ریزہ ہو گیا اور حضرت موسیٰؑبے ہوش ہو کر گر پڑے۔
بچھڑے کی پرستش:حضرت موسیٰؑکی غیر موجودگی میں سامری کے ورغلانے پر قوم نے سونے کا بچھڑا بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی۔ واپس آکر جب حضرت موسیٰؑنے یہ سب دیکھا تو انتہائی غضب ناک ہوئے اور اپنے بھائی حضرت ہارونؑکی گرفت کی، لیکن جب حقیقت واضح ہوئی کہ حضرت ہارونؑنے حتی المقدور قوم کو اس حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔
عہدِالستُ: اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اُس عہد کا بھی ذکر کیا ہے جو تخلیقِ آدم کے وقت تمام انسانوں کی روحوں سے لیا گیا تھا۔ اللہ نے پوچھا تھا: کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا تھا: ہاں! بے شک آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ یہ عہد اس لیے لیا گیا تاکہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو توحید کا علم ہی نہ تھا۔
حضرت نبی کریم ﷺ کی آمد کی بشارت: قرآن مجید نے واضح کیا ہے کہ حضرت موسیٰؑکی شریعت میں اس ’نبیِ اُمی‘ (حضرت محمد ﷺ) کی علامات موجود ہیں، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیں گے، برائی سے روکیں گے، پاکیزہ چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام قرار دیںگے، اور ان پر لدے ہوئے بوجھ اور زنجیریں اتار دیں گے۔
سورۃ الأنفال
پارے کے آخری حصے میں سورۃ الانفال شروع ہوتی ہے، جو بنیادی طور پر جنگِ بدر کے متعلق ہے۔ہجرت کے دوسرے سال رمضان میں بدر کی وہ فیصلہ کن اور تاریخ ساز جنگ ہوئی جس میں امتِ اسلامیہ کی تقدیر اور دعوتِ حق کے مستقبل کا فیصلہ ہوا جس پر پوری نسلِ انسانی کی قسمت کا انحصار تھا۔ اس کے بعد سے آج تک مسلمانوں کو جتنی فتوحات اور کامیابیاں حاصل ہوئیں اور ان کی جتنی حکومتیں اور سلطنتیں قایم ہوئیں وہ سب اسی فتحِ مبین کی رہینِ منت ہیں جو بدر کے میدان میں اس مٹھی بھر جماعت کو حاصل ہوئی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو ’یوم الفرقان‘ (فیصلہ کن دن) قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مسلمانو! یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مالِ غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ و رسول اور ان کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے، جس کی ادایگی تم پر واجب ہے، اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی تھی، جس دن دو جماعتیں باہم ٹکرائی تھیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
سچے مومنوں کی صفات: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ﴾ مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور ترقی دیتی ہیں اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسا کرتے ہیں۔
نصرتِ الٰہی: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ جب تم تعداد میں کم اور کم زور تھے تو اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے تمھاری مدد کی۔ جنگ میں کامیابی تمھاری طاقت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے ہوئی۔
فتنہ و آزمائش: مال و اولاد کو ایک آزمائش قرار دیا گیا ہے:﴿وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۙ ﴾ اور نصیحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پکار پر فوراً لبیک کہو کیوںکہ اسی میں تمھاری زندگی ہے۔
خلاصۂ کلام: نواں پارہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے، چاہے وہ فرعون جیسا طاقت ور بادشاہ ہو یا مدین کے جیسے مال دار تاجر۔ کامیابی صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور تقوے میں ہے۔عہدِ الستُ کے ذریعے انسانی فطرت میں موجود توحید کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔ یہ پارہ ہمیں اپنے اس قدیم عہد کی یاد دلاتا ہے جو ہم نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا اوریہ ہمیں حضرت نبی کریم ﷺ کی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔اس پارے کا مرکزی پیغام حق پر استقامت اور باطل کا انجام ہے۔ حضرت شعیبؑاور حضرت موسیٰؑکے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم ظلم اور سرکشی کی انتہا کر دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اسے نیست و نابود کر دیتا ہے۔ فرعون کی ہٹ دھرمی اور جادوگروں کا بے مثال ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ طاقت اصل میں اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ غزوۂ بدر کے حوالے سے بتایا گیا کہ کامیابی مادّی وسائل میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے اور تقوے میں ہے۔





