قرآن کا پیغام (پارہ:۱۰)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا دسواں پارہ ﴿وَاعْلَمُوْٓا﴾ دو اہم سورتوں سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ پر مشتمل ہے۔ یہ پارہ اسلامی تاریخ کے اس دور کی عکاسی کرتا ہے جب مدینے میں اسلامی ریاست مستحکم ہو رہی تھی اور مسلمانوں کو داخلی و خارجی دونوں محاذوں پر چیلنجز کا سامنا تھا۔
مالِ غنیمت کا فلسفہ اور تقسیم: سورۃ الانفال کا بقیہ حصہ جو اس پارے میں شامل ہے وہ بنیادی طور پر ’غزوہِ بدر‘ کے بعد کے حالات اور جنگی قوانین سے متعلق ہے۔ پارے کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے:﴿وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ﴾ اس میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا حتمی قانون بیان کیا گیا کہ فتح کے بعد حاصل ہونے والا مال محض دنیوی دولت نہیں بلکہ اللہ کا فضل ہے۔ اس کا بیسواں حصہ (خمس) اجتماعی مفاد، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مختص کر کے اسلام نے سرمایہ داری کے بجائے سماجی فلاح کا تصور دیا۔
یومِ فرقان کی منظر کشی: اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر کو-﴿يَوْمَ الْفُرْقَانِ﴾یعنی وہ دن جس نے حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی-قرار دیا۔ ان آیات میں اس نفسیاتی کیفیت کا ذکر ہے جو میدانِ جنگ میں طاری تھی۔ مسلمانوں کو دشمن کی تعداد کم دکھائی گئی تاکہ ان کے حوصلے نہ ٹوٹیں اور کافروں کو مسلمان کم دکھائے گئے تاکہ وہ غرور میں آکر اپنی عسکری تدبیر سے غافل ہو جائیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی غیبی تدبیر کا حصہ تھا۔
کامیابی کے پانچ نبوی اصول: اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے کسی بھی معرکے میں کامیابی کے لیے پانچ ابدی اصول عطا فرمائے: (۱)ثابت قدمی: مشکلات میں قدم نہ ڈگمگائیں (۲)ذکرِ الٰہی: کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کریں تاکہ دل مضبوط رہے (۳)اطاعت:اللہ و رسول کے احکامات پر بلا چوں و چرا عمل کریں (۴)اتحاد: باہمی اختلاف سے بچنا کیوں کہ اختلاف قوموں کی ہوا اکھاڑ دیتا اور انھیں بزدل بنا دیتا ہے (۵)استقامت و صبر: استقامت و صبر ایسی صفت ہیں جو قلیل جماعت کو کثیر پر غالب کر دیتی ہیں۔
سورۃ التوبہ
عہد شکن مشرکین سے بیزاری: اس پارے کا بڑا حصہ سورۃ التوبہ پر مشتمل ہے اور یہ قرآن مجید کی اس اعتبار سے منفرد سورت ہے کہ یہ بسم اللہ کے بغیر شروع ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورت میں مشرکین سے قطعِ تعلق اور ان کی عہد شکنیوں پر اللہ تعالیٰ کے غضب کا اظہار ہے۔فتحِ مکہ کے بعد بھی کچھ قبائل معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے براءت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:﴿بَرَاۗءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ﴾ اب مسلمانوں پر ان مشرکین کی ذمّےداری نہیں رہی۔ انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی تاکہ وہ یا تو توبہ کر لیں یا اپنا ٹھکانہ تلاش کر لیں۔ یہ اعلان ’حجِ اکبر‘ کے دن کیا گیا، جو کہ اسلامی ریاست کے مکمل استحکام کا علامتی اعلان تھا۔
مسجدِ حرام کی تولیت اور کردار:اس پارے میں ایک اہم فکری تصحیح کی گئی ہے۔ مشرکینِ مکہ کا خیال تھا کہ چوںکہ وہ حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مسجدِحرام کی خدمت کرتے ہیں، اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ہیں۔ قرآن مجید نے واضح کیا کہ ایمان باللہ، یومِ آخرت پر یقین اور اللہ کی راہ میں ہجرت و جہاد کے بغیر یہ ظاہری خدمتیں ہیچ ہیں۔ مساجد کو آباد کرنے کا حق صرف ان کو ہے جن کے عقائد درست ہوں۔
غزوہ ٔحنین کا عبرت ناک سبق: غزوۂ حنین کا تذکرہ اس پارے کی اہم ترین بحث ہے۔ مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی اور وہ اپنی کثرت پر نازاں تھے، لیکن میدانِ جنگ میں ایک وقت ایسا آیا کہ کثرت کے باوجود مسلمان پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے کہ فتح تعداد سے نہیں، اللہ تعالیٰ کی مدد اور’سکینہ‘ سے حاصل ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر سکینہ نازل فرمائی تو شکست فتح میں بدل گئی۔﴿فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ۭ﴾
