قرآن کا پیغام (پارہ:۱۲)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا بارھواں پارہ ﴿ وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ﴾دو عظیم سورتوں سورہ ہود اور سورہ یوسف کے مضامین پر مشتمل ہے۔ یہ پارہ انسانی عقل کو کائنات کے نظام میں غور وفکر کی دعوت دیتا ہے اور تاریخ کے آئینے میں انسانی کردار کی بلندی و پستی کو واضح کرتا ہے۔
رزقِ الٰہی کا عالم گیر تصور: پارے کی پہلی ہی آیت قرآنی فلسفۂ معیشت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ﴾ اور زمین پر چلنے والا کوئی جان دار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ نے اپنے ذمّے نہ لے رکھا ہو، وہ اس کے مستقل ٹھکانے کو بھی جانتا ہے اور عارضی ٹھکانے کو بھی۔ یہ تصور انسان کو ’رزق کی تنگی‘ کے خوف سے آزاد کر کے بلند مقاصد کے لیے جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام اور عدالتِ الٰہیہ: اس پارے میں حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ جب قوم نے ساڑھے نو سو سال کی دعوت کو مسترد کر دیا تو اللہ تعالیٰ کا حکم آیا کہ ایک عظیم کشتی تیار کی جائے۔ قوم کے سرداروں نے کشتی بنتے دیکھ کر تمسخر کیا، لیکن جب تنور سے پانی ابلنے لگا اور آسمان سے موسلا دھار بارش شروع ہوئی تو وہی کشتی نجات کا ذریعہ بنی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے انسانی رشتوں کی حقیقت بھی واضح کر دی کہ نبی کا اپنا بیٹا ہونے کے باوجود وہ اس لیے غرق ہو گیا کہ اس کا عمل صالح نہیں تھا۔ ارشاد فرمایا گیا:﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖإِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ ۔ اس سے سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کامیابی کا معیار ’نسب‘ نہیں ’تقویٰ‘ ہے۔
معاشی اخلاقیات اور قومِ مدین: حضرت شعیب علیہ السلام کا قصہ اس پارے کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان کی قوم ناپ تول میں کمی کرتی تھی اور معاشی معاملات میں بددیانتی کا شکار تھی۔ حضرت شعیبؑنے انھیں سمجھایا کہ اللہ کا دیا ہوا رزق جو بچ رہے، وہی تمھارے لیے بہتر ہے، لیکن قوم نے جواب دیا: ﴿اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا ۭ﴾ تمھاری نماز تمھیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے آئے تھے ہم انھیں بھی چھوڑ دیں اور اپنے مال و دولت کے بارے میں جو کچھ ہم چاہیں، وہ بھی نہ کریں۔ یہ جملہ آج کے دور کے سیکولر ذہن کی عکاسی کرتا ہے جو دین کو صرف عبادت گاہ تک محدود رکھنا چاہتا ہے اور معیشت و سیاست میں خدا کا دخل پسند نہیں کرتا۔
سورہ یوسف
حسد کی آگ اور کنویں کا سفر: سورۂ یوسف کو قرآن نے ’احسن القصص‘ کہا ہے۔ یہ قصہ انسانی جذبات، حسد، عفت، صبر اور سیاسی عروج و زوال کا شاہ کار ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کا ابتدائی زمانہ آزمائشوں میں گزرا۔ بھائیوں نے والد کی محبت پر رشک کرتے ہوئے انھیں کنویں میں ڈال دیا۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ کی اس تدبیر کا آغاز ہوتا ہے کہ دشمن جس راستے سے آپ کو مٹانا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسی راستے سے آپ کو تخت تک پہنچا دیتا ہے۔ بھائیوں نے خون آلود قمیص لا کر جھوٹ بولا، جس پر حضرت یعقوب علیہ السلام نے صبرِ جمیل کا مظاہرہ کیا۔اس پارے میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس صبرِ جمیل کی گہرائی بھی بیان کی گئی ہے جو ایک باپ کی اپنے بیٹے کے لیے تڑپ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے درمیان ایک مثالی توازن پیش کرتی ہے۔ جب بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو جدا کر دیا تو حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں بیٹے کی یاد میں روتے روتے سفید ہو گئیں، لیکن اس شدید غم کے باوجود ان کی زبان پر کبھی شکوہ نہیں آیا۔ قرآن مجید نے کہا:﴿قَالَ اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا : میں اپنے رنج و غم کی فریاد صرف اللہ سے کرتا ہوں، اور اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔ یہ جملہ توحیدِ خالص کا نچوڑ ہے کہ انسان کتنا ہی دکھی کیوں نہ ہو، اس کا ملجا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہونی چاہیے۔
