لمبے وقت والے قرض پر زکوٰۃ
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب مدظلہ!
بہت سے لوگ لاکھوں کروڑوں کی پروپرٹی کئی سالوں کے لیے قرض پر لے لیتے ہیں اور تھوڑا تھوڑا ہر سال یا ہر مہینے ادا کرتے رہتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم تو قرض دار ہیں، تو کیا ان لوگوں پر واقعی زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:آج کل لوگ بےدھڑک بہت سا قرض لے لیتے ہیں، یہ رقمیں اتنی کثیر ہوتی ہیں کہ بڑے بڑے سرمایہ داروں پر زکوٰۃ واجب ہی نہ ہو اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ قرض کی جتنی سالانہ رقم ادا کرنا ضروری ہو اس کے علاوہ بقیہ قرض کو نصابِ زکوٰۃ میں سے منہا [Minus] نہ کیا جائے، جس طرح شوہر کے لیے بیوی کا دین مہر مؤجل مانعِ زکوٰۃ نہیں، اسی طرح یہ طویل میعاد والے قرضے بھی مانعِ زکوٰۃ نہ ہوںگے۔[دیکھیے ہماری کتاب فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی





![روزے میں بام [Balm]یا وکس [Vicks]وغیرہ لگانا](https://afif.in/wp-content/uploads/2026/03/20-Roze-mein-Balm-ya-Vicks-lagana-100x70.jpg)
![انکم ٹیکس [Income Tax]سےزکوٰۃ کی ادایگی](https://afif.in/wp-content/uploads/2026/03/37-Income-tax-se-zakat-ki-adayegi-100x70.jpg)