نفاق کی نفسیات اور غزوۂ تبوک: اس پارے کا ایک بڑا حصہ منافقین کے پردہ چاک کرنے کے لیے مخصوص ہے۔اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس مکروفریب کو بے نقاب کیا ہے جو وہ سماجی طور پر مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے تھے۔ منافقین صرف میدانِ جنگ سے فرار ہی نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ مسلمانوں کے اندرونی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے نفسیاتی جنگ کا سہارا لیتے تھے۔ جب بھی مسلمانوں کو کوئی تکلیف پہنچتی تو یہ خوش ہوتے اور جب مسلمانوں کو فتح یا خوشی ملتی تو ان کے چہروں پر مردنی چھا جاتی۔ قرآن نے ان کے اس دوغلے پن کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ یہ قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم تم ہی میں سے ہیں، حالاں کہ ان کے دل کفر اور شک کی وادیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ اس پارے میں ان لوگوں کا بھی ذکر ہے جو صدقات اور زکوٰۃ کی تقسیم پر اعتراضات کرتے تھے۔ ان کا مقصد غریبوں کی ہمدردی نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس کو نشانہ بنانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ ان کا اعتراض صرف اس لیے ہے کہ انھیں ان کی خواہش کے مطابق مال نہیں ملا۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ نفاق کا ایک بڑا سبب حرص اور لالچ ہے۔ غزوۂ تبوک نے سچے مومنوں اور منافقوں کے درمیان چھلنی کا کام کیا۔
منافقین کے حیلے بہانے:جب شدید گرمی میں شام کی سرحد کی طرف نکلنے کا حکم آیا تو منافقین نے مختلف بہانے بنائے۔ کسی نے کہا کہ گرمی بہت ہے، کسی نے اپنی خاندانی مجبوریوں کا رونا رویا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا:﴿نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ۭ﴾ جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ یہ آیات قیامت تک کے لیے ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہیں جو دنیوی آسائشوں کو دین کے احکامات پر ترجیح دیتے ہیں۔
زکوٰۃ کے آٹھ مصارف:معاشرتی نظام کو درست کرنے کے لیے زکوٰۃ کے آٹھ مستحقین کا تعین کر دیا گیا: ﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭ﴾۔ اس سے اسلامی بیت المال کا پورا ڈھانچہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دولت کن طبقوں پر خرچ ہونی چاہیے۔
سچے مومنوں کا ایثار:پارے کے آخر میں ان صحابہؓکا ذکر ہے جو مالی تنگی کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو سکے اور جب رسول اللہﷺ نے ان سے معذرت کی تو وہ روتے ہوئے گھروں کو گئے کہ ان کے پاس اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو کچھ نہیں،﴿اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ۠ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ﴾۔ ان کے اس اخلاص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
خلاصۂ کلام: یہ پارہ ہمیں ایک ایسی جماعت بننے کی دعوت دیتا ہے جو نظریاتی طور پر مضبوط ہو، جس کا نظم و ضبط مثالی ہو، اور جس کے افراد اپنے ذاتی مفادات کو اللہ و رسول اللہﷺ کی پکار پر قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں۔ یہ عہد کی پابندی پر زور دیتا ہے، لیکن اگر دوسرا فریق مسلسل غداری کرے تو ریاست کو اپنی حفاظت کا حق بھی فراہم کرتا ہے۔ منافقین کی صفات؛جھوٹ، بہانے بازی، نیکی سے روکنا وغیرہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنے گریبان میں جھانکیں اور اپنی اصلاح کریں۔ نیز غزوۂ بدر یا غزوۂ حنین کا سبق یہ ہے کہ ظاہری اسباب کے ساتھ ساتھ بھروسا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونا چاہیے۔






