Home Darul Ifta سکیورٹی ڈپازٹ ؍ ایڈوانس پر زکوٰۃ

سکیورٹی ڈپازٹ ؍ ایڈوانس پر زکوٰۃ

سکیورٹی ڈپازٹ ؍ ایڈوانس پر زکوٰۃ

سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب دامت برکاتہم! آج کل بڑے شہروں میں مکان اور دکان کثرت سے کرایے پر لیے دیے جاتے ہیں۔ اس میں جو سکیورٹی ڈپازٹ مالک کو دیا جاتا ہے، جو بعد میں پورا واپس بھی مل جاتا ہے، اس کی زکوٰۃ کس پر واجب ہوگی؟ جس نے مال دیا ہے یعنی کرایے دار پر؟ یا جس نے مال لیا ہے یعنی مالک پر؟ کرایے دار عموماً غریب ہوتا ہے، ان کے پاس ذاتی مکان یا دکان نہیں ہوتی اسی لیے کرایے پر لیتے ہیں۔ اگر اس ڈپازٹ پر انھیں زکوٰۃ دینی پڑے تو دھیرے دھیرے ان کی یہ رقم بھی ختم ہو جائےگی۔
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی صاحبؒسکیورٹی ڈپازٹ [Security Deposit]پر اپنی رائے دیتے ہوئے فرماتے ہیں:میری رائے میں مکان ، دکان اور کارخانے کی کرایے داری پر دیا ہوا (ایڈوانس ) ایسا مال ہے جو مالک کے قبضے و تصرف میں نہیں ہے، مالِ رہن کی طرح ہے، نیز ضروریات ووسائلِ رزق میں مشغول ہے، اس لیے ان پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ، جب وہ رقم واپس آجائےگی تو سال گزرنے پر زکوٰۃ دینی ہوگی۔ [فتاویٰ قاضی]
استاذی حضرت مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں:ڈپازٹ کی رقم بہ حکمِ رہن ہے اور رہن کی زکوٰۃ نہ راہن پر واجب ہے نہ مرتہن پر، وہ واپس کر دی جائےگی تب بھی رہن کی (گذشتہ ایام کی) زکوٰۃ مالک کے ذمّے واجب نہ ہوگی۔ [محمودالفتاویٰ مبوب]
حضرت مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی مدظلہ ڈپوزٹ کی مختلف حیثیتوں پر گفتگو کرنے کے بعد بہ طور خلاصہ لکھتے ہیں:ایڈوانس کی رقم پر بھی زکوٰۃ نہیں ہے نہ مالک پر؛ کیوں کہ مالک کے قبضے میں نہیں ہے اور نہ راہن پر؛ اس لیے کہ وہ اس کا مالک ہی نہیں ہے۔ لیکن اس مسئلے میں موجودہ دور کے فقہا کا اختلاف ہے، اکثر تو وہی کہتے ہیں جو میں نے ابھی عرض کیا ہے، لیکن بعض علما کی رائے یہ ہے کہ اس رقم کی زکوٰۃ کرایے دار پر آئے گی ، لہٰذا میں عرض کرتا ہوں کہ اگر کسی کو اللہ نے سہولت دی ہے تو وہ ایڈوانس کی رقم کی زکوٰۃ بھی دے دے تو اچھا ہے اور اگر کسی کو سہولت نہیں ہے تو وہ جمہور کے قول پر عمل کرے اور زکوٰۃ نہ دے تو گنجائش ہے۔[زکوٰۃ کے اہم اور جدید مسائل]
کتاب الفتاویٰ ،جلد آٹھ اور فقہ اکیڈمی، انڈیا کے پانچویں سمینار کی تجاویز بھی دیکھ لیں۔فقط[ماخوذ ا ز فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here