تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا فتویٰ
سوال:یہ آج کل نئے نئے مفتی کیا بیان کر رہے ہیں کہ تراویح پر حافظ صاحب کو کچھ لینا دینا جائز نہیں؟ کوئی پہلے سے طے تھوڑا ہی کرتا ہے کہ میں اتنا لوںگا! اور جب مقرر کو تقریر پر، مدرس کو درس پر اور امام کو امامت پر اجرت دینا جائز ہے تو تراویح پر ناجائز کیوں؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:ابوحنیفۂ عصر،فقیہ النفس، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ تحریر فرماتے ہیں: قرآن سنانے کی اجرت تراویح میں لینا درست نہیں کہ قرآن شریف پڑھنا عبادت ہے اور عبادت پر اجرت لینا حرام ہے۔ [فتاویٰ رشیدیہ] تراویح میں جو کلام اللہ پڑھنے یا سننے کی اجرت دینا حرام ہے، جب اجرت کا دینا حرام ہوا تو ﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ﴾ سے ہی پڑھنا چاہیے۔ [ایضاً] حافظوں کو اجرت پر قرآن سنانا حرام ہے، اور اجرت بھی ناجائز ہے۔ اذان و امامت اور تعلیم و وعظ؛ اس کو متاخرین نے بہ وجہِ ضرورت استثنا کیا ہے، قرآن سنانے میں کوئی ضرورت نہیں، جس نے قرآن سنانے کو اذان (و امامت) پر قیاس کیا ہے، وہ غلط ہے۔ [ایضاً] اگر حافظ کے دل میں لینے کا خیال نہ تھا اور پھر کسی نے دیا تو درست ہے، اور جو حسبِ رواج و عرف دیتے ہیں، حافظ بھی لینے کے خیال سے پڑھتا ہے، اگرچہ زبان سے کچھ نہیں کہتا، تو درست نہیں۔[ایضاً]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






