پرویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب! پرویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ کا کیا مسئلہ ہے، رقم ملنے پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا ہر سال؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:ملازمین کے پرویڈنٹ فنڈ میں بہت سے روپے جمع رہتے ہیں، تنخواہ سے جو رقم پرویڈنٹ فنڈ میں کاٹی جاتی ہے اور اُس پر ماہ بہ ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے جمع کرتاہے، پھر مجموعے پر جو رقم سالانہ (بہ نام سود یاانٹرسٹ) ملازم کے حساب میں جمع کرتاہے، امام اعظم ابوحنیفہؒکے مذہب پر اِن میں سے کسی رقم پر گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں، وصول ہونے کے بعد سے ضابطے کے مطابق اُس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، مگر صاحبینؒکے نزدیک یہ رقم وصول ہونے کے بعد گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی واجب ہوگی، لہٰذا اگر کوئی شخص تقویٰ و احتیاط پر عمل کرتے ہوئے گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی دے دے تو افضل اور بہتر ہے،نہ دے توکوئی گناہ نہیں، کیوںکہ فتویٰ امام اعظمؒکے قول پر ہے۔ فنڈ خواہ جبری ہو یا اختیاری، زکوٰۃ کے مسائل میں دونوں کے احکام یکساں ہیں۔
مذکورہ بالا حکم اُس وقت ہے جب کہ ملازم نے اپنے فنڈ کی رقم اپنی ذمّےداری پر کسی دوسرے شخص یاکمیٹی وغیرہ کی تحویل میں منتقل نہ کروادی ہو، اگر ایساکیا یعنی اپنے فنڈ کی رقم اپنی طرف سے اپنی ذمّے داری پر کسی شخص یابینک، بیمہ کمپنی، کسی اور مستقل تجارتی کمپنی یا ملازمین کے نمائندوں پر مشتمل بورڈ وغیرہ کی تحویل میں دِلوا دی تو یہ ایساہے جیسے خود اپنے قبضے میں لے لی ہو، کیوںکہ اِس طرح جس کمپنی وغیرہ کو یہ رقم منتقل ہوئی وہ اُس ملازم کی وکیل ہوگئی اور وکیل کا قبضہ شرعاً مؤکل کے قبضے کے حکم میں ہے، لہٰذا جب یہ رقم اُس کمپنی وغیرہ کی طرف منتقل ہوگی اُس وقت اُس پر زکوٰۃ کے احکام جاری ہوجائیںگے اور ہر سال کی زکوٰۃ ضابطے کے مطابق واجب ہوتی رہے گی۔[پرویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ اور سود کامسئلہ، محمودالفتاویٰ مبوب] فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






