قرآن کا پیغام (پارہ:۲۱)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا اکیسواںپارہ ﴿اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ ﴾ سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر۴۶؍ سے شروع ہوتا ہے اور سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر۳۰؍ پر ختم ہوتا ہے۔ اس پارے میں عقائد، اخلاقیات، کائنات میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور معاشرتی قوانین کا ایک وسیع سمندر موجزن ہے۔
نماز برائی سے روکتی ہے: اس میں نماز کو ایک ایسی طاقت قرار دیا گیا ہے جو انسان کو فحاشی اور برائی سے روکتی ہے۔ یہ محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک تربیتی نظام ہے۔ ارشاد فرمایا:﴿اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَاَقِـمِ الصَّلٰوةَ ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ ۭ وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ﴾جو کتاب تمھارے پاس وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے اس کی تلاوت کرو، اور نماز قایم کرو۔ بےشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سب کو جانتا ہے۔
اہلِ کتاب کو دعوت و تبلیغ:اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دعوت و تبلیغ کے اسلوب سکھاتے ہوئے فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ ڰ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَاِلٰـهُنَا وَاِلٰــهُكُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ﴾ اور اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو، مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔ البتہ ان میں سے جو زیادتی کریں، ان کی بات اور ہے۔ اور (ان سے) یہ کہو کہ ہم اِس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے اور اُس پر بھی جو تم پر نازل کی گئی تھی، اور ہمارا خدا اور تمھارا خدا ایک ہے، اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ یعنی دعوت و تبلیغ صرف حق کی بات پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ اسے بہترین انداز میں پہنچانے کا نام ہے۔
ہجرت کا فلسفہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ اَرْضِيْ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعْبُدُوْنِ﴾ اے میرے بندو، جو ایمان لاچکے ہو ! یقین جانو میری زمین بہت وسیع ہے، لہٰذا خالص میری عبادت کرو۔ اس میں یہ سبق دیا گیا کہ اگر کسی جگہ دین پر عمل کرنا ناممکن ہو جائے تو وہاں سے ہجرت کر جانا چاہیے۔ یہ آیت ان مسلمانوں کے لیے تسلّی کا سامان تھی جو مکہ مکرمہ میں ظلم کا شکار تھے۔
دنیا کی حقیقت: آگے دنیوی زندگی کوکھیل کود سے تشبیہ دی گئی اور بتایا گیا کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے: ﴿وَمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا لَهْوٌ وَّلَعِبٌ ۭ وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَھِىَ الْحَـيَوَانُ ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ﴾۔یہ آیت انسانی زندگی کے فلسفے کو پوری طرح واضح کر دیتی ہے۔
سورۃ الروم
اللہ تعالیٰ کی نشانیاں:یہ سورت مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب رومیوں کو ایرانیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کی کہ چند ہی سالوں میں رومی دوبارہ غالب آ جائیںگے۔ یہ قرآن مجید کا ایک عظیم معجزہ ثابت ہوا ،جب تاریخ نے بالکل ویسا ہی رخ اختیار کر لیا۔ اس سورت کا بڑا حصہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر پر مشتمل ہے: (۱) وہ جان دار کو بےجان سے نکال لاتا ہے (۲)وہ بےجان کو جان دار سے نکال لیتا ہے (۳)وہ زمین کو اس کے مُردہ ہوجانے کے بعد پھر زندگی بخشتا ہے(۴)اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تم دیکھتے ہی دیکھتے انسان بن کر (زمین میں) پھیلے پڑے ہو (۵)اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمھارے درمیان محبت و رحمت کے جذبات رکھ دیے (۶)اس کی نشانیوں کا ایک حصہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے (۷)تمھاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے(۸)اس کی نشانیوں کا ایک حصہ تمھارا رات اور دن کے وقت سونا اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا ہے(۹)اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ تمھیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے جس سے ڈر بھی لگتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے (۱۰)وہ آسمان سے پانی برساتا ہے، جس کے ذریعے وہ زمین کو اس کے مُردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے (۱۱)اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قایم ہیں (۱۲)جب وہ ایک پکار دے کر تمھیں زمین سے بلائے گا تو تم فوراً نکل پڑوگے۔یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں، جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔آسمانوں و زمین میں جو بھی ہے، سب اسی کی ملکیت اور اسی کے تابع ہے۔
عالَم کا فساد: ایک بہت اہم نکتہ یہاں یہ بیان کیا گیا کہ انسانی اعمال بہ راہِ راست کائناتی توازن پر اثر انداز ہوتے ہیں:﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ﴾ لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی، اس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا، تاکہ انھوں نے جو کام کیے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزہ انھیں چکھائے، شاید وہ باز آجائیں۔
سورۃ لقمان
یہ سورت حکیم لقمانؑکے تذکرے اور ان کی وصیتوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے اور یہ والدین کے لیے تربیتِ اولاد کا ایک مکمل نصاب ہے۔
حضرت لقمانؑکی نصیحتیں: (۱)توحید: انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ شرک نہ کرنا، کیوںکہ شرک ظلمِ عظیم ہے (۲)شکر گزاری: اللہ تعالیٰ کا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو (۳)حقوق الوالدین: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں، لیکن دین کے معاملے میں ان کی غلط بات نہ مانو (۴)اعمال کا حساب: اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن حاضر کر دےگا (۵)عملی زندگی: نماز قایم کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو اور مصیبت پر صبر کرو (۶)سماجی آداب: لوگوں سے منھ پھیر کر بات نہ کرو، زمین پر اکڑ کر نہ چلو، اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو، کیوںکہ سب سے بری آواز گدھے کی ہوتی ہے۔
سورۃ السجدہ
یہ سورت انسان کو اس کی اصلیت یاد دلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھے دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر مستوی ہوا۔ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی، پھر اسے ایک حقیر پانی (نطفے) سے پروان چڑھایا گیا اور اس میں روح پھونکی گئی۔
اہلِ ایمان کی راتیں: اللہ نے تہجد گزاروں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ان کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا ہوتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں، اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔ چناںچہ کسی متنفس کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان ان کے اعمال کے بدلے میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔
سورۃ الاحزاب
اس سورت میں مدنی زندگی کے احکامات اور جنگی حالات کا ذکر ہے:(۱)ظہار: اس رسم کا خاتمہ کر دیا گیا کہ بیوی کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں بن جاتی ہے (۲)تبنیت (گود لی ہوئی اولاد): واضح کیا گیا کہ منھ بولے بیٹے حقیقی بیٹوں کی طرح نہیں، انھیں ان کے اصل باپ کے نام سے پکارا جانا چاہیے،اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہی عدل ہے (۳) غزوۂ احزاب (خندق): پارے کے آخر میں جنگِ خندق کا لرزہ خیز نقشہ کھینچا گیا ہے۔
خلاصۂ کلام:یہ اکیسواں پارہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی گواہی دے رہا ہے۔ یہ ہمیں انفرادی زندگی میں حضرت لقمانؑ جیسی حکمت اور اجتماعی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع کا درس دیتا اور صبر، شکر اور ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تاکید کرتا ہے۔





