Home Dept of Islamic Studies Articles ستائیسواں پارہ ہمیں چار بڑے سبق دیتا ہے: توحید، آخرت، تذکیر اور...

ستائیسواں پارہ ہمیں چار بڑے سبق دیتا ہے: توحید، آخرت، تذکیر اور عملی اصلاح

قرآن کا پیغام (پارہ:۲۷)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید کا ستائیسواں پارہ ﴿قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ﴾ سات سورتوں پر مشتمل ہے جو مکی دور کے آخری حصے میں نازل ہوئیں۔ اس پارے کی ابتدا سورۃ الذاریات آیت نمبر ۳۱؍ سے اور انتہا سورۃ الحدیدکی تکمیل پر ہوتی ہے۔

فرشتوں کا مہمان بن کر آنا: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر فرشتے انسانی شکل میں آئے تو انھوں نے ان کی مہمان نوازی کے لیے بچھڑا ذبح کر کے پیش کیا، لیکن انھوں نے کھانا نہیں کھایا تو حضرت ابراہیمؑکو ان کے غیرمعمولی ہونے کا احساس ہوا۔ فرشتوں نے انھیں بیٹے کی بشارت دی اور اپنے آنے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا:﴿اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْـرِمِيْنَ؀﴾ ہمیں کچھ مجرم لوگوں کے پاس بھیجا گیا ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط، قومِ عاد، فرعون اور قومِ ثمود کی تباہی کا ذکر فرمایا تاکہ موجودہ انسان سبق حاصل کرے۔

انسان کیوں پیدا کیا گیا؟: اس سورت کا سب سے اہم پیغام اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ؀﴾اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ یہاں عبادت سے مراد صرف نماز و روزہ نہیں بلکہ زندگی کے ہر عمل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کرنا ہے۔۔ یہ آیت انسانی وجود کے چارٹر [Charter] کی حیثیت رکھتی ہے۔

سورۃ الطور

پانچ قَسمیں: اللہ تعالیٰ نے پانچ قسمیں کھائیں:﴿وَالطُّوْرِ۝ وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ۝فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ۝ وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ۝وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۝وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ۝﴾ قسم ہے کوہِ طور کی۔ اور اس کتاب کی جو ایک کھلے ہوئے صحیفے میں لکھی ہوئی ہے۔ اور قسم ہے بیتِ معمور کی۔ اور بلند کی ہوئی چھت کی۔ اور بھرے ہوئے سمندر کی۔ اس قدر اہتمام کے بعد فرمایا: ﴿اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ۝﴾ کہ تمھارے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔یہ آیات خبردار کرتی ہیں کہ جس طرح یہ کائنات حقیقت ہے، اسی طرح اللہ کی پکڑ بھی ایک اٹل حقیقت ہے۔

متقین کے لیے انعام: اس سورت میں جنت کی نعمتوں کا نقشہ کھینچا اور بتایا گیا ہے کہ اہلِ ایمان کو وہاں بہترین پھل، گوشت اور شرابِ طہور عطا ہوگی۔ سب سے خوب صورت بات یہ کہ اللہ تعالیٰ مومنین کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ جنت میں جمع کر دےگا، بہ شرطے کہ وہ بھی ایمان والے ہوں۔

مشرکین کے اعتراضات کا جواب: اس میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو لاجواب کر دیا جو رسول اللہ ﷺ کو کاہن، مجنون یا شاعر کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چیلنج کیا کہ اگر یہ کلام محمد ﷺ کا خود ساختہ ہے تو اس جیسا ایک جملہ ہی بنا کر دکھا دو: ﴿فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖٓ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ ؀﴾۔

سورۃ النجم

رسالت کی گواہی: سورۃ النجم مضامین کے اعتبار سے انتہائی پرکشش سورت ہے۔ اس کا آغاز حضور ﷺ کی رسالت کی گواہی سے ہوتا ہے، ارشاد فرمایا:﴿مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى۝﴾ (اے مکہ کے باشندو) یہ تمھارے ساتھ رہنے والے صاحب نہ راستہ بھولے ہیں، نہ بھٹکے ہیں۔

