گذشتہ سال زکوٰۃ ادا کی ہوئی رقم پر اس سال بھی زکوٰۃ دینی ہوگی؟
سوال: مفتی ندیم احمد صاحب! السلام وعلیکم
میں صاحبِ نصاب سرکاری ملازم ہوں۔ ماہانہ تنخواہ سے خرچ کے بعد بچی ہوئی رقم بینک میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ گذشتہ برسوں سے یہ رقم جمع ہو رہی ہے ،ہر سال اس میں نئی رقم کا اضافہ ہو رہا ہے،کیا گذشتہ سال زکوٰۃ ادا کی ہوئی رقم پر بھی زکوٰۃ دینی ہوگی یا صرف سال کی جمع رقم پر زکوٰۃ دینی ہوگی؟رہنمائی فرمائیں۔
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:جی ہاں! صورتِ مسؤلہ میں گذشتہ سال زکوٰۃ ادا کی ہوئی رقم پر اس سال بھی زکوٰۃ دینی ہوگی۔ سال پورا ہونے پر جس قدر مال موجود ہو اس وقت اس کی جتنی قیمت ہو، اس کے حساب سے زکوٰۃ ادا کریں۔[فتاویٰ محمودیہ]
حضرت عبداللہ بن معاویہ غاضریؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں جو شخص ان کو کرے گا وہ ایمان کا مزا پائےگا: (۱)صرف اللہ کی عبادت کرے (۲) لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کرے (۳)ہر سال اپنے مال کی زکوٰۃ خوشی خوشی ادا کرے، الحدیث۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيِّ مِنْ غَاضِرَةِ قَيْسٍ قَالَ، قَالَ النَّبِيُّ ﷺ ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ عَبَدَ اللَّهَ وَحْدَهُ، وَأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَعْطَی زَکَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ رَافِدَةً عَلَيْهِ کُلَّ عَامٍ وَلَا يُعْطِي الْهَرِمَةَ وَلَا الدَّرِنَةَ وَلَا الْمَرِيضَةَ وَلَا الشَّرَطَ اللَّئِيمَةَ، وَلَکِنْ مِنْ وَسَطِ أَمْوَالِکُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَسْأَلْکُمْ خَيْرَهُ وَلَمْ يَأْمُرْکُمْ بِشَرِّهِا.[ابوداود]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






