پگڑی کی رقم پر زکوٰۃ کون ادا کرےگا؟
سوال: حضرت مفتی ندیم صاحب! یہ جو پگڑی سسٹم ہوتا ہے، اس میں کرایےدار جو رقم پگڑی کے طور پر مالک کو ادا کرتا ہے، اس کی زکوٰۃ کون ادا کرےگا؟رہنمائی فرمائیں۔
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:پگڑی کی رقم کی حیثیت موجودہ دور کے اہلِ علم کے نقطۂ نظر کے مطابق حقِ قبضہ کے معاوضے کی ہے یعنی جب مالک مکان پگڑی لے کر کسی کو مکان کرایے پر دیتا ہے تو وہ حقِ ملکیت اپنا باقی رکھتا ہے اور حقِ قبضہ کرایے دار سے فروخت کر دیتا ہے؛ لہٰذا پگڑی مکان دار کی ہوگی ، رقم پر کرایے دار کا کوئی حق باقی نہیں رہتا، اس لیے اس کی زکوٰۃ کرایے دار پر واجب نہیں ہوگی بلکہ مالک مکان جس تاریخ کو زکوٰۃ کا حساب کیا کرتا ہے اس تاریخ کو پگڑی کی رقم میں سے جتنی رقم باقی رہ جائے اس پر دوسری رقموں کے بہ شمول زکوٰۃ واجب ہوگی۔ [دیکھیے کتاب الفتاویٰ]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