معراج کا تذکرہ: اس میں حضرت نبی کریم ﷺ کے معراج کے سفر کا تذکرہ ہے کہ آپ نے سدرۃ المنتہیٰ پر جبریلؑکو ان کی اصل شکل میں دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ آگے فرمایا:﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى۝ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى۝﴾ آپﷺ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے۔ اس میں اسلام کے ماخذ اور مقامِ رسالت کی سب سے مضبوط بنیاد بیان کر دی۔

سورۃ القمر

شق القمر کا معجزہ: اس سورت کا آغاز معجزۂ شقِ قمرسے ہوتا ہے:﴿اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۝﴾۔ جب کہ کفار کے مطالبے پر حضرت نبی کریم ﷺ نے انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کر دیے تھے، لیکن کفار نے اسے بھی جادو قرار دے کر ماننے سے انکار کر دیا۔

قرآن کا چیلنج: اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے چار مرتبہ یہ آیت(نمبر ۱۷، ۲۲، ۳۲ اور ۴۰) دہرائی ہے:﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ؀﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟ یہ آیت اس غلط فہمی کو دور کرتی ہے جو لوگوں نے پال رکھی ہے کہ قرآن سیکھنا صرف علما کا کام ہے۔ آگے بعض قوموں کے واقعات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور پھر اللہ تعالیٰ کے قہر کا نشانہ بنے۔

سورۃ الرحمن

تخلیقی نعمتیں: سورۂ رحمٰن کو قرآن کی دلھن کہا گیا ہے۔ اس سورت میں کائنات کے ان حسین مظاہر کا ذکر ہے جو انسانی عقل کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ سورج اور چاند کا حساب، سمندروں کا ملاپ کے باوجود آپس میں نہ ملنا، سیپیوں سے موتیوں کا نکلناوغیرہ۔

انسان و جنات کو جھنجھوڑا گیا: اس ایک ہی سورت میں اللہ تعالیٰ نے ۳۱؍مرتبہ یہ سوال دوہرا کر انسان وجنات کو جھنجھوڑا ہے:﴿فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ؀﴾ اے انسانو اور جنات! اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

سورۃ الواقعہ

تین انسانی گروہ:یہ سورت قیامت کے منظر سے شروع ہوتی ہے؛ جب زمین لرز اٹھے گی اور پہاڑ دھول بن کر اڑنے لگیںگے، اس دن انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوںگے:(۱)﴿السَّابِقُونَ﴾: وہ لوگ جو نیکیوں میں سب سے آگے رہے، یہ اللہ کے مقرب بندے ہوںگے (۲)﴿أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴾: دائیں ہاتھ والے، جنھیں نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ملےگا، یہ بھی کامیاب ہوںگے (۳)﴿أَصْحَابُ الشِّمَالِ﴾: بائیں ہاتھ والے جو دنیا میں عیاشی اور کفر میں مگن رہے، ان کا ٹھکانہ کھولتا ہوا پانی اور جہنم کی آگ ہوگی۔آگے اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق، بیج کا اگنا، پانی کا بادلوں سے برسنا اور آگ کے جلنے کو اپنی قدرت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اور قرآن کی عظمت کی قسم کھائی ہے۔

سورۃ الحدید

مومن اور منافق:یہ اس پارے کی آخری سورت ہے، جو مدنی دور میں نازل ہوئی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن مومن مَردوں اور عورتوں کا نور ان کے آگے دوڑ رہا ہوگا، جب کہ منافقین اندھیرے میں بھٹک رہے ہوںگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دنیا کی زندگی محض کھیل تماشہ، زینت، فخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہے۔اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا کہ ہم نے رسولوں کو کتاب اور میزان کے ساتھ بھیجا تاکہ لوگ عدل پر قایم ہوں، اور لوہا بھی اتارا جس میں طاقت اور انسانوں کے لیے بہت سے فایدے ہیں۔

خلاصۂ کلام:یہ پارہ ہمیں چار بڑے سبق دیتا ہے: (۱) توحید: کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی گواہی دے رہا ہے (۲) آخرت: موت کے بعد ایک ابدی زندگی ہے جہاں ہر عمل کا حساب ہوگا (۳) تذکیر: تاریخِ انسانی کے عبرت ناک واقعات سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے (۴) عملی زندگی: ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال و جان کی قربانی اور انسانی حقوق (عدل) کی پاس داری کا نام ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here