قرآن کا پیغام (پارہ:۱۸)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا اٹھارواں پارہ ﴿قَدْ أَفْلَحَ﴾ تین اہم سورتوں پر مشتمل ہے: سورۃ المؤمنون (مکمل)، سورۃ النور (مکمل) اور سورۃ الفرقان (ابتدائی حصہ)۔ یہ پارہ اسلامی معاشرت، اخلاقیات، قانون سازی اور انسانی کردار سازی کا ایک عظیم شاہ کار ہے۔ اس میں جہاں ایک طرف مومن کی انفرادی صفات کا ذکر ہے، وہیں دوسری طرف ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے خاندانی قوانین اور حدود اللہ کا تفصیلی بیان موجود ہے۔
سورۃ المؤمنون
کامیاب مومنوں کی سات صفات:اس سورت کا آغاز اللہ تعالیٰ کے اس عظیم اعلان سے ہوتا ہے: ﴿ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ﴾ ایمان والوں نے یقیناً فلاح پالی ہے۔ یہ کامیابی صرف دنیوی جاہ و جلال نہیں بلکہ ابدی نجات ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان صفات کا ذکر فرمایا ہے جو کسی انسان کو حقیقی مومن بناتی ہیں:(۱) نماز میں خشوع: یعنی دل کی حضوری اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کے ساتھ نماز ادا کرنا(۲)لغویات سے اعراض: فضول باتوں، بے مقصد کاموں اور گناہوں کی محفلوں سے دوری اختیار کرنا (۳) زکوٰۃ کی ادایگی: اپنے مال کو پاک کرنا اور مستحقین کا حق ادا کرنا (۴) شرم گاہوں کی حفاظت: اپنی عفت اور عصمت کی حفاظت کرنا اور صرف جواز کے دایرے میں رہنا (۵)امانت داری: لوگوں کے مال، راز اور ذمّےداریوں میں خیانت نہ کرنا (۶)عہد کی پاس داری: جب کسی سے وعدہ کرنا تو اسے ہر حال میں پورا کرنا(۷)نمازوں کی حفاظت: وقت کی پابندی اور ارکانِ نماز کی درستی کے ساتھ نماز ادا کرنا۔
تخلیقِ انسانی اور کائنات کے مظاہر:اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کے مختلف مراحل؛ نطفہ، علقہ، مضغہ، ہڈیوں کی بناوٹ اور پھر گوشت کا چڑھنا ذکر کر کے اپنی قدرتِ کاملہ کا ثبوت دیا ہے: ﴿ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَـلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَـلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْــمًا ۤ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ ۭفَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ﴾۔ اس کے بعد زمین، آسمان، بارش، پھل دار درختوں خصوصاً زیتون اور چوپایوں کے فوائد کا ذکر کر کے انسان کو شکر گزاری کی دعوت دی ہے۔
انبیاےکرام کے قصّے اور پیغام:آگے حضرت نوحؑ، حضرت ہودؑ، حضرت موسیٰؑاور حضرت عیسیٰؑکے مختصر واقعات بیان کر کے یہ واضح کیا گیا ہے کہ تمام انبیا کا پیغام ایک ہی تھا، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔ منکرینِ حق نے ہر دور میں انبیا کو اپنے جیسا انسان کہہ کر جھٹلایا، جس پر اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر دیا اور رہتی دنیا تک کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا۔
سورۃ النور
معاشرتی پاکیزگی اور سزائیں:سورۃ النور اس پارے کا سب سے اہم حصہ ہے، جسے معاشرتی اصلاح کی سورت کہا جا سکتا ہے۔ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب مدنی معاشرے میں منافقین نے اخلاقی گراوٹ پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ معاشرے کو بے حیائی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت قوانین وضع فرمائے: (۱) زنا کی سزا: بدکاری کرنے والے مرد اور عورت کے لیے سزا مقرر کی گئی (۲)قذف ؍تہمت کی سزا: اگر کوئی کسی پاک دامن عورت پر بدکاری کا الزام لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے اسّی کوڑے مارنے اور اس کی گواہی کو ہمیشہ کے لیے مسترد کرنے کا حکم دیا گیا (۳)لعان: اگر میاں بیوی ایک دوسرے پر الزام لگائیں اور گواہ موجود نہ ہو تو ان کے لیے قسموں کے ذریعے فیصلے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