مصر کا بازار اور عفت کی حفاظت: حضرت یوسف علیہ السلام کو غلام بنا کر مصر میں بیچ دیا گیا۔ وہاں عزیزِ مصر کی بیوی (زلیخا) نے آپ کو فتنے میں ڈالنا چاہا، لیکن یوسفؑنے اللہ کی پناہ مانگی۔ قرآن مجید نے نقل کیا ہے: ﴿وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۭ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ﴾ اور جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے، اس نے ان کو ورغلانے کی کوشش کی، اور سارے دروازوں کو بند کردیا، اور کہنے لگی : آ بھی جاؤ ! یوسفؑنے کہا : اللہ کی پناہ!۔ یہ قصہ نوجوان نسل کے لیے پاک بازی کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کرتا ہے کہ جب گناہ کے تمام دروازے کھلے ہوں اور کوئی دیکھ بھی نہ رہا ہو، تب بھی خدا کا خوف انسان کے ساتھ ہونا چاہیے۔
قید خانہ- دعوتِ دین کا مرکز: حضرت یوسف علیہ السلام نے محل کی عیاشی کے مقابلے میں قید خانے کی تنگی کو پسند کیا تاکہ وہ گناہ سے بچ سکیں: ﴿قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَيْهِ ۚ ﴾۔ جیل میں بھی آپ نے اپنا کام جاری رکھا اور ساتھی قیدیوں کو توحید کا پیغام دیتے رہے۔ آپ نے ثابت کردیا کہ اللہ تعالیٰ کا سچا بندہ حالات کا قیدی نہیں ہوتا بلکہ وہ جہاں بھی ہو خیر کا داعی ہوتا ہے۔
بادشاہ کا خواب اور معاشی منصوبہ بندی: مصر کے بادشاہ نے خواب دیکھا کہ سات دبلی گائیں سات موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں۔ حضرت یوسفؑنے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ ملک میں سات سال سخت قحط آئےگا۔ آپ نے صرف تعبیر نہیں بتائی بلکہ اس بحران سے نمٹنے کا ایگری کلچر پلان بھی دیا کہ غلّے کو اس کی بالیوں [Ears of corn] میں ہی رہنے دیا جائے تاکہ وہ خراب نہ ہوں: ﴿ قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓ﴾ یوسفؑنے کہا : تم سات سال تک مسلسل غلہ زمین میں اگاؤ گے، اس دوران جو فصل کاٹو، اس کو اس کی بالیوں ہی میں رہنے دینا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حکومت اور معیشت کو چلانے کے لیے علم و حکمت کو ضروری سمجھا گیا ہے۔
خواب کی تعبیر: سورہ یوسف میں خوابوں کی نفسیاتی اور روحانی حقیقت سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کس طرح حضرت یوسفؑ(جو قیدی تھے) کے علمِ تعبیر نے ایک پوری سلطنت کو معاشی تباہی سے بچا لیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ علم و حکمت صرف شاہی محلوں کی میراث نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ نور ہے جو وہ اپنے برگزیدہ بندوں کے سینوں میں ودیعت فرماتا ہے۔
حاصلِ کلام:یہ بارہواں پارہ ہمیں یقین کی قوت عطا کرتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کے تاریک ترین لمحات جیسے کنواں یا جیل بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بڑی روشنی کی تیاری ہیں۔ یہ پارہ ہمیں صبرِ جمیل، عفت و پاک بازی اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر کامل بھروسا رکھنے کا درس دیتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ پوری کائنات کو ہمارا خادم بنا دیتا ہے۔ اس پارے کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ دنیا کی تمام تر سازشیں اور رکاوٹیں اللہ کے ارادے کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کے لیے سربلندی لکھ دی ہے تو قید خانے کی سلاخیں بھی اس کے لیے وقار کا باعث بن جاتی ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے کنویں میں ڈالا تاکہ وہ والد کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں لیکن وہی کنواں ان کے لیے مصر کے تخت کا پہلا زینہ بن گیا۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے ہماری سوچ سے کہیں بلند ہیں اور آزمائش جتنی طویل ہوگی کامیابی اتنی ہی شان دار ہوگی۔ نیز عزیزِ مصر کی بیوی نے آخر میں اعتراف کیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام سچّے ہیں۔ یہ ایک باکردار انسان کی سب سے بڑی جیت ہے کہ اس کا دشمن بھی اس کی پاک بازی کی گواہی دے۔






