فکس ڈپوزٹ کی رقم پر زکوٰۃ
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب مدظلہ!
کیا فکس ڈپوزٹ کی رقم پر بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ جب اسے ناجائز کہا جاتا ہے تو پھر زکوٰۃ کیسے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:فکس ڈپوزٹ [Fix Deposit]میں اس لیے رقم رکھنا کہ کچھ مدت کے بعد دو چند ہوجائے گی ناجائز اور حرام ہے، جو زیادتی اس پر ملی ہے وہ سود ہے، اس کو چاہیے کہ اپنی اس حرکت سے تائب ہوکر وہ زائد رقم فقرا ومساکین کو دے دے اور نیت یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس وبال سے نجات عطافرمائے، ثواب کی نیت نہ ہو۔[محمودالفتاویٰ مبوب، کتاب الفتاویٰ] لیکن جو رقم بینک میں فکس ڈپوزٹ کے طور پر رکھی ہوتی ہے، اس کی زکوٰۃ واجب ہے۔ [ایضاً]فقط
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی
[دیکھیے: فقہِ رمضان]