واقعۂ افک اور حضرت عائشہؓکی براءت: اس سورت کا ایک بہت ہی جذباتی اور اہم حصہ واقعۂ افک ہے۔ منافقین نے صدیقہ بنتِ صدیق، ام المؤمنین، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تھی، جس سے حضرت نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرامؓسخت کرب میں مبتلا رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں دس سے زائد آیتیں نازل فرما کر حضرت عائشہؓکی پاک دامنی کی گواہی دی اور تہمت لگانے والوں کی مذمت کی اور فرمایا:﴿وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِھٰذَا ڰ سُبْحٰنَكَ ھٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ﴾ اور جس وقت تم نے یہ بات سنی تھی اسی وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم یہ بات منھ سے نکالیں، یا اللہ ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔
حیا، حجاب اور اجازت لینا:معاشرے میں فتنوں کے سدِ باب کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں چند عملی احکامات دیے ہیں: (۱) غضِ بصر: مومن مَردوں اور عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں (۲)پردہ و حجاب: عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے محرم رشتےداروں کے، اور اپنے گریبانوں پر چاددر ڈال کر رکھیں (۳)اجازت لینا: کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلےسلام کرنے اور اجازت لینے کو لازمی قرار دیا گیا، تاکہ کسی کی خلوت[Privacy] متاثر نہ ہو (۴)نکاح کی ترغیب: معاشرے میں تجرد کو ختم کرنے کے لیے نکاح کو عام کرنے کا حکم دیا گیا، فرمایا کہ اگر کوئی غریب ہو تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔
اللہ تعالیٰ کا نور اور مساجد کا ذکر: اس سورت میں ایک نہایت خوب صورت تمثیل ’آیتِ نور‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو آسمانوں اور زمین کا نور قرار دیا: ﴿اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ﴾۔ اس کے بعد ان گھروں (مساجد) کا تذکرہ ہے جہاں صبح و شام اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے۔ اور وہ لوگ جو تجارت اور خرید و فروخت کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے، وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل اور نگاہیں الٹ پلٹ کر رہ جائیںگی۔
حضور ﷺکو پکارنے کا طریقہ:اللہ تعالیٰ نےخاص تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاۗءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ۭ﴾ (اے لوگو) اپنے درمیان رسول کو بلانے کو ایسا نہ سمجھو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو۔ برابر کے آدمی جب ایک دوسرے کو بلاتے ہیں تو اس کی زیادہ اہمیت نہیں سمجھی جاتی، یہاں ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
سورۃ الفرقان
حق و باطل کا معیار : پارے کے آخری حصے میں سورۃ الفرقان شروع ہوتی ہے۔ یہ سورت مکّی زندگی میں نازل ہوئی۔ فرقان اسے کہتے ہیں جو حق و باطل کے درمیان فرق واضح کر دے،اسی لیے ’فرقان‘ قرآن مجید کا لقب ہے۔ کفارِ مکہ کا یہ اعتراض تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ان کا مطالبہ تھا کہ رسول کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترا یا اسے کوئی بڑا خزانہ کیوں نہ ملا؟﴿وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا اَوْ يُلْقٰٓى اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا﴾ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ تمام انبیا انسان ہی تھے اور وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے تھے۔ یہ دراصل انسانوں کا امتحان ہے کہ وہ ایک انسان کی صورت میں آنے والے نبی پر ایمان لاتے ہیں یا نہیں؟
خلاصۂ کلام:یہ پارہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم انفرادی اصلاح یعنی نماز، امانت داری اور حیا کے ذریعے اپنا کردار بلند کریں اور اجتماعی اصلاح یعنی معاشرے سے بے حیائی، تہمت تراشی اور بدکاری کا خاتمہ کریں، اور اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کریں تاکہ معاشرے کا امن برقرار رہے۔






